اردو زبان و ادب اور تدریس و تحقیق کا مثالی مرکز استنبول یونیورسٹی ترکی

اردو زبان و ادب اور تدریس و تحقیق کا مثالی مرکز استنبول یونیورسٹی ترکی

  

ڈاکٹر خلیل طوقار کی سربراہی میں ادبی و ثقافتی سرگرمیاں جاری ہیں 

ترکی میں سب سے پہلے اُردو کی تدریس کا آغاز انقرہ یونیورسٹی سے 1958ء میں ہوا۔ جہاں ڈاکٹر شوکت بولو نے پہلے ترک استاد کے طر پر فرائض سرانجام دیے۔ترکی اور پاکستان میں بہت پہلے سے محبت اور دوستی کا تعلق ہے۔کئی اتار چڑھاؤ آئے مگر دونوں طرف سے اس محبت میں کبھی کمی نہیں آئی۔ ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقارکے بقول:”ترکی اور پاکستان ایک تہذیبی اور ثقافتی رشتے میں اس طرح منسلک ہیں کہ ان کے تعلقات کو بجا طور پر مثالی کہا جاتا ہے۔دونوں ملکوں کے عوام کی دھڑکنیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ مگر ہم زبانی میں مغائرت کی وجہ سے ایک دوسرے کے حالات سے انھیں وہ آگاہی نہیں جو ہونی چاہئے۔

 ڈاکٹر خلیل طوق أر،ڈاکٹر جلال سوئیدان، ڈاکٹر خاقان قیوم جُو، ڈاکٹر سلمیٰ بینلی، ڈاکٹر نورئیے بلک، ڈاکٹر گلیسرین ہالی جی، ڈاکٹر شوکت بولو،ایرکن ترکمان،درمش بلغورچند ایسے نام ہیں کہ جو ترکی میں اُردو زبان وادب اور تدریس وتحقیق میں مصروف ہیں۔

ترکی میں اس وقت تین یونیورسٹیوں میں اُردو کے شعبے قائم ہیں۔انقرہ یونیورسٹی، سلجوق یونیورسٹی قوینہ، استنبول یونیورسٹی۔ ان تینوں یونیورسٹیوں میں اردو کے حوالے سے تعلیم وتدریس اور تحقیق کا سلسلہ جاری ہے۔استنبول یونیورسٹی میں 1985ء میں اردو کا شعبہ اور چیئر قائم ہوئی۔جس پر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار کا تقرر ہوا۔ڈاکٹر ذوالفقار حسین ذوالفقار نے جہان اردو زبان وادب کے لیے اور بہت سے کام کیے وہاں خلیل طوق أر جیسے اسکالر کو تدریس اُردو کے لیے تیار کرنا بھی اُن کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس کے ثمرات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔

خلیل طوقار (Hlil Toker) جو کہ آج کل استنبول یونیورسٹی ترکی میں صدر شعبہ ہیں 3،اپریل 1987ء کوباکر کوئے(Bakir koy)استنبول میں پیدا ہوئے۔ڈاکٹر خلیل طوق أر نے 1989ء میں استنبول یونیورسٹی سے بی اے کیا۔انھوں نے 1992ء میں استنبول یونیورسٹی سے فارسی میں ایم اے کیا۔ ایم اے میں انھوں نے مرزا غالب۔فن اور شخصیت کے حوالے سے کام کیا۔1995ء میں انھوں نے استنبول یونیورسٹی ہی سے ”برصغیر میں فارسی اور اردو شاعری اور بہادر شاہ ظفر کے دور کے شعراء“کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

1990ء سے 1999ء تک وہ اسسٹنٹ کے طور پراستنبول یونیورسٹی کے شعبہ فارسی سے منسلک رہے۔1999ء سے 2001ء تک بطور اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردواستنبول یونیورسٹی میں کام کرتے رہے اور2001ء سے نومبر 2008ء تک ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر کام کیا۔نومبر 2008ء میں وہ پروفیسر ہوگئے اور نومبر 2009ء سے سینئر پروفیسر کے طور پر شعبہ اردو استنبول یونیورسٹی سے منسلک ہیں، شعبہ اُردو کے صدر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

اردو کے حوالے سے مختلف ممالک میں متعدد کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کرکے اپنے تحقیقی مقالات پیش کرچکے ہیں۔ انھیں مختلف اعزازات مل چکے ہیں جن میں علامہ اقبال ایوارڈ، یورپین اردو رائٹرز سوسائٹی۔برطانیہ 2000ء،قاضی شفیع محمد فخر اردو ایوارڈ، اردو مرکز انٹرنیشنل لاس اینجلس 2009ء کشمیر سیمپوزیم میں شمولیت کی شیلڈ۔حکومت پاکستان کی جانب سے 2017ء میں ”ستارہئ امتیاز“ سے نوازا گیا۔ 

ڈاکٹرخلیل طوق أر ترکی سے سہ ماہی اردو رسالہ ”ارتباط“ بھی نکالتے ہیں۔ 53 سے زیادہ کتابیں تحریر کر چکے ہیں،اردو، ترکی اور انگریزی میں اب تک سو سے زیادہ مقالات لکھ چکے ہیں۔اردو زبان وادب کے سلسلے میں کئی ملکوں کا دورہ کرچکے ہیں۔

ڈاکٹر خلیل طوق أر ترکی میں اردو زبان وادب کے حوالے سے ایک ایسا اثاثہ ہیں کہ جن کی موجودگی ترکی میں اُردو زبان کی وسعت اور فروغ کا باعث ہے۔ انھیں اُردو زبان سے محبت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان، پاکستانیوں اور پاکستانی تہذیب وثقافت سے بھی محبت کرتے ہیں۔ نہ صرف ترکی اور پاکستان بلکہ وہ دنیا میں ہر فورم پر جہاں بھی انھیں موقع ملے اُردو سے محبت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ان کے ہم عصر ادیبوں اور صاحبانِ علم ودانش نے خوبصورت الفاظ میں انھیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

بقول ڈاکٹر یوسف خشک چیرمین اکادمی ادبیات:ڈاکٹر خلیل طوقار نے ترکی میں جس طرح اردو زبان وادب کی تعلیم وتدریس اور تحقیق وتنقید کی شمع روشن کی ہوئی ہے وہ قابلِ تحسین ہے اور اس کی روشنی نہ صرف موجودہ دور میں اردو زبان وادب کا دامن وسیع کر رہی ہے بلکہ آنے والے ادوار تک اس کی چمک محسوس کی جاتی رہے گی۔ 

رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی سے ہندی کے استاد اخلاق حیدر آبادی کے بقول:ڈاکٹر خلیل طوقار اردو ادب اور زبان کے حوالے سے موجودہ دور میں عالمی منظر نامے میں اپنی حیثیت اور اہمیت منوا چکے ہیں۔ ترکی میں وہ جس طرح اردو زبان وادب کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔

بقول ڈاکٹر ریاض ہمدانی:ڈاکٹر خلیل طوقار نے اردو زبان وادب کے ذریعے پاک ترک ثقافت کو باہم مربوط رکھنے میں خاص کردار ادا کیا۔ دو ممالک کی تاریخی وثقافتی اقدار کو بیک وقت دونوں اطراف پہنچانا انہی کا خاصا ہے۔مسلم عظمت رفتہ کو حقیقت کی کی نظر سے دیکھنے والے خلیل طوقار پاکستانیوں، کشمیریوں اور علامہ اقبال سے یکساں محبت کرتے ہیں۔

کراچی سے ڈاکٹر جاوید منظر کے بقول: ”ڈاکٹر خلیل طوقار اردو زبان وادب کے باوقار اور قابل فخر اہل قلم میں شامل ہیں۔ہمیں ان کی اردو زبان وادب سے قربت پر ناز ہے۔“

الحمد یونیورسٹی اسلام آباد سے ڈاکٹر شیر علی کے بقول:”ڈاکٹر خلیل طوقار مشرقی ادبیات اور اسلامی تہذیب وثقافت کی ایک ایسی متحرک اور نابغہ روزگار شخصیت ہیں جنھوں نے ایک طرف ترکی میں حقیقی معنوں میں اردو زبان وادب کی آبیاری کی تو دوسری طرف پاکستان اور ترکی کے باہمی روابط وتعلقات کو نیا تناظر عطا کیا۔“

اورنگ آباد سے جناب ڈاکٹر سلیم محی الدین کے بقول:خلیل طوق آر نام ہے خلوص کا، دوستوں، یاروں کے تئیں، زبان وادب کے تئیں، اپنے پیشے اور فرائض کے تئیں۔ شاعری میں طرفدار غالب، فکر اقبال سے عشق، نقد ونظر کی شفافیت اور صحافت وادارت کا ارتباط۔یہی ہے خلیل طوق آر کی کل کائنات۔“

لاہور سے معروف دانش ور ادیب نعیم بیگ کے بقول:ڈاکٹر خلیل طوقار اردو ادب کی ان چنیدہ شخصیات میں سے ایک ہیں جو ترکی میں بسنے کے باوجود اردو ادب اور اس کی لسانی جدلیات ومعنوی حسیات کی پرکھ میں اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔ان کے تئیں اردو ایک ایسی زبان ہے جس کی زمین بے حد زرخیز ہے اور وہ اپنی قومی، علمی، سائنسی، ثقافتی اور سماجی فکریات میں تاریخی کردار ادا کرسکتی ہے جو قومی سطح پر ناممکن کو ممکن بناسکتی ہے۔“

جناب ڈاکٹر مقبول گیلانی کے بقول: ”ڈاکٹر خلیل طوقار یوں تو ترکی میں رہتے ہیں مگر ان کا دل پاکستان میں دھڑکتا ہے۔وہ اردو زبان وادب کے سچے خادم ہیں انھوں نے اردو زبان وادب کی تروین اور ترقی کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں ان کی پاکستان ا ور کشمیر یوں سے محبت بھی بے مثال ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -