"معاشرہ، عورت اور طلاق"

"معاشرہ، عورت اور طلاق"

  

آپ سوچ رہے ہونگے کہ اتنے سخت موضوع پر کیوں لکھا؟؟ تو بتاتی چلوں کہیں ایک پوسٹ پڑھی تھی اس نے لکھنے پر مجبور کیا۔لکھنے والا ما شاء اللہ قاری تھا۔ بہت زبردست پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ عورت کے صبر پر، اسکے حوصلے پر، اسکی ہمت پر خوب لکھا لیکن اس پوسٹ نے کچھ سوالات چھوڑے جن کا جواب ضروری تھا مگر وہ دے نہیں سکے۔

طلاق وہ واحد عمل ہے جسے 99فیصدمرد خود دیتے ہیں، حالات واقعات چاہے جو بھی ہوں لیکن الزام 100فیصدعورت پر ہوتا ہے، اسکی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب نہیں تھا انکے پاس۔ وہ کہتے ہیں کہ عورت کو ہر صورت گھر بسانا چاہیئے، بہت زبردست بات کی لیکن جن عورتوں کو مرد دوسری شادی کے چکر میں، نشے میں اور شک کی بناء پر طلاق دیتے ہیں وہ گھر کیسے بسائیں؟ اس پر خاموش تھے وہ۔

وہ کہتے ہیں کہ چاہے مرد مارپیٹ بھی کرلے یا گالی دے لے تو بھی عورت کو صبر کرنا چاہیئے۔ گھر خراب نہیں کرنا چاہیئے لیکن جن کو مار پیٹ کر کے طلاق دے دی جاتی ہے اس پر بھی کچھ نہیں کہتے۔ پھر وہ لکھتے ہیں کہ اگر ساس برا بھلا کہتی ہے یا نند تو یہ سوچ کر خاموش ہو جانا چاہیئے کہ ماں اور بہن بھی تو لڑ پڑتی ہیں یا غصہ کر جاتی ہیں، اس پر بھی صبر کیا جاتا ہے تو اس پر بھی کر لیں۔۔۔ یہ بات کافی حد تک ٹھیک ہے لیکن جو نند یا ساس طلاق دلوا دیتی ہیں اس پر قاری صاحب کی خاموشی معنی خیز ہے۔

کہتے ہیں پرانے زمانے میں خواتین نے کمال برداشت سے گھر بسائے، بہت زبردست بات کی لیکن میں خود کئی خواتین کو جانتی ہوں جن کو شوہر طلاق دیتے ہیں اوروہ گھر سے نہیں جاتیں کہ لوگ مذاق بنائیں گے، کیا یہ مذہب کا مذاق نہیں ہے؟کیا اسکو واقعی گھر بسانا کہتے ہیں؟  پھر انہوں نے یہ بھی لکھا کہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے گھر تباہ ہوئے ہیں ،کافی حد تک درست ہے لیکن انہیں میڈیاز نے حقوق بھی تو بتائے ہیں، اب یہ تو اپنی مرضی کہ اس میں سے کیا چننا ہے؟طلاق واحد حلال کام ہے جو اللہ کو  ناپسندیدہ عمل ہے مگر اس نے حلال تو رکھا، کوئی وجہ تو ہوگی؟  پورے آرٹیکل میں انہوں نے کہیں بھی مرد کو نہیں کہا کہ عورت تمہاری عزت ہے، اسکی عزت تمہاری عزت ہے، اسکا سکون تمہارا سکون ہے، بہت سارے مردوں نے اس آرٹیکل کو تنقید کا نشانہ بنایا جو بیٹیوں والے تھے یا جن کو بیٹیاں عزیز تھیں لیکن بہت سارے لوگوں نے پھر گالی دی ،بڑی حیرت ہوئی کہ جو ہر عورت کے میسنجر یا ڈی ایم میں گھس گھس کے پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ آپ واقعی لڑکی ہیں، وہ بھی کہہ رہے تھے آج کی عورت خراب ہو گئی ہے۔ جو ہر عورت پر لائن مارنا فرض سمجھتے ہیں وہ ہاتھ عورت ہاتھ نا آئے تو فیک ہے کہہ کر پروپیگنڈہ کرنا کہ عورت فتنہ ہے۔

طلاق ایک ناپسندیدہ فعل ہے جو معاشرے میں خرابی کی جڑ ہے، کیوں مکمل اسلامی تعلیمات عام عوام تک نہیں پہنچی؟  کیوں نہیں بتایا گیا کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کا لباس ہیں؟  کیوں عورت کو بحیثیت بیوی ’جوتی‘ سے تشبیہ دی گئی؟  کیوں طلاق کے نام پر بلیک میل کر کے اسکی عزت نفس مجروح کی گئی؟  میں نے ایک دفعہ اپنے ٹیچر سے کہا تھا کہ آپ لوگوں کی وجہ سے گھر ٹوٹ رہے ہیں ،آپ لوگوں نے عورت کو اسکے حقوق رٹوا کر اچھا نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کیسے؟  میں نے کہا اب عورت جانتی ہے کہ میرا مذہب مجھے کیا حق دیتا ہے اور میرا کیا فرض ہےلیکن کیا جب عورت کو حقوق رٹوائے جارہے تھے اس وقت مرد کو بحثیت شوہر بتایا گیا کہ صرف کمانا تمہارا فرض نہیں، بیوی کی عزت اور مان بھی تمہارا فرض ہے؟؟؟۔

اب مسلہ یہ ہے کہ عورت حق چھوڑنے کو تیار نہیں اور مرد حق دینے کو تیار نہیں، نتیجہ طلاق ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ہر انقلاب میں ایک یا دو نسلوں کی قربانی لازمی ہوتی ہے۔ میں کہتی ہوں کہ شادی سے پہلے سورہ نساء ترجمہ تفسیر سے دونوں کو پڑھا اور سمجھا دی جائے تو کسی بھی نسل کی قربانی نہیں ہوگی اور حقوق بھی پورے ہوں گے۔ آج اگر کوئی مرد غصہ میں نشے میں عورت کو طلاق دیتا ہے تو وہ معاشرے کے ڈر سے کبھی اس گھر میں نہیں بیٹھے گی۔ہم لوک مزاقا کہتے ہیں کہ مولویوں کی طلاق نہیں ہوتی جانتے ہیں اسکی وجہ؟  کیونکہ وہ جہاں بہت سارے معاملات میں تلخ ہوتے ہیں،وہیں وہ گھر کی خواتین کے لیے بہت زبردست ہوتے ہیں۔ وہ بیوی کو غلام نہیں سمجھتے، مارپیٹ نہیں کرتے، گالیاں نہیں دیتے، لڑکی کے والدین آجائیں تو اتنی ہی عزت کرتے ہیں جتنی اپنے والدین کی۔ پھر کیوں ٹوٹےگا وہ گھر؟  ہمارا معاشرہ مزید کسی تباہی کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ اپنے معاشرے کو خود بچائیں جیو اور جینے دو کی پالیسی اپنائیں۔ کہیں بات مان لیں تو کہیں منوا لیں۔ زندگی مذاق نہیں ہے۔ ایک بار ملتی ہے۔ اسکو نفرت اور تحقیر کی نظر نا کریں۔ ہمارا تو مذہب ہی اتنا خوبصورت ہے جو ہر انسان کے حقوق اور فرائض کا تعین اس خوبصورت انداز میں کرتا ہے کہ زیادتی کسی بھی فریق کے ساتھ نہیں ہوتی ہے۔ ہم اگر سب مل کر اسلامی تعلیمات عام کریں، اپنا اپنا محاسبہ کریں ، ایک دوسرے کے حقوق غصب کرنے کے بجائے انکی حفاظت کریں تو نا ہمیں مغرب سے شکوہ رہےگا اور نا ہی میڈیا کی بڑھتی ہوئی بے حیائی سے۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -