صفر المظفر کا مہینہ ، بد شگونیاں اور شریعت مطہرہ 

صفر المظفر کا مہینہ ، بد شگونیاں اور شریعت مطہرہ 
صفر المظفر کا مہینہ ، بد شگونیاں اور شریعت مطہرہ 

  

اسلامی سال کا دوسرا مہینہ صفر المظفر ہے جس کے متعلق لوگوں میں بہت ساری غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ماہ صفر کے متعلق ایک طرف تو بہت سی توہمات اور بدشگونیاں اور دوسری طرف اس کے بارے میں خود ساختہ حل بھی تلاش کر لئے گئے ہیں،مثلاً اس ماہ میں شادی نہ کرنا،سفر نہ کرنا،کاروبار کا آغاز نہ کرنا۔اس ماہ کو مردوں پر بھاری سمجھنا اس کی تیرہ تاریخ کو منحوس سمجھنا وغیرہ وغیرہ ، اس مہینے میں مختلف چیزیں پکا کر محلے میں بانٹنا کہ ہماری بلائیں ٹل جائیں یا دوسروں کی طرف چلی جائیںلیکن دینِ اسلام میں ان تمام باتوں کی کوئی حیثیت نہیں۔

آفتاب کا طلوع و غروب ہونا ، چاند ستاروں کا نکلنا اور چھپ جانا، دن کا نکلنا رات کا چھا جانا سب اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے کیونکہ ساعتوں سے گھنٹے گھنٹوں سے دن دن سے ہفتے ہفتوں سے مہینے اور مہینوں سے سال بنتے ہیں یہی ماہ و سال زمانہ ہیں جس کو بُرا کہنے سے حدیثِ قدسی میں روکا گیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ  فرماتےہیں کہ اللہ جل شانہ ارشاد فرماتےہیں کہ ابنِ آدم(علیہ السلام) زمانے کو گالی دیکر مجھے اذیت دیتا ہےحالانکہ زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں ہر کام ہے میں دن اور رات کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔(بخاری شریف)

سورۃ بقرہ میں ارشادِ ربانی ہوتا ہے کہ ترجمہ! لوگ آپﷺ سے چاند کے(گھٹنے اور بڑھنے) متعلق سوال کرتے ہیں، آپﷺ! کہہ دیجیئے کہ یہ لوگوں اور حج کیلئے اوقات بنانے کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالی نے انسان کیلئے یہ اہتمام فرمایا ہے کہ وہ آسانی سے تاریخوں کا تعین کر سکے۔ چاند اللہ تعالی کے مقررکردہ ضابطہ کا پابند ہے، اس لئے اس کے گھٹنے بڑھنے سے نہ تو کسی کی قسمت پر اثر پڑتا ہے اور نہ ہی کسی خاص مہینے کا چاند نظر آنے سے کسی نحوست کی ابتدا ہوتی ہے اور نہ کسی خوش قسمتی کا آغاز ہوتا ہے۔

انسان کی خوش قسمتی اور بد قسمتی کا انحصار سورج چاند اور ستاروں کی گردش پر نہیں بلکہ انسان کے اپنے اعمال پر ہے۔اسی طرح مہینوں کی تعداد بھی اللہ تعالی کی مقرر کردہ ہے چنانچہ اللہ تعالی نے سورۃ توبہ میں ارشاد فرمایا !بے شک مہینوں کی تعداد اللہ تعالی کے نزدیک اللہ تعالی کی کتاب میں بارہ مہینے ہے جب سے اُس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔

ماہِ صفر وہ مہینہ ہے جسمیں آپﷺ نے معمول کی عبادت کے علاوہ نہ کوئی خاص عبادت کی اور نہ ہمیں اس کا حکم دیا اور نہ ہی کسی خاص بلا سے بچنے کیلئے خبردار کیا۔ توہمات اور شگون(بدفالی) جو اس مہینے سے منسوب کیے جاتے ہیں اُن کی کوئی حقیقت نہیں۔زمانۂ جہالت میں عربوں کے ہاں اس ماہ سے متعلق جو غلط تصورات پائے جاتے تھے ،اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اہل عرب حرمت کی وجہ سے چار مہینے جن میں رجب،ذوالقعدہ ذوالحجہ اور محرم شامل ہیں ان میں جنگ وجدل سے باز رہتے اور انتظار کرتے کہ یہ پابندیاں ختم ہوں اور وہ نکلیں اور لوٹ مار کریں،لہذا ماہِ صفر شروع ہوتے ہی وہ لوٹ مار،راہزنی اور جنگ و جدل کے ارادے سے وہ گھروں سے نکلتے تو اُن کے گھر خالی رہ جاتے، یوں عرب میں یہ محاورہ صفر المکان (گھر کا خالی ہونا) معروف ہو گیا صَفر اور صِفر کے معنی ہیں خالی ہونا جیسے صفر کا ہندسہ عربی میں کہتے ہیں (بیت صفر من المتاع) گھر سامان سے خالی ہو گیا (لسان العرب) 

مشہور محدث اور تاریخ دان علامہ سخاویؒ نے اپنی کتاب ’المشھور فی اسماء الایام والشھور‘ میں ماہ صفر کی یہی وجہِ تسمیہ لکھی ہے۔عربوں نے جب یہ دیکھا کہ اس مہینے میں لوگ قتل ہوتے ہیں اور گھر برباد و خالی ہو جاتے ہیں تو انہوں نے اس سے یہ شگون لیا کہ یہ ماہ صفر کا مہینہ ہمارے لئے منحوس ہے اور گھروں کی بربادی اور ویرانی کی اصل وجہ پر غور وفکر نہ کیا، نہ ہی اپنے عمل کی خرابی کا احساس کیا،نہ لڑائی جھگڑے اور جنگ و جدال سے خود کو باز رکھا بلکہ اس مہینے کو ہی منحوس ٹھہرا دیاجبکہ نحوست کے متعلق قرآن کریم میں اللہ جل شانہُ ارشاد فرماتے ہیں کہ ترجمہ! اور ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے گلے میں لٹکا رکھا ہے اور قیامت کے روز ہم ایک کتاب اس کیلئے نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا (اس سے کہا جائیگا) پڑھ اپنا نامۂ اعمال آج اپنا حساب لگانے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔(سورۃ بنی اسرائیل) یہ آیتِ مبارکہ  اس بات کی وضاحت فرماتی ہے کہ انسان کی نحوست کا تعلق اسکے اپنے اعمال سے ہے جبکہ وہ عموماً سمجھتا ہے کہ نحوست کہیں دوسرے کی طرف سے آئی ہے چنانچہ وہ کبھی انسان کو، کبھی جانور کو،کبھی کسی عدد کو اور کبھی کسی مہینے کو منحوس قرار دینے لگتا ہے۔

بعض لوگ اس ماہِ صفر میں شادی بیاہ یا کوئی خوشی کا کام نہیں کرتے حالانکہ اس ماہِ صفر المظفر سن 7 ہجری میں حضور نبی کریمﷺ نے اُمّ المؤمنین حضرت سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالی عنھا سے شادی فرمائی تھی ۔

قارئین کرام سوچئے! اگر ماہِ صفر میں شادی کرنا منحوس ہوتا تو حضور نبی کریم ﷺ کیوں شادی فرماتے؟؟ بلکہ ماہِ صفر ہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی نے مسلمانوں پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھولے اور حضور نبی کریم ﷺ  اور آپ کے پیارے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کو فتحِ خیبر سے نوازا۔۔(البدایہ و النہایہ )

عربی میں نحوست کیلئے لفظ طیرہ استعمال ہوتا ہے جو طیر سے نکلا ہے جس کے معنی پرندے کے ہیں۔اہلِ عرب چونکہ پرندے کے اڑانے سے فال لیتے تھے اسی لئے طائر بدفالی کیلئے استعمال ہونا لگا یعنی بدشگون لینا۔دینِ اسلام میں کوئی دن،مہینہ، جگہ یا انسان منحوس نہیں بلکہ دراصل وہ انسان کا اپنا طرزِ عمل،رویہ،اخلاق اور طریقہ ہوتا ہے جو اس کیلئے مختلف آزمائشوں کا سبب بن جاتا ہے۔چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے کہ ترجمہ!کوئی بھلائی جو تمہیں پہنچے تو وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور کوئی بُرائی جو تمہیں پہنچے تو وہ تمہارے نفس  کی طرف سے ہے۔(سورۃ  النسآء)

ایسا شخص جو بدشگون(بدفالی) لیتا رہا اس کے بارے میں حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جو کسی چیز سے بدفالی پکڑ کر اپنے مقصد سے لوٹ آیا اُس نے شرک کیا۔(صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عرض کیا) یا رسول اللہﷺ! اسکا کفارہ کیا ہو گا،ارشاد فرمایا!وہ کہے اے اللہ!تیری دی ہوئی بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں اور تیری فال کے سوا کوئی فال نہیں اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔(مسند احمد )

وساوس اور توہمات سے شیطان انسان کو شرک میں مبتلا کر کے اس کے اعمال ضائع کرواتا ہے،یہ توہمات و بدشگونیاں انسان کو اندر سے کمزور کر دیتی ہیں اس کے برعکس اللہ تعالی کی ذات پر پختہ ایمان و توکل انسان کو جرات،بہادری اور اعتماد دیتا ہے،اُسے جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے۔ چنانچہ ان توہمات اور بدشگونیوں سے دل کو پاک وصاف رکھتے ہوئے اللہ تعالی پر توکل کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھنا چاہیئے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا بدشگونی شرک ہے،بدشگونی شرک ہے،بدشگونی شرک ہے تین بار ارشاد فرمایا اور ہم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر (اُسے وہم ہو جاتا ہے) لیکن اللہ تعالی پر توکل کی وجہ سے اُسے دور کر دیتا ہے،(سنن ابی داؤد)

حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مرض کا لگ جانا،نحوست اور اُلّو اور صفر کچھ نہیں اور جذامی سے اس طرح بچو جس طرح شیر سے بچتے ہو۔(بخاری شریف ) اور سنن ابی داؤد میں حضرت سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا! کوئی بیماری متعدی نہیں،نہ اُلّو کا نکلنا کچھ ہے،نہ کسی ستارے کی کوئی تاثیر ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے۔ معلوم ہوا کہ حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالی کے اُذن کے بغیر کوئی چیز نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتی،نہ ہی کوئی جراثیم نہ ہی کوئی وباء۔ یعنی پہلے مریض کو بیماری جہاں سے آئی ہے،یعنی اللہ کے اُذن سے،باقی لوگوں کو بھی وہی سے آئے گی۔ البتہ انسان احتیاط کا دامن نہ چھوڑے کیونکہ تدبیر اختیار کرنے کا حکم بھی اللہ تعالی نے ہی دیا ہے۔ اسباب کو اختیار کرنے ہوئے توکل و بھروسہ صرف اللہ تعالی پر ہی ہو۔اسی طرح ستاروں میں اثرات سمجھنا یا ان کو منحوس سمجھنا اسی طرح تاریخوں کو منحوس سمجھنا،زائچے نکلوانا یہ سب چیزیں وہمی خیالی اور باطل ہے انکا حقائق سے کچھ تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔

البتہ اچھی چیزوں کو اپنے لئے خوش بختی کی علامت سمجھنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں اور نہ بدفالی کوئی چیز ہے اور نیک فال یعنی اچھا کلمہ مجھے پسند ہے۔(بخاری شریف ) مثلاً حضور نبی کریمﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر اہل مکہ کے نمائندے سہل بن عمرو کے آنے پر فرمایا تھا اب تمہارا معاملہ سہل (آسان) ہو گیا۔(بخاری) مسلمان کا عقیدہ مضبوط اور ذہن واضح ہونا چاہیئے کہ خوشی اور غم،نفع و نقصان سب اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے،کوئی سکھ اور دکھ،کوئی راحت و تکلیف اس وقت تک نہیں آ سکتی جب تک اللہ تعالی نہ چاہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں ترجمہ! کہہ دیجیئے! کہ ہمیں ہرگز کوئی بھلائی یا بُرائی نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ تعالی نے ہمارے لئے لکھ دی،وہی ہمارا مولٰی ہے اور ایمان والوں کو اللہ تعالی پر توکل کرنا چاہیئے۔(سورت توبہ) اور حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا جو مصیبت تم کو پہنچی وہ تم سے ٹل نہیں سکتی تھی اور جو ٹل گئی وہ تم پر آ ہی نہیں سکتی تھی۔

یہی سوچ انسان کو ہر حال میں مطمئن رکھتی ہے کہ جو ہوا اللہ تعالی کے اذن سے ہوا،اس میں ضرور کوئی اللہ تعالی کی حکمت پوشیدہ ہے۔اس طرح عقیدۂ توحید مزید پختہ ہوتا ہے اور انسان جان لیتا ہے کہ اصل پناہ دینے والی ذات صرف اور صرف اللہ تعالی کی ہے۔اور اس طرح وہ شرک جیسے کبیرہ گناہ سے بچا رہتا ہے۔اسی پر کاربند رہنے کیلئے ہمیں یہ دعا سکھلائی گئی ہے جو فرض نماز کے بعد پڑھنا مسنون ہے۔

اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذالجد منک الجد  (مسلم شریف)

اے اللہ! کوئی روک نہیں سکتا جو آپ عطا کریں اور کوئی دے نہیں سکتا جس کو آپ روکنا چاہیں  اور آپ کے عذاب کے مقابلے میں کسی دولت مند کو اسکی دولت فائدہ نہیں دے سکتی۔

خدارا! توہمات،بدفالی اور بدعات سے بچیئے کیونکہ یہ تمام چیزیں انسان کو گمراہی کے راستے پر گامزن کرتی ہیں اور گمراہی کا انجان جھنم ہے چنانچہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا،ترجمہ! حمد وثنا کے بعد(لوگو یاد رکھو!)بہترین کتاب تمہارے لئے اللہ تعالی کی کتاب (قرآن مجید)ہے اور سب سے بہترین طریقہ تمہارے لئے وہ ہے جو سیدنا محمد رسول اللہﷺ کا طریقہ ہے اور بدترین کام وہ ہیں جو دین میں نئے نکالے جائیں گے، ایسے سب نئے کام بدعت ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر ایک گمراہی دوزخ میں لے جانے والی ہے ۔(مسلم و نسائی)اور اسی طرح حضور نبی کریمﷺ نے رحلتِ طیبہ سے پہلے اپنی امت کو وصیت فرمائی۔ ترجمہ !میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک اُن پر عمل درآمد کرو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے ، ایک اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے اور دوسری چیز میری سنت ہے۔(مؤطا امام مالک )

پس کتاب و سنت کو ہر وقت سامنے رکھ کی زندگی گزارنی چاہیئے،کیونکہ یہی رضائے حق تعالی شانہ ہے اور صراط مستقیم یعنی طریق جنت ہے،اسی پر کاربند رہنا چاہیئے،اللہ تعالی ہمیں مسنونہ زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -