عقیدہ ختم نبوت،مسلمانوں کے ایمان کی اساس

عقیدہ ختم نبوت،مسلمانوں کے ایمان کی اساس
عقیدہ ختم نبوت،مسلمانوں کے ایمان کی اساس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 سات ستمبر 1974ء اس لحاظ سے پاکستان کی تاریخ میں ایک یادگار دن ہے،جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے کئی روز کی بحث کو سمیٹتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا تھا،بلکہ اس کے پیچھے غلامانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک جہد مسلسل اور بے پایاں قربانیوں کی داستان تھی۔اس تحریک کو فوری پذیرائی نشتر کالج ملتان کے طلبہ کے ساتھ قادیانی غنڈوں  کے ہاتھوں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے تشدد کے بعد ملی۔ یہ واقعہ پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلا اور ایک ملک گیر تحریک کی صورت اختیار کرگیا۔ ہماری قومی اسمبلی میں مسئلہ ختم نبوت پر کھل کر بحث ہوئی۔ قادیانیوں کے دونوں گروپوں کے قائدین کو بھی پورے انہماک اور توجہ سے سنا گیا۔ اس اسمبلی میں خوش قسمتی سے مسلمانوں کے بھی کچھ جید علماء موجود تھے،جن میں مرحوم مفتی محمود،مولانا شاہ احمد نورانی، علامہ غلام غوث ہزاروی، اور بڑے نامور قانون دان محمود قصوری وغیرہ اور پھر یہ کار خیر مرحوم ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم پاکستان کی حکومت کے حصہ میں آیا کہ ایک دیرینہ مسئلہ کا حل نکلا۔یہ عقیدہ ختم نبوت کیا ہے اور مسلمان اسے اپنے عقیدہ اور ایمان کا لازمی حصہ اور جزو کیوں سمجھتے ہیں۔اس پر کھل کر بات ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب قرآن کریم کے اپنے الفاظ میں ”محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں،اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے“۔ سورہ الاحزاب آیت 40,                                              اور پھر اللہ تعالیٰ نے صرف اسی بات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے اس محبوب ترین نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں بے شمار دیگر قرآنی آیات بھی نازل فرمائیں۔ کہیں انہیں یاسین، کہیں مزمل اور کہیں مدثر کہہ کر پکارا، کبھی انہیں رحمت العالمین کا خطاب دیا تو کبھی فرمایا!اے حبیب مکرم آپ کے نام کا ذکر پوری دنیا میں بلند کر دوں گا اور کبھی فرمایا!اے پیارے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو اتنا دوں گا کہ آپ راضی ہو جاؤ گے اور پھر یہ کہہ کر تو اپنے پیار اور احترام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخیر کردی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے آپ پر درود بھیجتے ہیں۔یہ جب سب کچھ نازل ہو رہا تھا کوئی نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی سے پوچھ سکتا ہے،کہ تم اس وقت کہاں تھے۔

یہ سارا قرآن اور اس کا یہ خوبصورت انداز بیان تو اس محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نازل ہو رہا تھا جو عرب کے ریگزاروں میں تن تنہا توحید کا پرچم لے کر اٹھا اور اپنے اللہ کے نام کو بلند رکھنے کے لئے تمام صعوبتیں برداشت کیں۔ اس وقت مرزا غلام احمد تو ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔قرآن کریم کی اتنی واضح اور دو ٹوک آیات  اور حکم کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت میں نہ کوئی ابہام تھا، نہ دو رائے ممکن تھیں۔ نہ کوئی بحث طلب معاملہ تھا نہ اختلاف کی گنجائش، مگر اس کے باوجود اگر کوئی ختم نبوت کا منکر ہو، اگر مگر لگا کر حامل وحی یا مسیح موعود، یا امام مہدی، یا عین مسیح،یا ظلی نبی  یا بروزی نبی یا اس سے ملتا جلتا کوئی دعویٰ بھی کرے اور چودہ سو سال سے طے شدہ اور مسلمہ عقیدہ ختم نبوت سے منکر ہونے کی کوشش کرے تو گویا اس نے قرآن مجید کی متذکرہ بالا آیت اور حکم خداوندی کی صریحاً اور دیدہ دانستہ  خلاف ورزی کی اور وہ جو کوئی بھی ایسا کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔مسلمانوں کے ایمان کی بنیادی شرائط میں توحید، اللہ تعالیٰ کی الہامی کتابوں پر ایمان، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء پر ایمان،  یوم آخرت کی جزا و سزا پر ایمان اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطور آخری نبی ماننا اور انکا ادب و احترام،تعظیم اور ان کی پیروی ایمان کے لازمی جزو اور اساس ہیں۔ اسی طرح عبادات میں نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ فرض ہیں۔اب کسی بھی مسلمان پر وہ نیک ہو یا بد، متذکرہ بالا بنیادی عقائد پر ایمان لانا لازمی ہے،اگر وہ گناہ گار ہے تو اس کے گناہوں کا حساب کتاب روزِ محشر ہو گا،اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس کے سارے گناہ معاف کر دیں۔ اس کی تھوڑی نیکیوں کو بڑھا کر زیادہ اجر دے دیں۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت بھی ہمارے ایمان کا جزو ہے۔ اب اگر کوئی بد بخت مسلمانوں کے گھر پیدا ہو کر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی ماننے سے انکار کرتا ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی دیگر نبی کی گنجائش نکالتا ہے، کسی ایرے غیرے کاذب کو نبی کا درجہ دیکر  اس کی اطاعت کا دم بھرے تو اس سے زیادہ بد قسمت کون ہو گا۔جو یوم جزا صرف اس وجہ سے عذاب کا مستحق ہوگا کہ اس نے بڑی معمولی دنیاوی منفعتوں اور فائدے کے لئے یا اپنی کم علمی اور جہالت کی بدولت ختم نبوت کی اٹل اور واضح حقیقت کو جھٹلایا اور ایک بالکل جھوٹے،کاذب اور ریا کار کو اپنا ہادی اور رہبر مانا۔ لہٰذا وہ احمدی ہو یا مرزائی جو بھی مرزا غلام احمد قادیانی کا پیروکار ہے وہ راہ راست سے پھسل گیا، سچائی سے دور ہو گیا۔

ختم نبوت کی حقانیت سے آنکھیں چرا گیا، وہ قرآن کریم کی واضح نص کا منکر ہو گیا،لہٰذا جو مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی ماننے پر یقین کامل رکھتا ہو، اس کے گناہوں کی معافی تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کریمی کے صدقہ عین ممکن ہے، مگر جو شخص اس عقیدہ ختم نبوت کا منکر ہے، کسی اور کو نبی مانتا ہے یا سمجھتا ہے وہ روز محشر اپنے اس باطل عقیدے کا دفاع کس طرح کرے گا،بدقسمتی ملاحظہ کریں کہ قادیانی مرزا غلام احمد کاذب کے عشق میں اتنی  بھونڈی اور بے سروپا دلیلوں کی بنیاد پر دائرہ ایمان اور اسلام سے خارج ہوئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ مفسر قرآن اور عالم دین مولانا مودودی مرحوم نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں عقیدہ ختم نبوت پر بات کرتے ہوئے کیا خوب لکھا کہ اگر مرزا غلام احمد یہ سمجھتا کہ اصل میں وہی وہ آخری نبی ہے جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے، تو اس سے یہ تو پوچھ لیں کہ پھر وہ کس احمد کا غلام ہے۔ کیا خوبصورت دلیل ہے کہ ایک شخص جو جب پیدا ہوتا ہے تو اسکا نام غلام احمد رکھا جاتا ہے اور یہ احمد اور محمد ہمارے آقا و مولا خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی ہیں جن کی نسبت سے لوگ اپنے بچوں کے نام غلام احمد اور غلام محمد رکھتے ہیں اور اگر انہی کا غلام اٹھ کر نبوت کا دعویٰ کر دے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دعویٰ کرنے والے پر بھی اور اس پر یقین کرنے والوں پر بھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقیدہ ختم نبوت پر کاربند رہنے اور اس کا پہرہ دار بننے کی توفیق اور طاقت عطا کرے۔ آمین

مزید :

رائے -کالم -