چینی کم 

  چینی کم 
  چینی کم 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں بنیادی اشیائے خوراک کی مہنگائی، قلت یا عدم دستیابی یہاں کے پالیسی سازوں کی اہلیت اور قابلیت پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، چینی کی قیمتوں کا موجودہ سنگین ترین بحران اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے چینی کی طلب و رسد کا توازان قائم رکھنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔شوگر ملوں کے پاس موجود چینی کے ”بفر سٹاک“ اور سٹرٹیجک ریزروز کے علاوہ گنے کی آئندہ پیداوار اور پھر اس سے چینی کی ریکوری کے تخمینے بھی غلط ثابت ہو ئے ہیں۔اب حکمرانوں اور افسر شاہی کی اس ساری بد انتظامی کی قیمت غریب عوام کو چکانی پڑ رہی ہے۔ ملک میں چینی کی قیمتوں میں گزشتہ کئی ماہ سے اضافہ جاری ہے تاہم اِس وقت یہ قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ چینی کی قیمتیں رواں برس کے شروع میں تقریباً 80 سے 90 روپے فی کلو تھیں جو صرف آٹھ ماہ کے عرصے میں 200 روپے سے تجاوز کر گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک عام شہری چینی کی فی کلو قیمت پر تقریباً ایک سو روپے تک اضافی ادا کرنے پر مجبور ہے۔


 پاکستان میں زرعی اجناس کی قیمتوں غیر حقیقی اضافے کی تاریخ نئی نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شوگرملیں، کھاد فیکٹریاں، گھی کے کارخانے اور آٹا مل مالکان یا تو براہ راست حکومت سازی کے عمل میں شامل ہیں یا پھر یہ ان با اثر کاروباری گھرانوں کی اقتدار کے ایوانوں تک مکمل رسائی ہے جو منافع خوری اور عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے گمراہ کن اعداد و شمار کے ذر یعے پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ گزشتہ ایک دو برسوں میں گندم اور آٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہی آج کل چینی کے ساتھ ہو رہا ہے، یعنی 2010 ء سے 2020ء تک کے پورے ایک عشرے میں پاکستان اضافی یعنی ملکی ضرورت سے زائد گندم کے بحران کا شکار رہا، مگر غلط پالیسیوں کے نتیجے میں اب مقامی پیداوار کے ذریعے ملکی ضرورت بھی پوری نہیں ہو رہی،جس کے نتیجے میں آٹے کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں، بالکل وہی صورتحال چینی کے معاملے میں درپیش ہے۔چند ماہ پہلے شوگر ملوں نے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو اس بات پر قائل کر لیا کہ شوگر ملوں کے گوداموں میں بے تحاشا چینی پڑی ہے جو کہ ملکی ضرورت سے زائد ہے،لہٰذا اسے برآمد کرنے کی اجازت دی جائے تا کہ مل مالکان آئندہ نومبر میں شروع ہونے والے کرشنگ سیزن سے قبل کسانوں سے گنا خریدنے کی پوزیشن میں آ سکیں، تاہم چند ماہ کے اندر ہی صورتحال بالکل بر عکس ہو چکی ہے اور چینی کی طلب و رسد کا توازن بگڑنے سے اس کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ملک کے بڑے شہروں میں چینی کی قیمت ڈبل سنچری کر گئی تھیں۔


تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو 60 ء کی دہائی میں ایوب خان کے دور میں جب چینی کی قیمت میں چند پیسوں کا اضافہ ہوا تو اسلام آباد کی سڑکوں پر لوگوں نے اس وقت کے فوجی حکمران ایوب خان کے خلاف ”ہائے ہائے“ کے نعرے لگائے۔ستر کی دہائی میں حبیب جالب جیسے شعراء اورادیبوں نے اپنے اپنے انداز میں مہنگائی کا رونا رویا جو اس وقت عوام کی آواز قرار پایا۔فلم ”روٹی، کپڑا اور مکان“ محض فلم نہ رہی،بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ایک نہایت متحرک عوامی نعرے کی صورت اختیار کر گئی۔اس فلم کے ایک گانے کے بول ملاحظہ کریں۔
پہلے مٹی میں پیسے لے کر تھیلا بھر شکر لاتے تھے
اب تھیلے میں پیسہ جاتا ہے اور مٹھی بھر شکر آتی ہے


اگرچہ پاکستان میں آٹے، چینی کا بحران ماضی میں کئی حکومتیں نگل چکا ہے، یا ان کی اقتدار سے رخصتی کی راہ ہموار کر چکا ہے، جبکہ مہنگائی سیاسی جماعتوں کی مقبولیت اور الیکشن نتائج پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتی رہی ہے تاہم اس کے باوجود حالیہ برسوں بر سراقتدار آنیوالی حکومتیں مہنگائی کی روک تھام کے لیے نمایاں اقتدامات نہیں کر سکیں۔صوبائی دارالحکومت لاہور میں پرائس کنٹرول اور مارکیٹ کمیٹیاں غیر فعال ہونے کی وجہ سے صارفین کا کوئی پرسان حال نہیں۔ چند ہفتوں سے چینی کے نرخ بے قابو ہیں جن پر سرکاری اہلکاروں کا مؤقف ہے کہ قانون کے ہاتھوں مجبور ہیں،کیونکہ شوگر ملز مالکان نے چینی کی قیمتوں پر حکم امتناعی لے رکھا ہے۔ادھر پنجاب کی نگران حکومت نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ لاہور ہائی کورٹ کا حکم امتناعی ہے، جس نے قیمتوں میں اضافے کی راہ ہموار کی۔ شوگر ملز، بروکرز اور سٹہ بازوں کے ذریعے ناجائز منافع کمایا جا رہا ہے اورشوگر ملز اور سٹے باز چینی پر اضافی ایک سو روپے قیمت وصول کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی حکام چینی کی افغانستان سمگلنگ کو روکنے سے قاصر ہیں،سمگلنگ نے ملک اور با لخصوص پنجاب میں چینی کے سٹرٹیجک ذخائر کو ختم کر دیا ہے۔ یہ ذخائر آنے والے سال میں چینی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے تھے۔


پاکستان میں دیگر ملوں، فیکٹریوں یا کارخانوں کی طرح چینی پورا سال تیار نہیں ہوتی،بلکہ شوگر ملیں سال میں تقریباً4 مہینے چلتی ہیں۔ اس سلسلے میں باقاعدہ انگریز دور سے ایک شوگر کین ایکٹ بنا ہوا ہے جس کے مطابق شوگر ملوں کے بوائلر ہر صورت نومبر کے اوائل تک چلنا شروع ہو جانے چاہئیں تا کہ ملیں کاشتکاروں سے گنے کی خریداری کا عمل شرو ع کر سکیں، چینی کی تیاری کے اس عمل کو ”کرشنگ سیزن“ کہتے ہیں۔ کین ایکٹ کے مطابق شوگر ملیں کاشتکاروں سے گنا خرید کر 14 دنوں میں ادائیگیاں کرنے کی بھی پابند ہیں تاہم ملوں کی جانب سے گنے کے کاشتکاروں کا استحصال بھی معمول کا حصہ ہے۔ علاوہ ازیں شوگر ملیں کرشنگ سیزن کا آغاز بھی بر وقت نہیں کرتیں اور تاخیری حربوں سے بوائلر نومبر کی بجائے دسمبر میں آن کرتی ہیں تا کہ تاخیر کے باعث کھیتوں میں کھڑے گنے میں نمی کا تناسب کم ہو کر وزن کم ہو جائے اور اس میں موجود ”سکروز لیول“ یعنی مٹھاس بڑھ جائے تا کہ چینی کی زیادہ ریکوری ہو۔ اسی استحصالی نظام کی وجہ سے گنے کے زیر کاشت رقبے میں بھی ہر سال کمی واقع ہو رہی ہے، جبکہ آئندہ برس بھی اس میں 17 فیصد تک کمی متوقع ہے۔چینی کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لئے ضروری ہے اس کی پیداوار ضرورت کے مطابق ہو۔ بصورت دیگر مہنگائی کی ماری ہوئی عوام کا اسی طرح حشر ہوتا رہے گا۔ 

مزید :

رائے -کالم -