پیپلزپارٹی کی جمہوریت کا اصل میدان

پیپلزپارٹی کی جمہوریت کا اصل میدان

  

جب پیپلزپارٹی اقتدار میں تھی تو اسے سندھ کے طول وعرض میں سرکاری نوکریاں بیچنے کے الزام کاسامنا رہا۔ عام آدمی تو نوکریاں فروخت کرنے کے اس ”جنرل سٹور “عرف پیپلز پارٹی کا افسوس کے ساتھ ذکر کر کے خاموش ہوجاتا تھا ،کیونکہ اس کے بس میں کچھ نہیں تھا، لیکن پیپلز پارٹی کے کارکن خاموش نہیں رہے۔ انہیں جہاں موقع ملا انہوں نے قائم علی شاہ کو مدہوشی سے جگا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ خصوصاًوزیروں، مشیروں اور لیڈروں کے خلاف ان کے نام لے لے کر الزامات لگے.... مگر یہ نہ سمجھا جائے کہ پیپلز پارٹی کے جیالے کارکن سندھی عوام کے لئے آواز بلند کرکے میرٹ کی بنیاد پر نوکریاں فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، بلکہ اس احتجاج کا تاریک اور منفی پہلو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکن کسی انعام یا اُجرت کی طرح سرکاری ملازمتوں پر اپنا حق جتاتے ہیں۔ ضیاءالحق کے دور کے بعد ھانیس سو اٹھاسی کی پیپلز پارٹی کی حکومت میں تو وزیر اعظم ہاو¿س میں ”پلیسمنٹ بیورو“ کے نام سے ایک سیل بنا کر ضیاءالحق کے دور میں کوڑے کھانے اور جیل جانے والوں کی فہرستیں بنا کر انہیں بطور اُجرت یا انعام سرکاری ملازمتیں فراہم کی گئی تھیں۔

اب آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی نے اپنے وزیروں، مشیروں کے ساتھ ساتھ فریال تالپور اور اویس مظفر ٹپی جیسے ”اصلی تے وڈے“حکمرانوں کو کھلا میدان دیا تھا کہ جہاں چاہےںاور جس کھیت کو چاہیں اُجاڑیں اور جگالی کریں، لہٰذا کوڑے کھانے یا جیل جانے والوں کی فہرستیں بنانے کا تکلف کئے بغیر ”جیسا ہے اور جہاں ہے“ کی بنیاد پر ملازمتوں کی لاٹریاں نکالی جاتی رہیں۔ یوں تو انیس سو ستر سے پیپلز پارٹی کے ہر دور میں میرٹ کی دھجیاں بکھیر کر سندھ سے ہزاروں نوجوانوں کو سیاسی سفارش اور دیگر بنیادوں پر ملازمتوں میں رکھا جاتا رہا ہے، لیکن آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی کے گزشتہ پانچ سالہ دور میں اس حوالے سے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے ہیں، حتیٰ کہ جب پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی مدت پوری کرکے رخصت ہو رہی تھی تو دھڑا دھڑ پچھلی تاریخوں میں ملازمتوں کے آرڈر جاری کرکے اور کنٹریکٹ پر بھرتی کئے گئے نان کیڈر ملازمین کو مختلف کیڈرز میں مستقل اور ضم کرکے ایک طوفان مچا دیا گیا۔

اس ”واردات“ کے ذریعے ایک طرف ملازمتیں فروخت کرنے کا الزام دھونے کی کوشش کی گئی تو دوسری طرف ارکانِ اسمبلی کے اقربا¿ اور بااثر افراد کے عزیزوں کو ایسے عہدوں پر ریگولر کر دیا گیا، جن کے وہ اہل ہی نہیں تھے۔اس ”واردات “ کے دوران یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ ایک وزیر کے احکامات پر پچھلی تاریخوں میں ملازمتوں کے آرڈرز پر دستخط نہ کرنے والے ایک سینئر بیورو کریٹ کو وزیر صاحب کے گارڈز نے سیکرٹریٹ میں داخل ہو کر زدوکوب کیا۔ 27مارچ کو کثیرالاشاعت سندھی اخبار نے صفحہ اول پر نمایاں انداز سے خبر چھاپی ہے کہ ایم پی اے حمیرا علوانی کے شوہر عبدالحمید علوانی کو، جنہیں وزیر اعلیٰ ہاو¿س میں پروٹوکول افسر کے عہدے پر ضابطوں کی خلاف ورزی کرکے ریگولر کیا گیا تھا، گریڈ اٹھارہ میں ڈپٹی کمشنر بنا دیا گیا ہے۔ پہلے اسے قاعدے کے برخلاف گریڈ 17میں کنٹریکٹ پر رکھا گیا تھا، پھر قاعدے قانون کی مزید خلاف ورزی کر کے ریگولر بھی کر دیا گیا ۔ اسی طرح صوبائی وزیر موہن لعل کے کزن ڈاکٹر جیسو رام کو، جسے 6ماہ قبل ہی ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر رکھا گیا تھا ، ڈپٹی کمشنر کے اعلیٰ انتظامی عہدے پر ضم کر لیا گیا ہے۔

یہ تو ”مشتے ازخروارے“ کی مانند چاول کی دیگ کے چند چاول، جن کی باتیں عام لوگوں کے علم میں آگئی ہیں، وگرنہ سچ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے پانچ سال کے دوران سندھ میں سرکاری ملازمتوں پر جس طرح قاعدے قانون کو بالائے طاق رکھ کر ہاتھ صاف کیا ہے، اس کا اندازہ کرنا بھی عام آدمی کے بس میں نہیں ہے۔ مختلف وفاقی اداروں اور خودمختار کارپوریشنوں میں ملازمتیں ریوڑیوں کی طرح بانٹنے کی داستان اس کے سوا ہے۔ اب بھلا کوئی نادان ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ چیف سیکرٹری یا آئی جی کو تبدیل کر کے انتخابات کے نتائج کو شفاف بنایا جا سکتا ہے، کیونکہ تمام تر شعبدہ بازی تو اسی فوج ظفر موج پر منحصر ہے، جسے بھرتی کرکے اہم عہدوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔

ایسی صورت میں جبکہ وفاقی نگران حکومت کے علاوہ صوبائی نگران حکومتوں کی تشکیل کی لڑائی بھی پیپلزپارٹی نے جیت لی ہے،یہاں تک کہ پنجاب میں بھی اپنی حریف جماعت کو ناک آو¿ٹ کر دیا ہے.... یہ نظر آرہا ہے کہ عوام سے ”اوتھ کمشنر“ کی طرح حکمرانی کی دستاویز پر ٹھپے لگوانے کا مرحلہ بھی طے کر لیا جائے گا اور اگر قسمت بہت زیادہ نامہربان نہ ہوئی تو عوام کو جمہوریت کی ٹکٹکی سے باندھ کر اتنے کوڑے مارے جائیںگے کہ اُن میں احتجاج کرنے کی سکت بھی باقی نہیں رہے گی۔ پھر عوام کو یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ وہ آنے والے دور میں اویس مظفر ٹپی کو منتخب رکن کی حیثیت سے پردے کے پیچھے نہیں، بلکہ سٹیج پر بالکل سامنے ایکشن میں دیکھ سکیں گے اور واہ واہ کریں گے ۔

27مارچ کے سندھی اخبار نے اپنی خبر میں یہ بھی بتایا ہے کہ محکمہ تعلیم کے اسسٹنٹ پروفیسر اقبال جمانی کو ڈپٹی سیکرٹری اور حال ہی میں بھرتی کئے گئے سب رجسٹرار نجیب اللہ جاکھرانی کو اسسٹنٹ کمشنر بنا دیا گیا ہے، جبکہ سابق چیف سیکرٹری محمد اسلم سنجرانی کے بھائی ایوب سنجرانی کو، جو پی ٹی سی ایل میں ملازم ہوا کرتے تھے، ایڈیشنل کمشنر کے طور پر ضم کرنے کی منظوری مل گئی ہے۔ اس طرح مزید 55نان کیڈر سروس کے ملازمین کو انتظامی کیڈر سروس گروپ اور سابقہ پی سی ایس اور سیکرٹریٹ سروس گروپ کے اعلیٰ عہدوں پر ضم کئے جانے اور آﺅٹ آف ٹرن ترقیوں کے لئے وزیراعلیٰ کی منظوری حاصل ہونے سے سندھ میں افسران کا انتظامی ڈھانچہ ”پیپلائز“ ہو گیا ہے۔

سروسز ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری نصیر جمالی نے پرانی تاریخوں میں مذکورہ با اثر افراد کے اقربا¿ کو صوبائی سیکرٹری، کمشنر، ایڈیشنل کمشنر، ایڈیشنل سیکرٹری اور ڈپٹی کمشنر کے عہدوں پر ضم کرنے اور آﺅٹ آف ٹرن ترقیاں دینے کے سلسلے میں مزاحمت کی ہے، جبکہ سندھ سیکرٹریٹ کے سینکڑوں افسران اور اہلکار بھرتیوں اور ترقیوں کی اس یلغار سے متاثر ہونے کے سبب مارچ کے آخر میں کام چھوڑ ہڑتال پر رہے۔ ایک طرف اعلیٰ انتظامی عہدوں کو ”پیپلائز“ کرنے کی ”لُوٹ سیل“ جاری تھی تو دوسری طرف گریڈ ستارہ سے گریڈ اکیس تک کے اہم ترین عہدوں پر بڑے عرصے سے تعینات کنٹریکٹی بیورو کریٹس کو فارغ کرکے گھر بھیجنا مسئلہ بنا ہوا تھا۔ ان افسران کی تعداد ایک سو پندرہ سے زیادہ بتائی جاتی ہے جو بااثر افراد کے پسندیدہ اور سفارشی ہونے کے سبب کنٹریکٹ پر رکھے گئے تھے۔

مزید :

کالم -