قطراورخلیج کے درمیان کشیدگی میں کمی کی خاطر کویت پر امید ہے،الشیخ صباح الخالد

قطراورخلیج کے درمیان کشیدگی میں کمی کی خاطر کویت پر امید ہے،الشیخ صباح ...

کویت(ثناءنیوز)کویت نے تین اہم خلیجی ریاستوں کے درمیان پائے جانے والے سیاسی اختلافات میں کمی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ قطر کے ساتھ دوسرے خلیجی ملکوں کے تنا میں قدرے کمی اور تعلقات کے حوالے سے جلد اہم پیش رفت کا امکان ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گذشتہ روز امیرکویت الشیخ صباح الخالد الصباح نے عرب وعالمی تعلقات عامہ کونسل کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے کویت میں منعقدہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ خلیجی ریاستوں کے درمیان موجود بعض سیاسی اختلافات میں جلد اہم 'بریک تھرو' کی امید ہے۔ ان کا اشارہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے قطر کے ساتھ سفارتی تنا کی جانب تھا۔ یہ سفارتی تناو¾ گذشتہ ماہ اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب ریاض، ابو ظہبی اور منامہ نے دوحہ سے اپنے سفیر واپس بلا لیے تھے۔ اس واقعے کے فوری بعد کویت اور بعض دوسرے خلیجی ممالک مصالحتی مساعی کے لیے متحرک ہو گئے تھے۔خیال رہے کہ گذشتہ روز عرب و عالمی تعلقات عامہ کونسل کے کویت میں ہونے والے تیسرے اجلاس کے دوران عرب ممالک میں جاری کشیدگی، سیاسی تنازعات اور دیگر مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کو دو ہفتے قبل کویت میں منعقدہ عرب سربراہ کانفرنس کے منظور کردہ فیصلوں اور قرار دادوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں عرب ممالک میں انسانی حقوق کا معاملہ، شام میں اسدی فوج کے ہاتھوں نہتے شہریوں کے وحشیانہ قتل عام، مصر، عراق، لبنان اور الجزائر میں پیش آئند انتخابات، ایران کا خلیجی خطے میں بڑھتا اثر و نفوذ اور مسئلہ فلسطین اہم ترین موضوع رہے۔

اجلاس میں فلسطینی سیاسی جماعتوں پر زور دیا گیا کہ وہ گروہی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ کونسل نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے پندرہ عالمی اداروں میں شمولیت کے فیصلے کی حمایت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل تلاش کرنے کے لیے کوششیں تیز کرے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن بات چیت ہونی چاہیے لیکن اسے عرب ممالک کے تیارہ کردہ فریم ورک کے اندر ہی ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ عرب کونسل آف انٹرنیشنل ریلیشن کا قیام تین سال قبل عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کونسل میں عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاست دان، سابق وزرا خارجہ اور سابق سفرا شامل ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...