بالاتر کون ؟

بالاتر کون ؟
 بالاتر کون ؟

  


یہ جملہ سن کر اب مجھے قطعاً حیرت نہیں ہوتی کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، کیونکہ اس جملے کو پاکستان میں اتنی مرتبہ دہرایا گیا ہے کہ گنتی مشکل ہے۔ البتہ اس بات پر حیرت ضرور ہوتی ہے کہ اس جملے کی بار بار گردان کرنے کے باوجود ہمارے سیاستدان اور ارکان اسمبلی ابھی تک پارلیمنٹ کے سب سے بالاتر ادارہ ہونے کو یقینی نہیں بناسکے۔ اگر وہ یقینی بناچکے ہوتے تو کم ازکم انہیں آئے روز اس جملے کی گردان کرنے سے تو فراغت مل جاتی۔ گزشتہ دور حکومت میں سپریم کورٹ اور حکومت کے درمیان یہ بحث جاری رہی کہ پارلیمنٹ سپریم ہے یا سپریم کورٹ، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اپنے حق میں پارلیمنٹ سے قرار دادیں منظور کراتے رہے مگر یہ سب کچھ اس وقت اکارت گیا، جب سپریم کورٹ نے اپنے ایک حکم کے ذریعے انہیں گھر بھیج دیا۔ کیا پاکستان کا آئین واقعی اتنا مبہم ہے کہ اس میں ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کون سپریم ہے اور کون زیردست ہے۔آئین میں یقیناً ہرادارے کی حدود وقیود کا تعین کردیا گیا ہے مگر اس کے باوجود ہر طرف اس آئین کی دہائی دی جاتی ہے اور ہرکوئی اس میں اپنے اختیارات اور مقام ومرتبے کو دوسروں سے بالاتر قرار دینے میں لگارہتا ہے۔ کیا اس ابہام کو دور نہیں کیا جاسکتا؟ کیا یہ طے نہیں ہوسکتا کہ کون کس کے تابع ہے ؟

یہ آج کا مسئلہ نہیں کہ حکومتی وزراءاسمبلی کے فلور پر پھر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، یہ معاملہ تو ہر دور میں اٹھتا رہا ہے۔ غور کیا جائے تو اس بحث کے تین فریق ہی ہردور میں سامنے آئے ہیں، اول خود پارلیمنٹ، دوم فوج اور سوم عدلیہ۔ ان تینوں کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والا ابہام موجود ہے فوج نے چونکہ ماضی میں طاقت کے بل بوتے پر باربار آئین کو پامال کیا ہے اور آئین کو کاغذ کا چیتھڑا قرار دے کر پھینکا جاتا رہا ہے، اس لئے بظاہر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ فوج ہی سب سے سپریم ہے۔ اسی فوج نے ہمیشہ یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کی حرمت اور وقار ہرقیمت پر برقرار رکھا جائے گا ۔ اصل مسئلہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ جب ادارے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوکر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا وقار اور احترام سب سے مقدم ہے تو خرابی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ اگر اس کی بجائے اس انداز فکر کو اپنایا جائے کہ آئین کا احترام سب پر مقدم ہے تو شاید مسائل ہی پیدا نہ ہوں۔ اس بات کو نجانے کیوں بھلا دیا جاتا ہے کہ ہرادارے کا احترام اور وقار آئین نے مقرر کیا ہے۔ اگر آئین میں پارلیمنٹ فوج یا عدلیہ کا ذکر نہ ہوتا تو کیا یہ ادارے اس طرح کے دعوے کرسکتے۔ جب یہ طے ہے کہ سب کچھ آئین کی وجہ سے ہے تو پھر آئین میں درج اصولوں اور حدود کی پابندی کیوں نہیں کی جاتی ؟

 آئین کی روح کو دیکھا جائے تو اس میں اس قسم کا کوئی امتیاز نظر نہیں آتا، جیسا کہ مختلف حلقے بناکر پیش کرتے ہیں جس طرح آئین افراد کے معاملے میں اصولِ مساوات کو پیش نظر رکھتا ہے ، اسی طرح مختلف اداروں کے درمیان بھی مساوات قائم رکھتا ہے۔ یہ مساوات کچھ اس قسم کی ہے کہ جس میں سب کے اختیارات اور حدود کا تعین کردیا گیا ہے، کوئی ادارہ ازخود اپنے مقام ومرتبے کا تعین نہیں کرسکتا، بلکہ اسے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے وجود کو منوانا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ عجیب روایت پڑچکی ہے کہ آئین کو دیکھنے کی بجائے اداروں میں موجود شخصیات اپنے ذہن کے مطابق اپنے وقار اور احترام کا تعین کرتے ہیں، اس قسم کی ”صوابدیدی سوچ “ کا آئین میں کہیں شائبہ تک موجود نہیں۔ پارلیمنٹ کو بھی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ سپریم ہے۔ وہ سپریم کیسے ہوسکتی ہے کہ جب اس کے تمام تر اختیارات ضابطے ، طریقہ کار اور کارروائی آئینی شقوں کے تابع ہے۔ گویا اسے مادر پدر آزادی حاصل نہیں بلکہ اس نے اس دائرے میں رہ کر کام کرنا ہے، جو آئین نے اس کے گرد کھینچ دیا ہے، جو ادارے آئین میں موجود ہےں، وہ کسی کے تابع نہیں سوائے آئین کے، فوج ، عدلیہ اور انتظامیہ آئینی ادارے ہیں۔ پارلیمنٹ کی طرح ان کی حدودوقیود کا تعین بھی کردیا گیا ہے، اس لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس سے باہر جاسکیں یا انہیں کوئی ڈکٹیشن دے سکے۔

میں سمجھتا ہوں آئین میں کوئی ابہام موجود نہیں، سب کچھ واضح ہے البتہ ہمارے ہاں جو یہ سوچ در آئی ہے کہ خود کو دوسرے سے برتر سمجھنا ہے ، اس نے خرابیوں کو جنم دیا ہے، یہ برتر سمجھنے کا خبط بھی اسی لئے پیدا ہوا ہے کہ ہمارے طاقتور حلقوں نے اپنے مفادات کے لئے نظام کو بار بار پٹڑی سے نیچے اُتارا۔ آپ بھارت کی مثال دیکھئے ، وہاں اداروں کے درمیان کوئی ٹکراﺅ موجود نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں اقتدار کے لئے طاقت کا کبھی استعمال نہیں ہوا بلکہ جمہوری انداز سے اقتدار منتقل کیا جاتارہا۔ ہمارے ملک میں چونکہ پہلے آئین کی عدم موجودگی اور بعدازاں آئین کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر بار بار جمہوری عمل کولاٹھی سے ہانکاجاتا رہا، اس لئے اختیارات کی کھینچا تانی کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوا۔ جو تاحال جاری ہے، آج کی عدلیہ آئینی اختیارات کے ایک بڑے فریق کے طورپر موجود ہے۔ لیکن پہلے یہی عدلیہ ہرغیر آئینی اقدام کو قانون اور آئین کی چھتری فراہم کرتی رہی، کہا جاتا ہے کہ اگر عدلیہ مولوی تمیزالدین کیس میں دیئے گئے فیصلوں سے اجتناب کرتی تو آگے چل کر ضیاءالحق اور پرویز مشرف کو مارشل لاءکی تاریخ دہرانے کا حوصلہ نہ ہوتا۔

 آئین کو معطل اور پامال کرنے والے جرنیلوں نے جب عدلیہ سے آئین میں ترمیم تک کرنے کا اختیار حاصل کرلیا اور ان کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو آئین اور قانون کا درجہ دے دیا گیا تو پھر یہ بحث چلی کہ آئین میں پارلیمنٹ اہم ہے یا فوج ۔ آج اگر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس 12اکتوبر 1999ءسے نہیں چلایا جارہا تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ ان کے اس اقدام کو قانونی و آئینی قرار دے چکی ہے۔ یہ درحقیقت ہماری تاریخ کے ان سیاہ دھبوں میں سے ایک دھبہ ہے، جنہوں نے ہمارے جمہوری، آئینی اور تہذیبی چہرے کو مسخ کیا، اس مسخ چہرے کو صاف ستھرا اور خوشنما بنانے کی جوکوششیں کی جارہی ہیں ان میں پھر تعصب برتا جارہا ہے۔ پھر آئین کی بالادستی کا خیال نہیں رکھا جارہا اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی گردان کرکے ایک مرتبہ پھر دوسرے طاقتور اداروں سے محاذآرائی کی فضا پیدا کی جارہی ہے۔

میں جب بھی کسی حکومتی شخصیت کی زبان سے یہ جملہ سنتا ہوں ”جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں“ تو سوچتا ہوں خطرہ ہو نہ ہو اس کا خیال تو ابھی تک موجود ہے۔ آخر وہ دن کب آئے گا جب ہمارے دل ودماغ سے یہ خیال ہی نکل جائے گا کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ بھی ہوسکتا ہے، یہ دن صرف اسی صورت میں ہمارا نصیب بن سکتا ہے، جب ارباب اختیار آئین کو سپریم مان لیں اور اختیارات کی اندھی دوڑ اور طاقتوری کے اس خمار سے نکل آئیں، جس میں ڈوب کر ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں۔

مزید : کالم


loading...