معروف گلوکار احمد رشدی کی 31ویں اور نامور کامیڈین مستانہ کی تیسری برسی کل منائی جائےگی

معروف گلوکار احمد رشدی کی 31ویں اور نامور کامیڈین مستانہ کی تیسری برسی کل ...

لاہور(فلم رپورٹر) معروف گلوکار احمد رشدی کی 31ویں اور نامور کامیڈین مستانہ کی تیسری برسی کل (جمعہ ) کو منائی جائےگی۔احمد رشدی1938 ءکو حیدر آباد دکن میں پیدا ہو ئے اورتقسیم ہند کے بعد احمد رشدی کراچی منتقل ہو گئے ۔ انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کراچی سے کیا ،معروف گانے بند روڈ سے کیماڑی چلی میری گھوڑا گاڑی نے انہیںشہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ ان کی بطور گلوکار پہلی فلم ” کارنامہ “ تھی جو کہ ریلیز نہ ہو سکی جبکہ اس کے بعد آنے والی فلم ”انوکھی “تھی جس میں احمد رشدی پلے بیک سنگر تھے ان کی بطور فلمی گلوکار آخری فلم ”مشرق و مغرب “ تھی۔احمد رشدی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوںنے دیگر گلوکاروں کے ہمراہ مل کر 1955 میں پہلی مرتبہ پاکستان کا قومی ترانہ گایا ،انہیںیہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ جنوبی ایشیا ءکے پہلے گلوکار تھے جنہوں نے موسیقی میں پاپ سنگنگ کو متعارف کروایا۔ انہوں نے پاکستانی فلموں میں پانچ ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کروائے۔ پاکستانی فلمی موسیقی کے لیے انتھک کام کرنے پر ان کی صحت گرنا شروع ہو گئی اور وہ 11 اپریل 1983 ءکو دل کے دورے کے باعث 44 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ۔ان کی وفات کے 20برس بعد ان کی خدمات کے عوض ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔

جبکہ نامور کامیڈین مستانہ کی تیسری برسی بھی کل جمعہ کو منائی جائے گی ۔معروف اسٹیج فنکار مستانہ گزشتہ سال ہیپاٹائٹس کے خلاف موت و حیات کی طویل جنگ لڑتے ہوئے بالآخر شکست کھا کر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے تھے۔ مرتضی حسن عرف مستانہ نے سیکڑوں انتہائی کامیاب اور یاد گار ڈراموں میںکام کیا۔ہیپا ٹائٹس سی کے مرض میں مبتلا تھے اور ان کے جگر نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔انہیںبہاول پورکے وکٹوریہ ہسپتال میں علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی جارہی تھی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

مزید : کلچر


loading...