حمزہ شہباز بمقابلہ بلاول بھٹو

حمزہ شہباز بمقابلہ بلاول بھٹو
حمزہ شہباز بمقابلہ بلاول بھٹو

  


ان دنوں پنجاب اور سندھ میں دو نوجوان سیاسی کھلاڑیوں کے درمیان اپنے داؤ پیچ دکھانے کا مقابلہ جاری ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگی ایم این اے حمزہ شہباز ہر جگہ متحرک دکھائی دے رہے ہیں،کبھی وہ یوتھ فیسٹیول میں جلوہ نما ہوتے ہیں تو کبھی پھولوں کی نمائش دیکھنے چلے آتے ہیں۔ کبھی کسی سیاسی جلسے میں شعلہ بیانی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو کبھی کسی روتی ہوئی ماں، بہن کے آنسو پونچھتے نظر آتے ہیں، کبھی لاہور کے جاری ترقیاتی منصوبوں کا طائرانہ جائزہ لینے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔تو کبھی شجر کاری مہم کا افتتاح کرنے کے لئے بیلچہ اُٹھا لیتے ہیں۔

اُدھر سندھ میں بلاول بھٹو ایسی ہی سرگرمی اور فعالیت کا مظاہرہ کررہے ہیں ، وہ کبھی سندھی ٹوپی پہن کر سندھ کی ثقافت بچانے کے لئے موہن جوداڑو کی طرف نکل جاتے ہیں تو کبھی صوفیانہ کلام کی محفل سجا لیتے ہیں۔ دل چاہے تو اپنے کسی اتالیق کی راہ نمائی میں انتہائی جوش اور جذبے کے ساتھ تقریر کر ڈالتے ہیں۔ کھیلوں سے محبت کا اظہار کرنا ہو تو فٹ بال کی سٹریٹ ٹیم کی فتح کا جشن، برسرِ عام مناتے ہیں۔ صاف لگتا ہے کہ ان کے مربّی ، سرپرست اور اتالیق انہیں صحیح معنوں میں پاکستانی، خصوصاً سندھی سیاست کے داؤ پیچ سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب یہ بات عام ہوچکی ہے کہ بلاول بھٹو کے لئے اردو بولنا لکھنا اور پڑھنا مشکل ہے چنانچہ ان کی تقریر ان کے ڈائس کے سامنے کمپیوٹر سکرین پر رومن زبان میں لکھی جاتی ہے اور وہ اس میں اپنے نانا جان کا لہجہ ، جذبہ اور جوش ڈال کر داد کے متمنی ہوتے ہیں۔ ان کے اس اندازِ تقریر سے شاید ان کے ووٹر متاثر ہوتے ہوں، لیکن عام تاثر یہی ہے کہ وہ مفاہمت کے لئے کی گئی کوششوں پر پانی پھیرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے والد محترم کچھ اور کہتے ہیں اور بلاول کچھ اور کہتے ہیں۔ والد صاحب طالبان سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں اور یہ مخالفت کرتے ہیں، یہ پاکستان پیپلزپارٹی کی کوئی پالیسی بھی ہوسکتی ہے، لیکن اصل بات یہ محسوس ہوتی ہے کہ بلاول کو کسی نے بتایا ہے کہ جوشیلی تقریر کے لئے ایسی ہی باتیں کرنا مناسب ہیں۔ ٹھنڈی ٹھار تقریر کو ن سنتا ہے؟ٹھنڈی ٹھار تقریر سے اخبار کی سرخی بھی نہیں بنتی، ٹیلی ویژن چینل کی بریکنگ نیوز بھی کچھ نہ کچھ گرما گرمی مانگتی ہے۔

یہ درست ہے کہ بلاول بھٹو ایک سیاسی خانوادے کے چشم وچراغ اور ایک بڑی سیاسی پارٹی کے سرپرست ہیں،لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی مثال گملے میں لگے ہوئے پودے کی سی ہے۔ گملے میں لگا ہوا پودا، کبھی تناور درخت نہیں بنتا۔ وہ سایہ دیتا ہے نہ پھل، گملے میں لگے پودے کو آپ گملے سمیت کسی بھی جگہ پر رکھ سکتے ہیں، گملے کے پودے کی زندگی بھی زیادہ نہیں ہوتی۔( اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ نوجوان بلاول بھٹو زندگی کی ساری بہاریں اپنی ساری توانائیوں اور رعنائیوں کے ساتھ دیکھیں، آمین) بلاول بھٹو زرداری، ایک سیاسی خاندان میں پیدا ضرور ہوئے، لیکن بدقسمتی سے ان کی سیاسی پرورش نہیں ہوسکی، ان کی والدہ مرحومہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے والد صاحب کے ساتھ بیش تر وقت گزارا، ان کے ساتھ بیرونی ممالک کے دوروں پر گئیں، انہوں نے پاکستانی سیاسی تاریخ کے سارے اتار چڑھاؤ اپنی آنکھوں سے دیکھے اور لوگوں کے دکھوں کو آپ محسوس کیا۔جبکہ ہمارے بلاول بھٹو کو جب پاکستان میں ہونا چاہئے تھا تب وہ تعلیم کے حصول کے لئے بیرون ملک تھے، پاکستان آنے کے بعد بھی انہوں نے براہِ راست پاکستانی عوام سے رابطہ نہیں رکھا، وہ ابھی تک اسی اکھاڑے میں کھیل رہے ہیں، جس میں انہیں ان کے مہربانوں نے اتارا تھا۔ سیاست میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے ووٹروں اور کارکنوں سے براہِ راست رابطہ رکھیں اب شااید اس کمی کو پورا کرنے کے لئے بلاول کو میدان میں اتارا گیا ہے ، انہیں ثقافت اور سیاست کے خد وخال اور اسرار و رموز سے آگاہ کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے بالکل اسی طرح جس طرح انگریزوں نے برصغیر میں اپنا اقتدار مضبوط کرنے کے لئے کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج بنا کر اپنے افسروں اوراہل کاروں کو اردو اور ہندی زبان کے علاوہ مقامی ثقافت سے آگاہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا، اس عمل سے انگریزوں نے کچھ کامیابی بھی حاصل کی، لیکن مقامی ثقافت اور سیاست سے مکمل آگاہی نہ ہونے کے باعث ان کے اقتدار کا سورج جلد ہی ڈوب گیا۔

میں جب پنجاب میں مسلم لیگی ایم این اے حمزہ شہباز کی طرف دیکھتا ہوں تو صورتِ حال خاصی مختلف نظر آتی ہے، جب مسلم لیگی قیادت بیرونِ ملک تھی وہ تب بھی اس پاکستان میں تھے۔ تب ان کی عمر کتنی ہوگی؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے نہایت کم عمری ہی میںآمریت کی سختی ،گرمی ، ہٹ دھرمی اور بے شرمی دیکھ لی تھی، تب بھی انہوں نے اپنے پارٹی ورکرز سے براہِ راست رابطہ رکھا،ایک آمرانہ دور میں سیاسی راہ نماؤں کو کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے؟ یہ سب انہیں مشرف دور میں اچھی طرح معلوم ہوگیا تھا۔ گویا حمزہ شہباز زرخیز زمین میں اُگنے والے پودے کی طرح ہیں، جو تناور شجر بننے کے لئے تیار ہے، انہوں نے آمریت کی تاریکی میں اپنے کارکنوں سے جو تعلق استوار کیا تھا اسے اپنے تحرک اور فعالیت سے بہت مضبوط کرچکے ہیں ، چنانچہ جہاں جاتے ہیں،کارکن ان کے لئے چشم و دل ، فرشِ راہ کرتے ہیں۔ وہ ایک فطری سیاسی راہ نما کی طرح، ملکی اور قومی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں، لوگوں کے حقیقی مسائل سے آگاہ ہیں۔ نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ انہیں حل کرنے کی تڑپ بھی رکھتے ہیں، وہ اپنے دوستوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں ان کی راہ نمائی کریں، ان سے مکالمہ کرتے ہیں، بات کرتے ہیں۔ ایک سیاسی راہ نما کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ مشاورت کا عمل ہمیشہ جاری رکھے۔ فطری راہ نما جوش میں بھی ہوش کی بات کرتاہے کیونکہ اس کا جوش بھی حقیقی اور فطری ہوتا ہے، فطری اور حقیقی راہ نما، مقامی حقیقتوں کا ادراک رکھتا ہے، ثقافت اور سماجی اقدار کے سارے پہلو اس کے سامنے ہوتے ہیں، تبھی وہ راہ نمائی کرنے کے لائق ٹھہرتا ہے۔

مزید : کالم


loading...