کراچی میں زندہ جلائے گئے وکلاءسے اظہار یکجہتی کیلئے ہائیکورٹ بار کا تعز یتی اجلاس

کراچی میں زندہ جلائے گئے وکلاءسے اظہار یکجہتی کیلئے ہائیکورٹ بار کا تعز یتی ...

                       لاہور(نامہ نگارخصوصی)کراچی میں زندہ جلائے گئے وکلاءسے اظہار یکجہتی کے لئے وکلاءنے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھی اور بار رومز کی چھتوں پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔زندہ جلائے جانے وکلاءکی یاد میں لاہور ہائیکورٹ بار کا جنرل ہاوس کا تعزیتی اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔جس میں مجرموں کے خلاف کارروائی کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا گیا ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر شفقت محمود چوہان نے کہا کہ آمریت نے نہ صرف ملکی اداروں کو تباہ کیا بلکہ ملک کی جڑوں میں ابلتا ہوا تیل انڈیلا جس سے نہ صرف ملکی ترقی متاثر ہوئی بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق پر بھی ڈاکہ ڈالا گیا۔انہوں نے کہا کہ وکلاءتحریک میں زندہ جلائے جانے کے واقعات آمریت کی مکروہ ترین شکل تھی جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ بھی کسی آمر نے آئین کو پامال کرنے کی کوشش کی تو وکلاءآئین کے محافظ کا کردار ادا کرتے ہوئے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گے۔اس موقع پر کراچی میں زندہ جلائے جانے وکلاءکے قاتلوں کی گرفتاری کے حق میں قرار داد بھی منظور کی گئی۔ شفقت محمود چوہان صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شفقت محمود چوہان کی زیر صدارت جنرل ہاو¿س کا اجلاس گذشتہ روز منعقد ہوا۔ یہ اجلاس عدلیہ بحالی تحریک کے دوران کراچی میں اور دیگر علاقوں میں وکلاءکو زندہ جلائے جانے کے خلاف طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں راجہ ذوالقرنین سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاءتحریک کے دوران معصوم اور نہتے وکلاءپر روا رکھے گئے مظالم، زیادتی ،تشدد اور جلائے جانے جیسے واقعات کو وکلاءہمیشہ یاد رکھیں گے اور اس دن کو یوم سیاہ کے طورپر مناتے رہیں گے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...