طالبان دہشتگردی کرو اور مکر جاﺅ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں سنی اتحاد کونسل پاکستان

طالبان دہشتگردی کرو اور مکر جاﺅ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں سنی اتحاد ...

                     لاہور( سٹاف رپورٹر) سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ طالبان ”دہشت گردی کرو اور مکر جاﺅ“ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اسلام آباد کی فروٹ منڈی میں دھماکہ کھلی دہشت گردی ہے۔ ساٹھ ہزار بے گناہوں کو مارنے کے بعد طالبان ترجمان کا بے گناہوں کی ہلاکتوں کو حرام قرار دینا مذاق ہے۔ آپس میں لڑتے طالبان سے مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کو چاروں طرف سے گھیرا جا رہا ہے۔ پاکستان دشمن قوتیں بلوچ علیحدگی پسندوں، سندھی قوم پرستوں اور طالبان کو استعمال کر رہی ہیں۔ 24 گھنٹوں میں دہشت گردی کے دو بڑے واقعات حکومت کے لیے لمحہ¿ فکریہ ہیں۔ بلوچستان کے علیحدگی پسند بھی طالبان کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ کسی قانون شکن اور غدار سے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ سندھ میں کریکر حملے اور کھیلوں میں مسلسل دھماکے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ قومی سلامتی کے دشمنوں کو کچلنے کے لیے ریاستی طاقت استعمال کی جائے۔ افواج پاکستان کے خلاف مہم میں وزیردفاع کا سب سے آگے ہونا افسوسناک ہے۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف وزیراعظم کے نادان دوست ہیں۔ مسلم لیگ ن کے خواجگان میاں نواز شریف کو لے ڈوبیں گے۔ حکمران پرانے بدلے چکانے کی بجائے عووامی مسائل پر توجہ دیں۔ آئین کی بالادستی کی بات کرنے والے آئین کی صرف من پسند شقوں پر عمل کرتے ہیں۔ پورے آئین پر عمل کیا جائے تو آدھے ممبران پارلیمنٹ کو گھر بھیجنا پڑے گا۔ اسلام آباد کے تازہ دھماکے سے وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کا پول کھل گیا ہے۔ طالبان کے سرپرستوں اور ہمدردوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ سلامتی کونسل کے پانچ ارکان نے دنیا کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بھارت میں پاکستان دشمنی کی بنیاد پر انتخابی مہم چل رہی ہے جس سے بھارت کا تعصب اور پاکستان دشمنی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ قرآن و سنّت سے متصادم قوانین ختم کیے جائیں اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پارلیمنٹ میں پیش کر کے قانون سازی کی جائے۔ مولانا سمیع الحق دہشت گردوں کی کھلم کھلی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...