اسلام آباد سبزی منڈی میں دھماکہ 25افراد جاں بحق 115 سے زائد زخمی

اسلام آباد سبزی منڈی میں دھماکہ 25افراد جاں بحق 115 سے زائد زخمی

 اسلام آباد( سٹا ف ر پو رٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ،اے این این) وفاقی دارالحکومت کی مرکزی سبزی منڈی میں بم دھاکے کے نتیجے میں 25افراد جاں بحق115سے زائد زخمی ہو گئے 10سے زائد گاڑیوں کو نقصان پہنچا،5کلو گرام دھماکہ خیز مواد امرود کی پیٹیوں میں رکھا گیا تھا جسے بولی کے دوران اڑایا گیا،جائے وقوعہ پر 2سے تین فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو محاصرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لئے،زخمی اور لاشیں ہسپتال منتقل،متعدد کی حالت تشویش ناک ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے لئے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا،شناخت کا عمل جاری ،وزیر داخلہ نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا،قائم مقام آئی جی سے رپورٹ طلب،کالعدم تحریک طالبان نے واقعہ سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،صدر اور وزیر اعظم کی مذمت،زخمیوں کو سرکاری خرچ پر علاج معالجہ فراہم کرنے کی ہدایت،عمران خان،شہباز شریف،آصف علی زرداری،سراج الحق اور الطاف حسین سمیت اہم سیاسی شخصیات نے بھی واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی،ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بدھ کی صبح 8بجے کے قریب وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایچ الیون میں واقع مرکزی سبزی منڈی اس وقت شدید دھماکے سے گونج اٹھی جب ملحقہ فروٹ منڈی میں امرود کی بولی لگائی جا رہی تھی۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس آواز8سے 10کلو میٹر دور تک سنی گئی۔ بم دھماکے کے نتیجے میں25افراد جاں بحق اور 115سے زائد زخمی ہوگئے جن میں سے متعدد کی حا لت تشویش ناک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ جاں بحق ہونے والے19افراد کی لاشیں پمز،6کی ہولی فیملی اور ایک لاش سینٹرل ہسپتال راولپنڈی منتقل کی گئی جبکہ 74زخمیوں کو پمز،35ہولی فیملی،4سینٹرل ہسپتال،2ڈی ایچ کیو راولپنڈی اور ایک زخمی کو ریلوے ہسپتال منتقل کیا گیا ،بم دھماکے سے 10سے زائد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ۔ترجمان پمز اسپتال ڈاکٹرعائشہ کا کہنا تھا کہ 19 لاشوں اور 50 زخمیوں کو پمزسپتال منتقل کیا گیا ہے، زخمیوں کو شدید نوعیت کے زخم آئے ہیں، زیادہ تر زخمیوں کو جسم کے نچلے حصے میں زخم آئے ہیں، 9 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اب تک 11لاشوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔، زخمیوں سے متعلق 051-9261262پر بھی معلومات لی جا سکتی ہیں۔ لاشوں کے پوسٹمارٹم کے لئے دو رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے۔۔ وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو خون کی ضرورت ہے جو لو گ خون عطیہ کرنا چاہیں تو وہ پمزسپتال کے بلڈ گروپ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔واقعہ کے بعد پولیس حساس اداروں اور قانون نافذ کرنے ولاے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کر کے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لئے اور ریسکیو1122اور پرائیویٹ گاڑیوں کے ذریعے زخمیوں اور لاشوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکے میں 5کلو گرام مواد استعمال کیا گیا جسے ٹائم ڈیوائس سے اڑایا گیا،جائے وقوعہ پر 2سے 3فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا۔واقعہ کے بعد قائم مقام آئی جی خالد خٹک اور چیف کمشنر سمیت اعلیٰ حکام بھی موقع پر پہنچ گئے اور امداری سرگرمیوں کی نگرانی کی۔ذرائع کے مطابق امرود کی پیٹیاں بورے والا،شرق پور اور پاک پتن سے لائی گئی تھیں،پولیس نے اس ضمن میں تفتیش شروع کر دی ہے۔جائے وقوعہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیف کمشنر اسلام آباد طاہر سعید کا کہنا تھا کہ فروٹ منڈی میں امرود کی پیٹیوں کی بولی لگائی جا رہی تھی تو زور دار دھماکا ہو گیا، اس بات کا خدشہ ہے کہ دھماکا خیز مواد امرود کی پیٹیوں میں رکھا گیا تھا، دھماکہ ریموٹ کنٹرول کا معلوم ہوتا ہے، دھماکے کی جگہ پر 2 سے 3 فٹ کا گڑھا پڑ گیا ہے تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی دھماکے کی صحیح نوعیت کا پتہ چل سکے گا۔قائم مقام آئی جی اسلام آباد خالد خٹک کا کہنا تھا کہ فروٹ منڈی میں ہونے والے دھماکے میں 5 کلو گرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیا، دھماکے کے وقت 2 ہزار کے قریب افراد منڈی میں موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ فروٹ منڈی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی تخریب کاری کی اطلاع موجود نہیں تھی، پولیس کے علاوہ فروٹ منڈی کی انتظامیہ نے بھی اس حوالے سے انتظامات کر رکھے تھے لیکن ہر ٹرک اور ہر شخص کو چیک کرنا ممکن نہیں، تخریب کاری کے حوالے سے کسی کو بھی مورد الزام ٹھرانا فی الحال درست نہیں ہوگا تاہم واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور قائم مقام آئی جی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ صدرمملکت ممنون حسین اوروزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے اسلام آباد سبزی منڈی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کوعلاج کی بہترسہولتیں فراہم کی جائیں، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیر اعلی سند ھ قائم علی شاہ، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف، وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک، چیئرمین سینیٹ ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ،سپیکرایاز صادق نے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔مختلف سیاسی جماعتوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان نے واقعہ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے بم دھماکے میں بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔طالبان ترجمان شاہد اللہ شاہد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سبی ریلوے اسٹیشن اور اسلام آباد میں دھماکوں کی مذمت کر تے ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ عوامی مراکز پرحملوں میں بے گناہ افراد کی ہلاکت افسوس ناک ہے،بے گناہ افراد کو نشانہ بنانا شرعا ناجائز اور حرام ہے،ایسے حملے ناجائز اورافسوس ناک ہے۔ترجمان شاہد اللہ شاہد کا کہنا ہے کہ حملوں میں خفیہ ہاتھوں کے ملوث ہونے کو فراموش نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں تحریک طالبان کے نام سے خفیہ ہاتھ دھماکے کرتے رہے، لاہوراور پشاور سمیت کئی شہروں میں دھماکے کیے جاتے رہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ بلوچستان اورسندھ کے مظلوم افراد ہمارے بھائی ہیں۔ بے گناہ افراد کو نشانہ بنانا شرعا ناجائز اور حرام ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...