سبزی منڈی دھماکے کی تحقیقات شروع کر دیں، ذمہ داروں کو کٹہرے میں لائیں گے، وزیر داخلہ

سبزی منڈی دھماکے کی تحقیقات شروع کر دیں، ذمہ داروں کو کٹہرے میں لائیں گے، ...

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک228 آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سبزی منڈی دھماکے کی تحقیقات شروع کردی ہے ذمہ داروں کو جلد کٹہرے میں لائیں گے ، دھماکے میں کون ملوث ہے ؟کسی کا نام لینا قبل از وقت ہوگا ،بچوں کو یتیم کرنے والے اللہ کے غضب سے کیسے بچیں گے؟ ،پولیس کی جانب سے ہر گاڑی کی انفرادی چیکنگ ممکن نہیں ، کسی بھی صوبے کی پولیس کے پاس جدید ٹیکنالوجی نہیں ہے،گزشتہ حکومت نے ایک ارب کے جو سکینرز منگوائے تھے وہ ناکارہ نکلے ، درآمد شدہ سکینرز محض کسٹمز کے مقاصد کیلئے استعمال کیے جاسکتے ہیں ۔وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پولیس افسران کے ہمراہ سبزی منڈی دھماکے کی جگہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ سبزی منڈی دھماکے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے دھماکے میں جاں بحق افراد کے ورثا سے اپنی اور وزیراعظم کی طرف سے تعزیت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ غریب ترین بستی کو نشانہ بنانے والوں کو کٹہرے میں لائیں گے، ہماری تحقیقات کے نتیجے میں بہت سے دہشت گردوں کو پولیس اور انٹیلی جنس نے پکڑا ہے، دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افرادکے خون کی کوئی قیمت نہیں ہم جتنے بھی جتن کرلیں ان کو واپس نہیں لاسکتے حکومت متاثرہ خاندانوں کی مدد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سبزی منڈی25 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے تقریباً 300 گاڑیاں روزانہ سبزی منڈی میں سبزی اور فروٹ لے کر آتی ہیں جنہیں پولیس اہلکار روک کر اور سامان اتار کر چیک نہیں کرسکتے اس کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے پچھلے پانچ سال میں ٹیکنالوجی حاصل کی گئی 100 کروڑ روپے کے عوض بیرون ملک سے 4 سکینرز خریدے گئے جن میں سے 2سکینرز ابھی تک پہنچے نہیں پہنچے اورجو دو سکینرز ہمارے پاس موجود ہیں وہ بارود کی جانچ پڑتال نہیں کر سکتے ۔انہوں نے کہاکہ سو کروڑ روپے کے عوض سکینرز خریدنے کا یہ سودا پچھلی حکومت نے کیا تھا۔ سکینر زمحض کسٹمز کے مقاصد کیلئے استعمال کیے جاسکتے ہیں مجھے صرف یہ بتایا جائے کہ 100 کروڑ روپے کا قرضہ ہمارے سر پر ہے جب ہم نئی ٹیکنالوجی خریدیں گے تو اس کیلئے وقت درکار ہوگا جتنا بھی پیسہ خرچ کرنا پڑے سبزی منڈی اور دیگر اہم مقامات کو محفوظ بنائیں گے۔ دھماکے میں طالبان کے ملوث ہونے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ تحقیقات ہورہی ہیں قبل ازوقت کسی گروپ کا نام نہیں لیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ صدر، وزیراعظم اور چیف جسٹس کے ساتھ وی آئی پی سکیورٹی ہے، وفاقی وزراء کے ساتھ دو، دو پولیس اہلکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی مارکیٹیں جہاں باہر سے سامان آتا ہے ا ن کیلئے ضروری ہے کہ وہاں شفاف انداز سے سامان کو مانیٹر کیا جائے جس کیلئے ٹیکنالوجی اور سسٹم کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے اور وزارت داخلہ نے مل کر کچھ کچی آبادیاں ہٹانے کی کوشش کی تو بہت سی رکاوٹیں سامنے آگئیں۔ وزارت داخلہ نے اسلام آباد کے اندر کچی آبادیوں کی رجسٹریشن شروع کی جواب تقریباً مکمل ہوچکی ہے بغیر رجسٹریشن کے کچی آبادیاں نہیں ہونی چاہیے ۔

مزید : صفحہ اول


loading...