جنرل پرویز مشرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ اور سیاستدان ہیں

جنرل پرویز مشرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ اور سیاستدان ہیں
Pervaiz Mushraf

  


 پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز کہا تھا فوج کے وقار کا ہر صورت اور ہر حالت میں دفاع کیا جائے گا، اب اس بیان کا تو خیر مقدم کیا جانا چاہیے کہ فوج کے سربراہ کو اپنے ادارے کے وقار کا بھرپور احساس وادراک ہے، لیکن یار لوگوں نے اس میں سے اپنی اپنی پسند کا مفہوم نکالنے کی کوشش کی اور اس کے ڈانڈے چند روز پیشتر کے بعض بیانات سے ملادئیے۔ حالانکہ وزیراطلاعات پرویز رشید نے کہا آرمی چیف نے جو کہا وہی حکومت کا موقف ہے اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت اور آرمی چیف کا موقف ایک ہی ہے تو پھر اختلاف کہاں ہے؟ اور کیوں ہے؟اور دور دور کی کوڑیاں کیوں لائی جا رہی ہیں؟

جنرل (ر) پرویز مشرف جن کے خلاف ان دنوں آئین شکنی کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے وہ اب محض سابق آرمی چیف نہیں سیاستدان بھی ہیں۔آئین کے آرٹیکل 6 میں لکھا ہے کہ جو شخص آئین توڑے گا وہ سنگین غداری کا مرتکب ہوگا، یہ الفاظ 73ء کے آئین کی تشکیل کے وقت جب پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو صدر تھے آئین میں شامل کئے گئے تھے، بعد میں وہ صدارتی منصب چھوڑ کر وزیراعظم بن گئے کیونکہ اس آئین میں اختیارات کا پلڑا وزیراعظم کے حق میں جُھکا ہوا تھا، اس آئین کے تحت فضل الہٰی چودھری پہلے صدر بنے تھے جب 77ء کا آئینی بحران آیا تو وہی صدر تھے اس بحران میں صدر کوئی کردار ادا نہ کرسکے، وہ اس حد تک بے بس تھے کہ کسی ستم ظریف کو ایوان صدر کی دیوار پر یہ الفاظ لکھنے پڑے ’’صدر فضل الہٰی چودھری کو رہا کرو‘‘ یہ رہائی انہیں اس وقت نصیب ہوئی جب وہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا میں مستعفی ہوگئے۔

73ء کے آئین کے نفاذ کے بعد کی کہانی صدر اور وزیراعظم کے اختیارات کی کشمکش کی کہانی ہے، فوج کی قیادت کا جھکاؤ ہمیشہ صدارتی نظام کی طرف رہا ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے جب مارشل لا لگایا تو وہ چیف مارشل لا اینڈ منسٹریٹر اور صدر بن گئے، 85ء میں جب انہوں نے غیر جماعتی الیکشن کرائے اور محمد خان جونیجو کو مارشل لاء کی چھتری تلے وزیراعظم بنایا تو اس وقت تک مارشل نہ اٹھایا جب تک انہوں نے قومی اسمبلی سے آٹھویں ترمیم کے ذریعے مشہور (2)58 بی آئین کا حصہ نہیں بنوادی۔ اسی دفعہ کے تحت انہوں نے اپنے ہاتھ سے تراشے ہوئے وزیراعظم جونیجو کی حکومت برطرف کی، ان کے طیارے کے حادثے کے بعد جو انتخابات ہوئے ان کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت بنی لیکن اس حکومت کو بھی اسی دفعہ کے تحت غلام اسحاق خان نے برطرف کردیا، پھر الیکشن ہوئے جن کے نتیجے میں نواز شریف کی پہلی حکومت بنی، جو اسی دفعہ کے تحت غلام اسحاق خان کے ہاتھوں برطرف ہوئی، اگلے الیکشن میں بے نظیر بھٹو دوبارہ برسراقتدار آگئیں لیکن (2)58بی بدستور آئین میں موجود تھی، انہوں نے اپنے منہ بولے بھائی فاروق لغاری کو صدر بنایا لیکن اس صدر نے بھی یہ دفعہ استعمال کر ڈالی اور بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت بھی برطرف کردی، نواز شریف انتخابات جیت کر دوبارہ وزیراعظم بنے تو انہیں دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل تھی چنانچہ انہوں نے پہلی فرصت میں صدر کے اسمبلی توڑنے کا اختیار آئینی ترمیم کے ذریعے واپس لے لیا۔ بے اختیار فاروق لغاری نے اس کے باوجود نواز شریف کی راہ میں روڑے اٹکائے تو انہوں نے پارلیمنٹ میں مواخذے کی دھمکی دے کر فاروق لغاری کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا، لیکن 12 اکتوبر 1999ء کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت ختم کردی، جنرل پرویز مشرف نے صدر کے اسمبلی توڑنے کا اختیار دوبارہ آئین میں سترھویں ترمیم کے ذریعے شامل کرایا، جسے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے پیپلزپارٹی نے پھر ختم کردیا۔ صدر اور وزیراعظم کے اختیارات کی یہ کشمکش صرف ان برسوں تک محدود نہیں، قیام پاکستان کے بعد ہی گورنر جنرل اور وزیراعظم بھی اس کشمکش سے گزرتے رہے اور 58ء کا مارشل لاء بھی اسی کا نتیجہ تھا جس کے نتیجے میں ملک میں پہلی بار صدارتی نظام آیا۔

اس وقت صدر مملکت کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار نہیں، سارے اختیارات وزیراعظم کے پاس ہیں لیکن جنرل پرویز مشرف پر مقدمے کے معاملے میں بعض اوقات عجیب قسم کی نکتہ آفرینیاں جاری ہیں، آئین کی جس دفعہ کے تحت جنرل پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے اس میں لفظ ’’سنگین غداری‘‘ پر بعض سینئر سیاستدان بھی اعتراض کررہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اپنے اعتراض کو محض بیان بازیوں تک کیوں محدود رکھتے ہیں وہ پارلیمینٹ میں یہ معاملہ کیوں نہیں اٹھاتے اور آئین سے یہ دفعہ خارج کیوں نہیں کراتے؟ جب اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے سینکڑوں آئینی دفعات تبدیل کی جارہی تھیں اور اس عمل میں وہ پارٹیاں بھی شامل تھیں جن کے سربراہوں کو اب لفظ ’’سنگین غداری‘‘ پر اعتراض ہے تو انہوں نے آئینی ترمیموں کے پیکج میں یہ دفعہ کیوں نہ رکھوائی؟ جو حضرات اب یہ کہہ رہے ہیں کہ فوج کا سابق سربراہ غدار نہیں ہوسکتا کیا وہ بتاسکتے ہیں کہ انہوں نے یہ دفعہ اور یہ ناپسندیدہ لفظ آئین سے نکالنے کے لئے کبھی کوئی کردار ادا کیا؟

آئین میں اس دفعہ کو اس لئے شامل کیا گیا تھا تاکہ فوجی قوت کے ذریعے سیاسی حکومتوں کی تبدیلی کا راستہ روکا جائے لیکن یہ راستہ نہ رُک سکا، پہلے جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کی، پھر جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا لیکن ان دونوں اقدامات کی پارلیمینٹ نے جو خواجہ آصف کے تازہ ترین بیان کے بقول سپریم ادارہ ہے توثیق کردی، حکومت نے غالباً اسی لئے پرویز مشرف کے خلاف 12 اکتوبر 99ء کے اقدام پر مقدمہ نہیں چلایا اور 3 نومبر 2007ء کے اقدام کے تحت کارروائی شروع کی کیونکہ اس اقدام کو پارلیمینٹ نے تحفظ نہیں دیا تھا۔

پاکستان میں جن فوجی سربراہوں نے سیاسی حکومتوں کے تختے الٹے ان کے اقدامات کو آج تک ہدف تنقید بنایا جاتا ہے۔ البتہ پرویز مشرف پہلی مرتبہ مقدمے میں پھنس گئے ہیں تو اُن پر تنقید کے ڈانڈے فوج سے ملائے جارہے ہیں حالانکہ وہ سات سال پہلے فوج سے ریٹائر ہوگئے تھے اور اب باقاعدہ سیاستدان ہیں اُن کی ایک سیاسی جماعت ہے جس نے الیکشن بھی لڑا اب ان کی سیاسی حیثیت سامنے ہے۔ فوجی حیثیت پس منظر میں چلی گئی ہے، لیکن جنرل کے حامی بڑی ہوشیاری کے ساتھ اُن کی سیاسی حیثیت کو نظر انداز کرکے فوج کے سابق سربراہ کی حیثیت کو ہی پیش نظر رکھ رہے ہیں اور ’’سنگین غداری‘‘ کے مقدمے کو ان کی توہین قرار دے رہے ہیں۔ جب کہ یہ آئین کے اپنے الفاظ ہیں جو 73ء سے تاحال اس میں موجود چلے آرہے ہیں۔

مزید : تجزیہ


loading...