سیاسی اور عسکری قیادتوں میں ہم آہنگی، وقت کی ضرورت!

سیاسی اور عسکری قیادتوں میں ہم آہنگی، وقت کی ضرورت!
army

  


اب اگر کوئی خبر نگار یہ خبر فائل کرے کہ کور کمانڈروں کے اجلاس میں عسکری اور سیاسی قیادت کے تعلقات اور کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کی صورتحال کا جائیزہ لیا گیا تو کیا غلط ہو گا؟ جی نہیں یہ ایک عام فہم بات ہے متعلقہ بیٹ کے رپورٹر کو اندرونی کہانی نہ بھی ملے تو وہ بڑی آسانی سے یہ خبر فائل کر سکتا ہے اور اس میں کچھ غلط بھی نہیں ہو گا کہ ایک طرف تو سیاسی اور عسکری حلقوں کے حوالے سے بیانات اور جوابی بیان کی بحث چھڑی ہوئی ہے تو دوسری طرف اچانک دہشتگردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے، ابھی سبی ریلوے سٹیشن پر کھڑی ریل گاڑی میں ہونے والے دھماکے اور جانی نقصان کی بات ہو رہی تھی کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی سبزی منڈی میں دھماکہ ہو گیا، ٹرین دھماکے میں 18افراد کے جاں بحق ہونے کی خبر تھی کہ اسلام آباد سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے سے پچیس افراد کے جاں بحق ہونے اور پچاس سے زائد زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اب کوئی بھی اچھا رپورٹر سبی والی دہشتگردی کو بلوچ علیحدگی پسندوں اور اسلام آباد والی واردات کو ’’را‘‘ کے کھاتے میں ڈال سکتا ہے اور یہ قیاس آرائی بھی کی جا سکتی ہے کہ یہ واردات امن مذاکرات کے مخالفین کی ہے۔ پھر یہ بھی خبر ہے کہ جنوبی وزیرستان میں طالبان کے دو گروپوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

موجودہ حالت میں یہ بھی حقیقت ہے کہ خواجہ آصف اور سعد رفیق نے بات کی اور جواب میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا بیان آ گیا کہ تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ فوجی ادارے کا تحفظ بھی ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد جہاں لامتناہی تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ شروع ہوا وہاں دونوں وزراء نے وضاحت بھی کی کہ فوج کو بطور ادارہ کچھ نہیں کہا گیا ۔ اس کے بعد وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا تمام ادارے اپنے اپنے حقوق کے دفاع کا حق رکھتے ہیں تاہم پارلیمینٹ بہرطور مقتدر ادارہ ہے۔

اس تمام تر صورت حال میں یہ کہا جا رہا تھا اور ہے کہ فوج اور سیاسی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں، جی یہ بھی درست تو پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟ اب گزشتہ صبح ہی اسلام آباد کی سبزی منڈی میں دھماکہ ہو گیا۔ بم یا بارودی مواد امرودوں کی پیٹی یا پیٹیوں میں رکھا گیا تھا۔ اس تمام تر صورتحال پر تبصرے سے گریز بہتر ہے، البتہ یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ ان حالات میں سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک پیچ یعنی صفحہ پر آنا چاہئے اور قومی قیادت کے اندر بھی اتفاق رائے ضروری ہے، لیکن یہاں تو بات ہی مختلف ہو رہی ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت کو نہ صرف الگ الگ بلکہ متحارب ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو درست طرز عمل نہیں ہے، حالات حاضرہ میں یہ تاریخ کا جبر ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مثالی ہم آہنگی ہو اور تمام امور باہمی مشاورت سے سر انجام دیئے جائیں اور یہ فرض اور ذمہ داری سیاسی قیادت کی ہے کہ ایسے ابہام نہ صرف یہ کہ پیدا نہ ہونے دے بلکہ ایسے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ ملک کا آئین بالا دست ہے۔ پارلیمنٹ مقتدر ادارہ ہے تو یہ بھی آئین ہی کے دائرہ اختیار میں ہے یہ درست کہ پارلیمنٹ آئین کی خالق ہے لیکن آئین میں اسی پارلیمنٹ نے اپنے لئے بھی تو حدود متعین کی ہیں اس لئے پارلیمنٹ اور اراکین کو ان حدود کا احترام کرنا ہو گا۔ اس کے لئے قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے قواعد و ضوابط ملاحظہ کر لئے جائیں تو بہتر ہے۔ اسی طرح اسی آئین نے عسکری ادارے کے فرائض اور مقام کا بھی تعین کیا ہے۔ یہ سب ہے تو پھر یہ شور و شرکیوں؟ سب کو اپنی حدود کا تعین اور احترام ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا۔

توقع کے عین مطابق اسلام آباد دھماکے کی ذمہ داری ان قوتوں کی طرف موڑنے کی شعوری کوشش کی گئی ہے جن کو مذاکرات مخالف کہا جا رہا ہے۔ یہ درست کہ ایسے عناصر ہیں اور اگر یہ ہیں تو پھر انہی کا تو قلع قمع کرنا ہے۔ اس کے لئے دونوں طرف سے مثبت رویے اور اقدامات ہونا چاہئیں تو شرپسندوں کی پکی نشاندہی بھی ضروری ہے لیکن گذارش واقعی یہ ہے کہ عوام یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں تیسری قوت یہ سب کر رہی ہے اور اگر کر رہی ہے تو پھر دونوں نے مل کر اس کا سدباب کرنے کی جو بات کی اس پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟

حالات یقیناًخوشگوار نہیں ہیں۔ اب اگر مذاکرات والے فریق امن کے لئے مخلص ہیں تو پھر نت نئے شکوے اور مطالبے کیوں کئے جا رہے ہیں۔ غیر حقیقی عمل کس طرح ممکن ہے پہلے امن کی طرف تو یقینی قدم بڑھائیں اور خوشگوار ماحول پیدا کریں تو پھر ہی شرپسندوں کا محاسبہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال کور کمانڈروں کے اجلاس اور حکومت کے موقف کے لئے اندرونی کہانی سے پرہیز کر کے دونوں کے سرکاری موقف پر انحصار کرنا چاہئے۔

یہاں ایک گذارش بے جا نہیں، وہ یہ کہ بہت زیادہ ذمہ داری ملک کی سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ نہ صرف سیاسی عناصر اور جماعتوں کے درمیان قومی اتفاق رائے ہونا چاہئے بلکہ سیاسی اور عسکری قوتوں کے درمیان بھی مکمل ہم آہنگی اور نظریاتی اتفاق ہونا چاہئے، یوں بھی سیاسی قیادت کے پیش نظر ہونا چاہئے کہ ایجنسیوں پر انحصار تو کرنا ہے اور یہ ایجنسیاں یقیناً سِول ہیں تو عسکری بھی ہیں۔ حکومت نے تحفظ پاکستان بل پر جو طریقہ اپنایا اور جس طرح حزب اختلاف اور جمعیت علماء اسلام (ف) نے احتجاج کیا وہ تو محاذ آرائی شروع کرنے یا ہونے کے مترادف ہے۔اس صورتحال کو سنبھالنا خود وزیر اعظم کا کام تھا۔ عقاب تو ہر جماعت میں پائے جاتے ہیں ان کو قابو رکھنا قیادت کا کام ہے۔ پہلی فرصت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلائیں تفصیل سے صورتحال کا جائیزہ لیں۔ غلط فہمیاں اگر کوئی ہیں تو ان کو دور کریں اور ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن اور احتجاج کرنے والوں کو بلا کر ان کے تحفظات دور کریں، پارلیمانی سیاست میں انا نہیں ہوتی۔

جہاں تک بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی حالیہ کارروائیوں کا تعلق ہے تو یہ بھی اس اطلاع یا خبر کے پس منظر میں ہوئی ہیں کہ ناراض بلوچوں سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ یہاں بھی طالبان جیسا مسئلہ ہی ہے۔ بہرصورت دہشتگردی ختم اور امن قائم ہونا چاہئے کہ حکومت اور صوبائی حکومتیں سکھ کا سانس لے کر امن و امان بہتر بنا اور جرائم پر قابو پا سکیں۔

مزید : تجزیہ


loading...