کارگل کا فاتح کون؟ بھارت میں انتخابات کے موقع پرنئی بحث شروع

کارگل کا فاتح کون؟ بھارت میں انتخابات کے موقع پرنئی بحث شروع

نئی دہلی (اے این این ) سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان نے بھارتی انتخابات کے شروع ہوتے ہی کارگل کی فتح کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ۔ سماج وادی پارٹی کے رہنما ء اعظم خان نے غازی آباد میں مسلمانوں کے حوالے سے کہا ہے کہ کارگل کی بھارت کیلئے فتح مسلمان فوجیوں کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی نہ کہ ہندو فوجیوں کی وجہ سے ممکن ہوئی تھی۔اعظم خان کے اس مسلم نواز خطاب پر اس وقت کے بھارتی آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل وی کے سنگھ نے حقیقت کی دو ٹوک اور براہ راست تردید کی بجائے یہ ردعمل دیا ہے کہ کارگل کی فتح کسی مخصوص طبقے کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ سب ہندوستانی تھے جنہوں نے کارگل کی جنگ پاکستان سے جیتی تھی۔ واضح رہے یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اتر پردیش کے کسی رہنما کے بیان پر ہندو اکثریت میں بحث کاماحول پیدا کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہی سماج وادی پارٹی کے رہنما نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی رہنما اور وزارت عظمی کے امیدوار نریندرا مودی کو بالواسطہ طور پر کتا قرار دیا تھا۔ نریندرا مودی بی جے پی کی طرف سے وزارت عظمی کے امیدوار قرار پانے کے باوجود بھارت میں متنازعہ ترین انتخابی امیدوار ہیں کہ ان کی وزارت اعلی کے دور میں صوبہ گجرات میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا اور صرف ایک واقعے میں تین ہزار مسلمان مارے گئے تھے۔ اس لیے مسلمانوں میں نریندرا مودی کیلئے قبولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ بھارت کے انتخابی میدان میں ماضی میں بھی مافیاز اور جرائم پیشہ افراد کی بڑی تعداد میں آگے آنے کا ذکر ہوتا رہا ہے۔ اب کی بار بھی مودی کے قریبی ساتھی امیت شا کی اس حوالے سے شہرت زیادہ ہے۔ ان کے بارے میں کہاجاتاہے کہ انہوں 302 افراد کو قتل کیا ہے۔ اسی لیے انہیں غنڈہ نمبر ایک کا خطاب بھی اعظم خان نے ہی دیا ہے

مزید : صفحہ اول


loading...