پاکستان رواں سال چار فیصد خالص قومی پیداوار کا ہدف پورا کرے گا، اسحاق ڈار

پاکستان رواں سال چار فیصد خالص قومی پیداوار کا ہدف پورا کرے گا، اسحاق ڈار

 واشنگٹن( اظہر زمان،بیوروچیف)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے امریکہ کے سامنے پاکستان کی اقتصادی صورتِ حال کی روشن اور امید افزاء تصویر پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس سال چار فیصد خالص قومی پیداور کا ہدف پوراکر لیا جائے گااور ترقی کی رفتار میں اضافے کے باعث انہیں یقین ہے کہ آئندہ سالوں میں یہ پیداوار چھ فیصد تک پہنچ جائے گی، انہوں نے بات واشنگٹن پہنچنے کے بعد امریکی تھنک ٹینک ’’یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس‘‘ میں اپنے پہلے اہم خطاب کے دوران کہی۔ وزیر خزانہ بنیادی طور پر یہاں ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لئے آئے ہیں، تاہم اس موقع پر وہ امریکہ کے اقتصادی اور مالیاتی حکام میں دو طرفہ اقتصادی امور پر بات چیت کریں گے اور ان اجلاسوں میں شریک اپنے پڑوسی ممالک سمیت وزرائے خزانہ سے بھی ملاقاتیں کریں گے، یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ان کے ہمراہ وفاقی سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود خان اور پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی بھی شریک تھے، وفاقی وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی ترقی کے اقتصادی اشاروں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس پر اعتماد کا اظہار کریں اور اس کی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں ضروری تعاون کریں ۔سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں مزید بتایا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت نے صرف آٹھ ماہ کی مدت میں اپنے خزانے میں سترہ فیصد کا اضافہ کیا ہے، زرِ مبادلہ کی ترسیل گیارہ فیصد بڑھی ہے اور برآمدات میں چھ اعشاریہ دو فیصد کا اضافہ ہوا ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اضافے کا سبب وہ اقتصادی اصلاحات ہیں جو عدم مقبولیت کا خطرہ لیتے ہوئے کی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا ہے کہ اس سال عالمی بنک کی طرف سے پاکستان کودورانِ سال ایک ارب ستر کروڑ ڈالر کا آسان قسطوں پر قرضہ مل رہا ہے، جبکہ آئندہ پانچ سالوں میں حاصل ہونے والے اس قرضے کی کل مالیت دس ارب بیس کروڑ ڈالر ہوگی، انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس وقت پاکستان اقتصادی اعتبار سے دنیا میں 44ویں مقام پر ہے اور ہم بہت جلد 18ویں مقام پر پہنچ جائیں گے، انہوں نے مزید بتایا کہ ڈالر کے مقابلے پر پاکستانی کرنسی کے اضافے کے باعث پاکستان کو ساتھ ارب ڈالر کافائدہ ہوا ہے اور حکومت اس منافع کو عوام تک منتقل کرنے کے سلسلے میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی کر رہی ہے، انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ ایک دولت ملک کی طرف پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد کے باعث ایسا ہوا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے معمولی سا اثر ضرور پڑا ہوگ ا،لیکن پاکستانی کرنسی میں استحکام پاکستان کی ٹھوس اقتصادی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے پریس اٹیچی ندیم ہتیانہ نے روزنامہ’’پاکستان‘‘ کو وفاقی وزیر خزانہ کا واشنگٹن کا چھ روزہ دورہ 13اپریل تک جاری رہے گا، جس کے بعد وہ واپس پاکستان روانہ ہوجائیں گے، انہوں نے بتایا کہ وزیر خزانہ 9اپریل کو دوپہر سے قبل اکنامک ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شریک ہوں گے اور نائب وزیر خارجہ بل برنز سے ملاقات کریں گے، اور سہ پہر میں نائب وزیر اخزانہ سارہ رسکن اور روپیک کے صدر لٹل فیلڈ سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔

مزید : صفحہ اول


loading...