دینی مدارس میں "لیپ ٹاپس "کی تقسیم

دینی مدارس میں "لیپ ٹاپس "کی تقسیم
دینی مدارس میں

  

وطن عزیز میں دینی تعلیم کا مسئلہ گذشتہ طویل عرصہ سے زیر بحث اور حل طلب رہا ہے ۔ یہ مسئلہ صرف دینی نقطہ نظر سے ہی نہیں، بلکہ تہذیب وثقافت اور تمدن ومعاشرت کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک کے کروڑوں عوام اسلامی ضابطۂ حیات کو اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کرنے کے ہمیشہ آرزومند رہے ہیں، لیکن جب تک عملی زندگی کو اس نظام فکر سے مکمل طو رپر ہم آہنگ نہ کیا جائے اس وقت تک اس کے فوائد وثمرات سے استفادہ ممکن نہیں ۔ بلاشبہ جدید عصری تناظر اور بین الاقوامی پس منظر میں موجودہ حکومت اس بات کی متمنی ہے کہ ملک میں مروّج دو متوازی نظام ہائے تعلیم (سکول ،کالجز اور دینی مدارس) کے مابین موجودہ فاصلے امکانی حد تک کم کر کے انہیں ہم آہنگ کیا جائے ۔ دینی مدارس کو عصری تقاضوں سے روشناس کرانے کی کاوشیں محض نظری اور فکری حد تک گذشتہ کئی عشروں پر محیط ہیں ،تاہم ان میں عملی اقدامات کا فقدان رہا، جس کے سبب نہ تو حکومت اور مدارس کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہو سکا اور نہ ہی یہ کاوشیں ثمربار ہوسکیں ۔ خادم اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے خطۂ پنجاب میں تعلیمی انقلاب برپا کرنے کے لیے جہاں سکول، کالجز اور یونیورسٹیز کے ہونہار اور ذہین طلباء کی محنت اور صلاحیتوں کے اعتراف کے طور پر، نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلباء وطالبات کو "لیپ ٹاپس" سے نوازا، وہیں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دینی مدارس کے درسِ نظامی کے ذہین ، قابل اور لائق طلباء وطالبات کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے "درجہ عالیہ "یعنی بی اے کی سطح پر نمایاں اور امتیازی حیثیت حاصل کرنے والے طلباء وطالبات کو بھی" لیپ ٹاپس" سے سرفراز کیا اور یوں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دینی مدارس کے طلباء اپنی ذہنی اور تخلیقی صلاحیتوں کی بناء پر کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء کے شانہ بشانہ آکھڑے ہوئے ۔

یہ امر بھی اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دینی مدارس اور اس کا ایجوکیشن سسٹم اپنے اندر بڑی گہرائی اور پختگی رکھتا ہے ۔ نصابِ تعلیم کے حوالے سے یقیناًیہ بات معتبر ہے کہ اسے عصر حاضر سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، جس کے لیے دینی مدارس کے اپنے اپنے وفاق اور پھر ان کے اندر ان کی اپنی نصاب کمیٹیاں اور" بورڈ آف سٹڈیز" ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں، جس طرح سکول ، کالجز اور یونیورسٹی کے ذمہ داران اپنی کارکردگی اور نتائج بہتر بنانے کے لیے فکر مند رہتے ہیں ،اسی طرح دینی مدارس میں بھی یہ سوچ اور فکر پوری طاقت اور توانائی کے ساتھ موجود ہے ۔ تاہم جہاں تک مدارس کے نظام تدریس کا تعلق ہے تو اس کا مقابلہ آپ دنیا کے کسی بھی اعلیٰ سسٹم سے کر سکتے ہیں۔ دینی مدارس کے نظام تدریس میں یہ امر بہت بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ ان کا طالب علم یہ قدرت اور ملکہ رکھتا ہو کہ وہ مشکل سے مشکل مضمون اور مغلق سے مغلق عربی عبارت اور کتاب پڑھ سکے اور سمجھ سکے اور اس کے اندر غور وفکر کی صلاحیت پیدا ہو ۔ اس کے اندر قوت تنقید بیدار ہونی چاہیے تاکہ وہ اندھوں اور جاہلوں کی طرح نہ ہر چیز کو قبول کرے اور نہ ہر چیز کو رد کر دے ۔ اس کے اندر خود اعتمادی کا ملکہ پیدا ہوتاکہ وہ محض مقلد اور تابعدار نہ بنے۔

ان مقاصد کے لیے ایسی کتابیں ان کے نصاب میں شامل ہیں جن کی عبارت مشکل ، تراکیب پیچیدہ اور معنی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ جن کو پڑھنے اور سمجھنے میں دِقّت اوردشواری کا سامنا ہو۔ مفہوم متعین کرنے میں شاگرد اور استاد کو خوب محنت کرنا پڑے ۔طریقہ تدریس یہ ہے کہ پہلے طالب علم خود اس کتاب کو پڑھتا، اس کا مفہوم اپنے طور پرمتعین کرتا اور اس پر اپنے ذہن میں اعتراض وارد کرتا اور پھر اس کا جواب سوچتا ۔ اس کے بعد جب استاد کے سامنے کلاس میں درس شروع ہوتا تو استاد ہر طالب علم کو بولنے کا موقع دیتا تاکہ وہ پڑھی ہوئی عبارت کے بارے میں اپنا مفہوم پیش کرے ۔ اگر کوئی طالب علم گفت وشنید اور بحث وتمحیص میں حصہ نہیں لیتا تو وہ قبیح اور کُند ذہن شمار ہوتا ۔ استاد کے سامنے مفہوم متعین کیا جاتا ۔ صرفی ، نحوی ، عقلی ، فکری۔۔۔۔ جس قدر بھی اعتراضات اور شبہات اس مفہوم پر وارد ہو سکتے طلباء اپنے استاد کے سامنے اس کو پیش کرتے ۔ استاد ان سب کا جواب دیتا۔

اس ذہنی ورزش کا سلسلہ گھنٹوں جاری رہتا ۔ جب تک پوری طرح طلباء مطمئن نہ ہوتے تدریس کا سلسلہ ختم نہ ہوتا ۔استاد اپنی جگہ نہیں چھوڑتا تھا، درس یا پیریڈ ختم ہوجانے کے بعد طلباء نئے سبق کے لیے دوسرے استاد کے پاس جاتے، جو اس امر کا غماز ہے کہ اس نظام تدریس میں استاد کا مقام کس قدر ارفع و اعلیٰ ہے۔دوپہر تک باقاعدہ تدریس اختتام کو پہنچتی ۔استاد رخصت ہوتا، لیکن طالب علم ظہر کے بعد صبح کے پڑھے ہوئے اسباق کا اعادہ کرنے بیٹھ جاتا ۔ اعتراضات، شہبات اور جوابات سب کو دہراتا۔ طالب علم آپس میں مذاکرہ کرتے ۔ گویا ایک سبق تین مرحلوں سے گذرتا ۔ ایک دفعہ طالب علم استاد کے پڑھانے سے پہلے سبق از خود پڑھتا ، دوسری دفعہ استاد کے سامنے اور تیسری دفعہ اعادہ کی صورت میں۔ اس طریقہ تدریس سے طالب علم کے اندر مشکل ترین عبارت اور کٹھن ترین مضمون کو سمجھنے کی صلاحیت کا پیدا ہونا ایک فطری بات ہے ۔ دینی مدارس کے طلباء میں غور وفکر کرنے اور ردّ و قبول کا ملکہ عام طالب علموں کی نسبت زیادہ ہوجاتا ہے۔ اس طریقہ تدریس کے سبب طلباء میں اظہار بیان پر قدرت اور قوت گویائی۔۔۔ بلکہ سب سے بڑھ کر دینی مدرسہ کے طالب علم کے اندر ایک طرح کی خود اعتمادی پیدا ہوجاتی ہے جو سات آٹھ سال کی اس تدریسی مشق کا نتیجہ ہے ،جس کے سبب وہ زندگی بھر وہ تحصیل علم کے راستے میں کسی بھی کٹھن مرحلہ سے نہیں گھبراتا ۔

یہ ہے وہ نظام تدریس۔۔۔ جس کا مقابلہ شاید دنیا کا کوئی اور نظام تدریس نہ کر سکتا ہو۔ بدقسمتی سے یہ طبقہ نظر انداز ہوا جس کے سبب مدارس کے طلباء میں ان محرومیوں نے بھی جنم لیا جن کے مناظر ہمیں بعض اوقات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ تاہم حکومت پنجاب نے دینی مدارس کے طلباء کی محرومیوں کے ازالے کی طرف بھرپور انداز میں توجہ دی ہے ، "لیپ ٹاپس"کی تقسیم اس کا پہلا زینہ ہے ۔ لیپ ٹاپس کی یہ عطائیگی امیداور روشنی کی وہ کرن ہے جس سے مستقبل کے علماء قومی سطح پر روادارانہ فلاحی معاشرے کی تشکیل اور بین الاقوامی سطح پر اسلام کے صحیح تشخص کو اجاگر کرنے کا فریضہ زیادہ موثر انداز میں ادا کر سکیں گے۔ دینی مدارس کو جدید ٹیکنالوجی سے بہرہ مند کرنا اور ان مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کو جدید رحجانات سے روشناس کروانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس سے مدارس کے ذمہ داران بخوبی آگاہ ہیں ۔تاہم اس سلسلے میں حکومت پنجاب اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ہمیشہ مستعد اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ سے ہمہ وقت قریبی رابطے میں ہے، بایں وجہ دینی مدارس کے طلبہ میں لیپ ٹاپس کی تقسیم کا فارمولا اتفاق رائے اور احسن طریق سے تشکیل دیا گیا۔ جس کے مطابق مدارس دینیہ کے وفاق ہائے خمسہ میں طے شدہ شیڈول کے مطابق راولپنڈی ، گجرات ، لاہور ، فیصل آباد اور ملتان کو مرکز بنا کر4000 لیپ ٹاپس کی تقسیم کا یہ عمل مکمل کیا گیاہے ، جو کہ لائق تحسین اور قابل صد مبارک باد ہے ۔

مزید :

کالم -