’’ڈونٹ وری‘‘ کچھ نہیں ہوگا!

’’ڈونٹ وری‘‘ کچھ نہیں ہوگا!
’’ڈونٹ وری‘‘ کچھ نہیں ہوگا!

  

آئس لینڈ کے وزیر اعظم سگمنڈر ڈیوڈ پانامہ لیکس میں نام آنے کے بعدعوامی دباؤ کا مقابلہ نہ کرسکے اور عہدے سے مستعفی ہو گئے۔دیگر مغربی ممالک میں اس سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور امکان ہے کہ یہ تحقیقات شفاف ہی ہوں گی، جس کے نتیجے میں متعدد مقتدر شخصیات کی چھٹی ہوسکتی ہے۔ ان خبروں سے شہ پاکر ہمارے کچھ فیصدسادہ دماغ یا غائب دماغ عوام اس خوش فہمی کا شکار بن گئے ہیں کہ شائد ہمارے وزیراعظم بھی مستعفی ہونے پرمجبور ہو جائیں۔ اس سلسلے میں اس خاکسار کی پیشین گوئی ہے کہ ’’کچھ نہیں ہوگا‘‘۔ آپ غلط سمجھے ،ہم کوئی پیر،عامل یا بنگلہ دیشی بابا نہیں ہیں ،بلکہ پاکستان کی مختصر تاریخ یہی نتیجہ دیتی ہے کہ یہاں چھوٹے جرم پر تو فوراً دھر لیا جاتا ہے، لیکن بڑے بڑے جرائم پر کچھ نہیں ہوتا۔ یقین نہ آئے تو دوماہ بجلی یا گیس کا بل نہ دیں، آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گاکہ کب آپ کا میٹر اتر کر محکمے کے پاس یہنچ گیا ہے ۔ پھر دو ہزار کا بل آپ کو آٹھ دس ہزار میں پڑے گا۔ ہاں اگر آپ بڑے آدمی ہیں اور آپ کے نام محکمے کے کروڑوں روپے نکلتے ہیں تو پھر ساری سہولتیں آپ کے لئے ہیں۔ آپ سے بار بار درخواست کی جائے گی ، اقساط کی سہولت بھی دی جائے گی ، پھر اخبارات میں اشتہارات کے مطابق پہلے پچیس پھرپچاس فیصد رعایت دی جائے گی اور جرمانہ بھی نہیں کیا جائے گا ۔

ہماری معلومات بس یہاں تک ہی ہیں، کیونکہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ اس کا یا تو محکمے کو علم ہوگا یا پھر ’’صاحب بہادر‘‘ کو۔ ہم سے تو یہ عقدہ حل نہیں ہوتا کہ غریب کا میٹر آپ دو ہزار کے بل پر اتار لیتے ہیں تو ان بڑے لوگوں کے ذمے کروڑوں کیسے ہوجاتے ہیں ، ان کا میٹر کیوں نہیں اترتا؟۔۔۔پانامہ لیکس میں برطانیہ کے وزیر اعظم کا والد کے حوالے سے اور ہمارے وزیر اعظم کا اولاد کے حوالے سے نام آیا ہے۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی کہ ہماراسکور ان کے ایک کے مقابلے میں تین ہے، یعنی ہم اس میدان میں ان سے آگے ہیں۔البتہ تحقیقات کے سلسلے میں وہ ضرور فکر مند ہوں، ہمیں اس فکر مندی سے ’’استثنا‘‘ حاصل ہے۔دلیل اس کی یہ ہے کہ ان کے ملک میں ایک ڈاکٹر عمران فاروق قتل ہوا تو وہ اب تک بال کی کھال نکالنے سے باز نہیں آرہے۔ ہمارے ہاں حکیم سعید شہید، رئیس امروہوی ،عظیم احمد طارق سمیت کم از کم بیس ہزارافراد مٹی ہوگئے تو کیا ہوا؟۔۔۔ فرانس میں ریلوے کا ایک حادثہ ہوا تو متعلقہ وزیر مستعفی ہوگیا، ہمارے ہاں جب ایک بڑا حادثہ ہوا تو ایک صحافی نے وزیر ریلوے سے اس کی مثال دیتے ہوئے پوچھا کہ آپ کا کیا ارادہ ہے؟ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ وزیر موصوف نے برہمی سے کہا کہ مَیں کوئی ریلوے گارڈ ہوں، مَیں کیوں استعفا دوں؟ اس کے بعد بھی حادثے ہوئے، ریلوے تباہ ہوگئی، کسی کو کچھ نہیں ہوا؟

سابقہ دور میں سپریم کورٹ نے پورا ازور لگا لیا کہ سوئس اکاؤنٹس کی دولت واپس لائی جائے، کیونکہ وہ پاکستان کی ہے مگر وزیر اعظم کی قربانی دے دی گئی، مگر دولت واپس نہ لائی جاسکی۔۔۔اسی دور میں ایک میمو اسکینڈل کا بھی بہت شور ہوا۔ کہا گیا کہ صدر، وزیر سب جائیں گے، کوئی گیا؟ کوئی بھی نہیں ۔۔۔ کتنے ہی عرصہ سے ملک میں گدھے ذبح کئے جارہے ہیں ، عوام بھینس کا گوشت سمجھ کر اسکی چانپیں اور کڑاہی کھاگئے ۔ ملزم پکڑے بھی جاتے ہیں اور ان کی تصاویر اخبارات میں شائع بھی ہوتی ہیں ،لیکن کسی ایک کو بھی سزا نہیں ہوتی ، وہ ضمانتیں کر ا کر پھر وہی کام شروع کر دیتے ہیں ۔۔۔ زین قتل کیس کی مثال لے لیں۔ پولیس سربراہ نے کہا کہ ہم اس کو مثالی کیس بنائیں گے۔ کیس واقعی مثال بناکہ چودہ گواہ مکر گئے، کانجو صاحب کے پاس معلوم نہیں کون سی ’’گیدڑ سنگھی‘‘ تھی کہ مدعی بھی بیٹھ گیا۔ شائد اسی کیس کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے فرمایا تھا کہ ’’مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا‘‘۔۔۔ سنا کرتے تھے کہ وہی ہوتا ہے جو منظورخدا ہوتا ہے ،لیکن لگتا ہے کہ خدا بھی اس قوم سے ’’بے نیاز‘‘ ہوگیا ہے، اسی لئے واقعی کچھ نہیں ہوتا۔

ہمیں اپنے وزیر اعظم سے یہی کہنا ہے کہ ’’ڈونٹ وری‘‘ کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔ اخبارات اور ٹی وی چینل والے دو چار دن شور مچا کرخاموش ہوجائیں گے ۔ ان کا کام ہی شور مچانا ہے ۔اسکینڈل بڑا ہو یا چھوٹا، بس دو چار دن کا ہی مہمان ہوتا ہے ،کیونکہ اس کے بعد پھر کوئی نیا اسکینڈل آجاتا ہے۔ ’’اسکینڈلز‘‘ کی سیل لگی ہوئی ہے ۔۔۔ البتہ ہمیں ان سے یہ گلہ ضرور ہے کہ آپ کو اس سلسلے میں پندرہ منٹ لمبی تقریر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، بلکہ مختصر بات کافی تھی۔ ہم آپ کی جگہ وزیر اعظم ہوتے تو ۔۔۔کیوں جی اگر رحمان ملک جن کو سورۂ اخلاص بھی نہیںآتی، اس اسلامی ملک کے وزیر داخلہ بن سکتے ہیں تو ہم جنہیں پوری سات سورتیں آتی ہیں، اس تجرباتی ملک کے وزیراعظم کیوں نہیں بن سکتے؟ بات بیچ ہی میں رہ گئی، ہم وزیر اعظم سے گلہ کررہے تھے کہ آپ کو اس سلسلے میں معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کی ضرورت نہیں۔ ہم آپ کی جگہ وزیر اعظم ہوتے تو ٹی وی پر سب سے پہلے قومی ترانہ بجتا۔اس کے بعد ہماری مبارک صورت ٹی وی اسکرین پرظہور پذیر ہوتی ،پھر ہمارے منہ سے یوں پھول جڑتے: ’’میرے عزیز ہم وطنو! کر لو جو کرنا ہے ۔ پاکستان پائندہ باد‘‘ ۔

مزید :

کالم -