اقتصادی لانگ مارچ

اقتصادی لانگ مارچ

وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے،جس ملک میں کوئی سرمایہ کار دس ہزارڈالر کی سرمایہ کاری کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا وہاں پر سی پیک اور دیگر منصوبوں کی صورت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں قوم کو مایوسیوں سے نکالنے کے لئے سیاسی نہیں، اقتصادی لانگ مارچ کی ضرورت ہے۔ حقیقی اور ٹھوس ترقی کے لئے وزیر داخلہ احسن اقبال نے جن پالیسیوں کو ضروری قرار دیا ہے، اُن کی موجودہ حالات میں اشد ضرورت ہے۔عالمی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں معاشی استحکام اور ترقی کو یقینی بنانے کے سوا چارا نہیں۔اکیسویں صدی میں معیشت کے حوالے سے مضبوط اور ترقی یافتہ ممالک ہی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔عالمی برادری میں اہمیت و عزت حاصل ہوتی ہے تو عوام بھی آسودگی اور خوشحالی سے بھرپور زندگی بسر کرتے ہیں ،جبکہ سیاست سمیت تمام شعبوں میں استحکام کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔خوش قسمتی سے ہمیں چین جیسے مخلص اور عظیم دوست کی وجہ سے سی پیک منصوبے میں برابر کی شراکت داری کا موقع مل رہا ہے، دُنیا کے بیشتر ممالک کی نظریں سی پیک پر ہیں،جس کی وجہ سے تین براعظموں کو اقتصادی روٹ ایک دوسرے سے منسلک کر کے قریب لائے گا۔ سی پیک کا کمال ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔عالمی ماہرین کی رائے ہے کہ 2030ء تک پاکستان انتہائی مستحکم معیشت والے پچاس ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ایسے تمام تجزیوں سے پاکستانی قوم فخر سے سر اونچا کر کے محفوظ مستقبل کو یقینی سمجھ سکتی ہے، تاہم ہمارے بیرونی دشمنوں کی سازشیں بھی برابر ہو رہی ہیں۔سی پیک کے منصوبوں کی راہ میں مختلف حیلوں بہانوں سے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔اس میں امریکہ اور بھارت پیش پیش ہیں۔ امریکہ کے لئے چین کا سی پیک منصوبے کے ذریعے آنے والے دور میں اقتصادی قیادت کے طور پر اُبھرنا کسی طرح بھی قابلِ برداشت نہیں ہے۔ بھارت کو بھی چین کے ساتھ ساتھ پاکستان کی خطے میں اہمیت اور معاشی ترقی اور محفوظ مستقبل قابلِ قبول نہیں۔ اِن دونوں ممالک کی تمام تر سازشوں اور رکاوٹوں کا مقابلہ بڑی دانشمندی اور جرأت کے ساتھ چین کی طرف سے کیا جا رہا ہے اور پاکستان بھی اپنے عظیم دوست کے ساتھ کھڑا ہے۔ ایک اور تکلیف دہ اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ وطنِ عزیز میں بعض سیاسی جماعتوں کے رہنما سیاسی انتشار اور عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ محض اقتدار حاصل کرنے کے لئے وہ ایسا کردار ادا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے شاندار سی پیک منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ایسے نادان دوست انتہائی ضروری منصوبوں کی افادیت کو بھی نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔اگر سیاسی صورتِ حال پُرسکون اور بہتر نہیں ہو گی تو اس کے منفی اثرات سے معاشی مستقبل متاثر ہوگا۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے درست کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ہمیں اقتصادی لانگ مارچ کی ضرورت ہے،جہاں تک سیاسی رہنماؤں کے کردار کی بات ہے،انہیں اپنی سیاست کے حوالے سے اِس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ملک اور قوم کا مستبل کسی طور بھی متاثر نہ ہو۔پاکستان اگر اس راہ پر چل پڑا، جو معاشی مستقبل کی ضامن بنے گی اور اگلے دس بارہ برسوں میں مستحکم معیشت کے حامل50 ممالک میں شامل ہو جائے گا تو اس پر سبھی کو خوش ہونا چاہئے۔ سیاسی مفادات کی بجائے قومی مفادات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔اندرونی امن اور استحکام کی مدد سے امریکہ اور بھارت جیسے ممالک کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان بہتر طور پر چین کی مدد کر سکتا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ