پاکستان کی 70 سالہ فکری و علمی تحریک کا ایک باب

پاکستان کی 70 سالہ فکری و علمی تحریک کا ایک باب
پاکستان کی 70 سالہ فکری و علمی تحریک کا ایک باب

  

گزری صدی تاریخی واقعات سے بھری ہوئی ہے اس صدی میں دنیا نے دو عظیم جنگوں کی ھولناکی دیکھی جس میں کروڑوں انسان ہلاک ہولناکی کروڑوں مجروح ہوئے۔ بے شمارمہاجر ہوئے۔

مسلمانوں کی عظیم خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا۔سامراجی نو آبادیاتی نظام قائم ہوا۔ سفید انسان کی حکمرانی کا نظام قائم ہوا۔برطانیہ عظمیٰ، عالمی سیادت کے منصب سے معزول ہوا اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ عالمی قیادت کے منصبِ جلیلہ پر فائز ہوا۔ گزری صدی میں عظیم اشتراکی سلطنت کا1923ء میں قیام ایک تاریخی واقعہ ہے پھر 70 سال تک سرمایہ دارانہ نظام اور عالمی اشتراکیت کے درمیان سرد جنگ کا دور ہماری تاریخ کا اہم باب ہے۔

ریاست اسرائیل کا قیام ایک انتہائی اہم مذہبی وقوعہ ہے برطانوی عیسائی حکمرانوں نے اسے عربوں کے سینے میں خنجر کی طرح قائم کیا اوراب امریکہ اسکی تعمیر و ترقی کا ضامن بنا ہواہے دونوں اقوام ریاست اسرائیل کے قیام کو " خدائی وعدہ" سمجھتی ہیں اس کے قیام اور ترقی کی کاوشوں میں بھی مذہبی جذبہ شامل رہا ہے۔

یہودیوں کے مطابق ڈھائی ہزار سال بعد یروشلم کا اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت بننا یقیناًایک بڑا کام ہے۔ ہیکل سلیمانی کی، تیسری تعمیر بھی " خدائی وعدہ" ہے جو ان کے بقول پورا ہونے کو ہے۔ ھیکل کی تعمیر مسجد اقصیٰ کو گرا کر ہی ممکن ہو گی اور یہودی اس کے لئے کاوشیں بھی کر رہے ہیں۔

گزری صدی کی آخری دھائی میں سوویت یونین کے 16 ٹکڑوں میں تقسیم ہوجانے کے بعد امریکی سامراجیت کا سکہ جم گیا۔ امریکہ نے خود کو عالمی سیادت کے منصب پر بلا شرکت غیرے فائز کر لیا اور عالم اقوام پر اپنی حاکمیت کا سکہ چلانا شروع کر دیا ۔

" تاریخ کا خاتمہ" اور تہذیبوں کا تصادم" جیسی نظریہ ساز کتب کے سائے میں عالمی بساطِ سیاست کی ترتیب نو کا آغاز ہوا۔ اسلام اور مسلمان اس بساط میں ولن قرار پائے اور پوری دنیا میں اسلام اور اہل اسلام کو تختہ مشق بنانا شروع کیا گیا آپریشن ڈیزرٹ سٹارم ڈیزرٹ شیلڈ اور 9/11 سے ہوتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف تہذیبی جنگ سرزمین شام تک آن پہنچی ہے۔ مشرق مغرب اور شمال جنوب ہر سو مسلمانوں کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے۔ اس قتلِ عام میں صلیبی جذبہ کا رفرما ہے

گزری صدی میں خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جب استعماری قوموں نے نو آبادیاتی نظام کے ذریعے مسلم علاقوں پر قبضہ کیا تو مسلمانوں میں مزاحمتی جذبات اور تمدنی شعور پیدا ہونا شروع ہوا۔

آزادی کی تحریکیں شروع ہوئیں۔ سیاسی جدوجہد شروع ہوئی۔ بیداری کی تحریکیں شروع ہوئیں، جن کے نتیجے میں آج 59 آزاد مسلم ممالک دنیا کے نقشے پر موجود ہیں۔ مسلمان ایک تہذیبی قوت کے طور پر دنیا میں موجود ہیں

۔ اسلام ایک موثر اور غالب تہذیبی طاقت کے طور پر دنیا میں موجود ہی نہیں، بلکہ فطری انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ ڈوبتی اور کمزور ہوتی مغربی تہذیب کے متبادل کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔

دورِ حاضر کی اسلامی فکری اور تحریکی دنیا میں جن افراد کے فکری اثرات دیکھے جا سکتے ہیں، ان میں سید مودودی نمایاں ہیں۔ مصر کے حسن البناء (اخوان المسلمون کے بانی) سید قطب، عبدالقادر عودہ، محمد حسنین ھیکل، سعودی عرب کے محمد بن عبدلوھاب، ایران کے امام خمینی اور علی شریعتی، ہندوستان کے علامہ اقبال ابوالکلام آزاد مولانا قاسم نانوتوی(بانی مدرسہ دیوبند) اور فرانس کے ڈاکٹر حمید اللہ صدیقی بھی ایسے ہی افراد میں شامل ہیں۔ دورِ حاضر کے عالم اسلام میں چلنے والی تحاریک پر انہی افراد کی فکری چھاپ نظر آئے گی۔

عالم عرب میں حسن البناء کی فکری تحریک کو دبانے کے لئے ایک عیسائی دانشور نے بعثی نظریات کا پرچار شروع کیا خالص اسلامی فکر کے مقابلے میں عرب قوم پرستی کا پرچار کیا پھر بعث پارٹی کی تشکیل کے ذریعے اسے مصر، شام اور عراق پر مسلط بھی کر دیا۔

70 سالوں سے زائد عرصہ تک اخوان کو کچلنے کے بعد بھی عرب معاشرے میں آج اگر لادینیت اور بعث ازم کی مخالفت موجود ہے تو یہ اس فکری تحریک کا نتیجہ ہے ۔

اخوانی فکر صیہونی اور صلیبی استعمار کے خلاف سینہ سپر ہے ہندوستان ، بنگلہ دیش اور پاکستان میں لڑی جانے والی نظریاتی اور فکری جنگ فکر مودودی کا نتیجہ ہے ایوب خان کے دور میں مسئلہ قادیانیت لکھنے پر مولانا مودودی کو سزائے موت بھی سنائی گئی۔

پھر جماعت اسلامی پر پابندی بھی لگائی گئی۔ بھٹو دور میں سوشلزم کا پرچار کیا گیا۔ فکر مودودی نے انکی ایک نہیں چلنے دی 70/60 کی دھائی میں کچھ نام نہاد علما بھی مولانا کی تضحیک کیا کرتے تھے، اسی دور میں نظریاتی میدان میں غلام احمد پرویز کی تقاریر و تصانیف نے بھی تہلکہ مچایا ہوا تھا پرویز صاحب کی تحریروں میں گہرائی اور گیرائی پائی جاتی تھی ایک طبقہ ان کا معتقد بھی تھا۔

انہی میں ایک نام بہت مشہور تھا ڈاکٹر غلام جیلانی برق۔ یہ فلسفے کے استاد تھے فکرِ پرویز سے نہ صرف متاثر تھے، بلکہ اس کے پرچار ک اور داعی بھی تھے کئی کتب کے مصنف بھی تھے ان کی کتب فکری و نظریاتی حلقوں میں پڑھی جاتی تھیں سیکولر اور ملحد عناصر اسلام کے خلاف بات کرتے وقت انکی کتب کے حوالے بھی دیا کرتے تھے ۔

انکی دو اسلام ، دو قرآن،من کی دنیا جیسی کتب خاصی مشہور تھیں وہ بڑے منطقی انداز میں لکھا کرتے تھے، اپنے دورِ طالبعلمی میں ہم رسل، ابوالکلام ، کارلائل، راجر بیکن ، فرانس بیکن، سبط حسن، عبداللہ ملک،خلیل جبران کو پڑھتے پڑھتے سید مودودی سے متعارف ہوئے ۔

دینیات، سود ، شہادت حق، مسئلہ جبرو قدر، الجہاد فی الاسلام اور خلافت وملوکیت کا مطالعہ کیا۔پھر تفیہم القرآن کے ساتھ جڑُ گئے مولانا مودودی کے بارے میں ایک بات مشہور تھی کہ وہ اپنے خلاف لکھی جانے والی تحریروں کا جواب نہیں دیتے تھے، لیکن جب ان کی کتاب "سنت کی آئینی حیثیت" پڑھی تو پتہ چلا کہ یہ دراصل احادیث رسولﷺکے بارے میں غلام احمد پرویز کے افکار و نظریات کے رد میں لکھی گئی ہے یہاں سے غلام احمد پرویز سے واقفیت ہوئی اور ہم نے سوچا کہ جس شخص کے نظریات کے رد میں سید مودودی نے پوری کتاب لکھی ہے، وہ شخص کتنا بڑا عالم ہو گا۔

پھر ہم گلبرگ میں چند ایک مرتبہ پرویز صاحب کی محافل میں بھی شریک ہوئے ان سے گفتگو بھی کی اور اسطرح ان کے لٹریچر سے استفادہ کرنے کا شوق پیدا ہوا۔" انسان نے کیا سوچا" ان کی ایک بہت اعلیٰ تصنیف ہے جو انسانی علم و فکر کے ارتقاء سے متعلق ہے ۔

ڈاکٹر غلام جیلانی برق سے تعارف بھی اسی دور کی یادگار ہے۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق، پرویزی فکر کے خوشہ چیں اور مبلغ تھے، ان کی تحریروں میں فکری لطافت اور فلسفیانہ کاٹ تھی جو ان کی تحریروں کا مطالعہ کرتا وہ ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ ہم بھی ان کے چاہنے والوں میں شامل تھے۔ اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں حصول علم کے دوران نظری و فکری بحث و مباحثہ ہوا کرتا تھا۔

عرب اساتذہ کی موجودگی نے ماحول کو " علمی اور دینی" بنا رکھا تھا پھر شیخ الکبیر ڈاکٹر عبداللہ عزامؒ کی موجودگی نے تحریکی اور جہادی فضا قائم کر رکھی تھی۔ جہادی لیڈران، انجینئر گلیدین حکمتیار، عبدالرسول سیاف، پروفیسر مجددی ، پیر جیلانی، مولانا جلال الدین حقانی (بانی حقانی نیٹ ورک) پروفیسر برھان الدین ربانی (مرحوم) اور شمالی اتحادی لیڈر احمد شاہ مسعود کی باتیں اور کارنامے زیر بحث آتے تھے۔

اسی دور میں عبداللہ عزام کی وساطت سے علامہ احسان الہی ظہیر سے بھی تعارف ہوا انکی قادیانیت ، بریلویت اور شیعیت پر علمی تصانیف کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا شیخ عزام ، جنرل ضیاء الحق کے بہت زیادہ معتقد تھے، ان کی جہادِ افغانستان کی پالیسی کے باعث انہیں عالم اسلام کا لیڈر قرار دیتے تھے عبدالرسول سیاف کی سلفیت(اہل حدیث) کے باعث انہیں زیادہ پسند کرتے تھے، لیکن حکمتیار کی موثر جہادی سرگرمیوں کے باعث ان کے لئے بھی رطب اللسان رہتے تھے۔

اس دور میں تحریکی، علمی اور جہادی لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں، ملاقاتوں کے اسی سلسلے میں ہم کیمبل پور سے اٹک ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے گھر جا پہنچے حافظ محمد عبداللہ جو آج کل اسلامک سینٹر پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر آف اسلامک سٹڈیز کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں،بھی میرے ہمراہ تھے وہ اُس وقت اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں کلےۃ الشریعہ کے طالبعلم اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم تھے۔ ہم نے کیونکہ غلام احمد پرویز اور غلام جیلانی برق کو پڑھا ہوا تھا انکی فکری اور علمی بلا غت سے واقف تھے، اس لئے ہمارے ذہنوں میں کئی سوالات تھے، جن کے جواب برق صاحب سے سننا چاہتے تھے، ہم موٹر سائیکل پر سوا ر 80/90 کلو میٹر کا سفر کر کے ان کے گھر پہنچے وہ اس وقت ضعیف العمر اور صاحبِ فراش تھے، انہوں نے ہمیں خندہ پیشانی سے وصول کیا خاطر تواضع کی ۔

مولانا مودودی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بلا تامل فرمایا" ان کے بارے میں کیا کہتے ہو وہ اپنے زمانے کا مجدد ہے " ہم حیران رہ گئے کہ جو شخص ایک عرصے سے مولانا کی فکر کا ناقد اور مخالف رہا ہے وہ ان کے بارے میں اتنی بڑی بات کہہ رہا ہے۔

پھر ہم نے انکی اپنی نظریاتی و فکری تحریروں کے بارے میں سوال کیا تو کہنے لگے" وہ سب کچھ دور جہالت تھا" ہم مزید حیران و پریشان ہوئے کہ تین دھائیوں تک پرویزی فکرو عمل کے بارے میں تبلیغ کرنے والا شخص اپنے فکری اثاثے کے متعلق کیا کہہ رہا ہے۔

انہوں نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے اپنی شخصی لائیبریری کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے اور باقی کتب کیمبل پورکی بلدیہ کی لائیبریری کو تحفتاًدے دی ہیں، کیونکہ ان کے وارثان کو انکی کتب اور کتب خانے سے دلچسپی نہیں تھی ۔

برق صاحب ہمیں اپنی فکری اٹھان اور پھر " فکر پرویز" سے تائب ہو جانے کے بارے میں بتاتے رہے تقریباًڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات کے بعد ہم نے واپسی کی راہ لی۔ ایک بڑے سکالر سے ملاقات کی حسین اور حیران کن یادیں لئے ہم واپس اسلام آباد کی طرف عازم سفر ہوئے۔

مزید : رائے /کالم