المصطفےٰ ٹرسٹ: پاکستان کا ایک بے مثال رفاعی ادارہ

المصطفےٰ ٹرسٹ: پاکستان کا ایک بے مثال رفاعی ادارہ
المصطفےٰ ٹرسٹ: پاکستان کا ایک بے مثال رفاعی ادارہ

  

چند روز پہلے راولپنڈی سے کرنل عبیدالرحمن کا فون آیا کہ 12اپریل 2018ء کو DHA لاہور کے کلب کمیونٹی سنٹر (Jبلاک) میں ایک عشائیہ دیا جا رہا ہے۔

یہ تقریب المصطفیٰ ٹرسٹ کے لئے چندہ اکٹھا کرنے (فنڈ ریزنگ) کے سلسلے میں ہو رہی ہے، اور آپ سے شرکت کی درخواست ہے۔۔۔ یادش بخیر کرنل عبید اور میں دونوں اپنی کپتانی کے زمانے میں 1970ء کی دہائی میں قلات سکاؤٹس خضدار میں اکٹھے رہے تھے۔فوج کی دوستی کے بارے میں دو کہاوتیں مشہور ہیں۔

ایک تو یہ کہ یہ دوستی یا تو صرف کوارٹر گارڈ تک محدود رہتی ہے یا اگر پھیل جائے تو قبر تک ساتھ دیتی ہے۔میری اور کرنل صاحب کی دوستی موخر الذکر زمرے میں آتی ہے۔

قلات سکاؤٹس کی کوارٹر گارڈ سے نکلنے کے بعد ان گنت مقامات پر فیملی کے ساتھ بھی ملاقاتیں ہوتی رہیں، جن کا سلسلہ آج تک چلا آ رہا ہے۔

چونکہ ان کے ساتھ ’’پرلے درجے کی‘‘ بے تکلفی ہے اس لئے میں نے پوچھا کیا آپ ال مصطفیٰ ٹرسٹ میں کام کرتے ہیں؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو میرا دوسرا سوال تھا کہ کیا پیکیج ہے؟ کہنے لگے کہ اس ٹرسٹ کے راولپنڈی سے لاہور اور لاہور سے کراچی تک جتنے بھی میڈیکل رفاعی ادارے کام کررہے ہیں ان میں اوپر سے لے کر نیچے تک جتنے بھی کمیشنڈ آفیسر کام کرتے ہیں وہ تمام ریٹائرڈ ہیں اور تمام اللہ کی خوشنودی اور پاکستان کے بیمار، غریب اور حاجت مند عوام کی صحت اور تندرستی کے لئے کام کرتے ہیں۔

کوئی ایک پیسہ تک نہیں لیتا۔ ہاں ان میڈیکل سنٹروں اور ڈسپنسریوں میں جو عملہ کام کرتا ہے اس کو باقاعدہ تنخواہیں دی جاتی ہیں۔۔۔ میرے لئے یہ خبر انتہائی حوصلہ افزا تھی۔

اسی روز شام کو بریگیڈیئر میاں اظہر محمود صاحب کا فون آیا۔ وہ لاہور میں اس ٹرسٹ کے DHA میڈیکل سنٹر کے ریجنل ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے سلیک علیک کے بعد مجھ سے اپنی دیرینہ اور غائبانہ شناسائی کا ذکر کیا اور کہا کہ ہم تو اپنی لفٹینی اور کپتانی کے زمانے سے آپ کی عسکری تحریروں کے قاری ہیں۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔

فوج کے پرانے یانئے پیٹی بھائیوں کے باہمی تعلقات کی گیرائی اور گہرائی سے ہر پاکستانی واقف ہے۔ بریگیڈیئر صاحب نے کہا کہ وہ ٹرسٹ کا بروشر بھیج رہے ہیں اور ساتھ ہی رسمی (Formal) دعوت نامہ بھی ہے، امید ہے آپ 12اپریل کو ضرور تشریف لائیں گے۔

میں نے جواباً عرض کیا کہ ’’تشریف‘‘ کے ’’گوڈے‘‘ آج کل زیادہ دیر تک کسی جگہ بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتے، اس لئے اگر نہ آ سکوں تو میری دعائیں اس کارِ خیر کی توسیع و ترویج کے لئے ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں گی۔

یہ ال مصطفی ٹرسٹ ستمبر 1998ء میں چند مخیر ٹرسٹیز (Trusties) نے مل کر قائم کیا اور صرف چار ماہ بعد جنوری 1999ء میں راولپنڈی میں ایک ایسی بلڈنگ میں اس نے باقاعدہ کام شروع کر دیا، جس کا کوئی کرایہ نہیں تھا اور اسی روز سے غریب اور ضرورت مند مریضوں کی دیکھ بھال شروع کر دی۔

گزشتہ 19برسوں (1999ء تک 2018ء)کے عرصے میں آج اس ٹرسٹ کی کیفیت یہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں اس ٹرسٹ کے 19میڈیکل سنٹرز اور 11ڈسپنسریاں کام کر رہی ہیں جن میں 6ڈسپنسریاں موبائل ہیں۔ یہ ڈسپنسریاں سارے پاکستان میں 38مقامات پر ضرورت مند عوام کی طبی خدمات میں دن رات مصروف ہیں۔

ان میں فوجی یا سویلین مریضوں کی کوئی تخصیص نہیں۔ بچہ ہو کہ بوڑھا، عورت ہو کہ مرد سب کے لئے یہ میڈیکل سنٹرز اور یہ ساکن اور موبائل ڈسپنسریاں کام کر رہی ہیں۔ شرط اگر ہے تو صرف یہی کہ مریض / مریضہ غریب اور نادار ہو، ہسپتالوں کے اخراجات ادا نہ کر سکے، میڈیکل ٹیسٹوں کی فیس دینے کے قابل نہ ہو اور نہ ہی ادویات کی خرید کی سکت ہو۔

اگر اعدادوشمار سے کچھ اندازہ لگایا جا سکے تو آج سے صرف دو اڑھائی سال پہلے 2015ء کے اواخر تک اس ٹرسٹ سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 2,62,000تھی جو دسمبر 2017ء تک بڑھ کر 5,42,455 ہو گئی۔

یعنی صرف دو سالوں میں ان طبی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 106% زیادہ ہو گئی۔ جہاں یہ تعداد ملک میں بڑھتے ہوئے امراض کا سراغ دیتی ہے وہاں ان امراض کے علاج اور دیکھ بھال اور فراہمی ء ادویات تک کا بندوبست بھی خدائے عز و جل کی ذات کر رہی ہے۔

ترقی یافتہ اور امیر ممالک میں رفاعی اداروں کی کمی نہیں۔ لیکن وہاں مخیر حضرات کی مدد اور دستگیری کی بھی کوئی حد نہیں۔ اس مختصر کالم میں وہ تفصیلات دینے کی گنجائش نہیں جو اس طرح کے رفاعی ادارے وہاں کے عوام کو فراہم کرتے ہیں۔

ہرچند کہ وہ ریاستیں اور ممالک ہر کس و ناکس کو حکومت کی طرف سے طبی امداد مہیا کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ غیر حکومتی اور نجی ادارے اور ٹرسٹ بھی یہ خدمات انجام دیتے ہیں۔ وہاں کی بڑی بڑی فیکٹریاں، کارخانے اور ملیں جن کا انفرادی بجٹ پاکستان کے سالانہ بجت سے بھی زیادہ ہے، انہوں نے اپنی آمدن کا ایک مقررہ حصہ ایسے ٹرسٹوں کے لئے مختص کیا ہوا ہے جو وہاں کے حاجت مند عوام کے لئے کام کرتے ہیں۔۔۔ پاکستان میں یہ کلچر ہنوز اس سکیل پر نہیں پہنچا لیکن پھر بھی پاکستانیوں کو داد دینی چاہیے کہ وہ خواہ اپنے ملک میں رہتے ہوں یا بیرونی ممالک میں کام کر رہے ہوں، اپنی مادرِ وطن اور اس میں بسنے والی اس مخلوق کا خیال رکھتے ہیں جو غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔

ال مصطفی ٹرسٹ کے بروشر کے مطابق سال 2017ء میں برطانیہ سے ایک کروڑ روپے سے زائد، بحرین سے 70لاکھ، قطر سے 16لاکھ اور سعودی عرب سے 14لاکھ روپوں کی امداد حاصل ہوئی۔ جہاں تک اندرون ملک عطیات کا سوال ہے تو گزشتہ برس کراچی سے سوا کروڑ، لاہور سے 23لاکھ اور راولپنڈی سے ایک کروڑ 16لاکھ روپے موصول ہوئے۔۔۔ اس کے علاوہ برطانیہ، امریکہ، جاپان اور مقامی طور پر تقریباً 4کروڑ کے لگ بھگ رقم موصول ہوئی جس سے ٹرسٹ کے میڈیکل سنٹروں کے لئے طبی ساز و سامان (Equipment) خریدا گیا۔ اور میڈیکل سنٹروں کی تعمیر کے لئے بھی صرف 2017ء ہی میں 9کروڑ روپوں کی گرانقدر امداد حاصل ہوئی۔

ان تمام عطیات کو جمع کریں تو تقریباً 21کروڑ روپے بنتے ہیں جو بیرون ملک اور اندرون ملک مخیر پاکستانیوں کی فیاضی، انسان دوستی اور دریا دلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔۔۔ زندہ قومیں اسی طرح زندہ رہتی ہیں۔

میں نے کالم کے عنوان میں ال مصطفی ٹرسٹ کو ایک بے مثال ادارہ لکھا ہے۔۔۔ میری نظر میں اس کی تین وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ جہاں ملک میں اس قسم کے اور بھی طبی رفاعی ادارے قائم ہیں (مثلاً شوکت خانم ہسپتال لاہور اور پشاور، لاہور ہی میں گھرکی ہسپتال، سیالکوٹ میں صغریٰ شفیع ہسپتال، کراچی میں ایدھی سنٹر وغیرہ) لیکن وہ سب بڑے بڑے شہروں میں قائم ہیں لیکن المصطفی ٹرسٹ کا فوکس ملک کی دیہی اور شہری آبادیوں پر یکساں ہے۔ اس ٹرسٹ کی گیارہ ڈسپنسریاں جن علاقوں میں ہیں ان میں (1) کانیات خلیل (گوجر خان)۔۔۔ (2) جیورا (کہوٹہ)۔۔۔ (3) چک سادا (گجرات)۔۔۔ (4)سلانوالی (سرگودھا)۔۔۔(5) ڈھوکری (خوشاب)۔۔۔ (6) کمال پور (اٹک)۔۔۔(7) پجّہ گئی (پشاور)۔۔۔ (8) گوٹھ حاجی بنی بخش (عمر کوٹ)۔۔۔ (9) چک نمبر14/16L(ساہیوال)۔۔۔ (10) بارا (کوہاٹ)۔۔۔(11) بگا (کوٹلی ستّیاں )شامل ہیں۔

ان کے علاوہ جیسا کہ اوپر لکھا گیا 6 گشتی ڈسپنسریاں بھی ہیں جو چھوٹے بڑے شہروں مثلاً کراچی، لاہور، راولپنڈی، مندرہ، بارہ کہو، چاؤلی، ڈنڈا شاہ بلاول اور لادا میں بھی عوامی خدمات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری امتیازی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی مخیر اور صاحبِ حیثیت شخص ٹرسٹ کے ہیڈکوارٹر (راولپنڈی) میں آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں چار کنال یا ایک ایکڑ زمین عطیہ کرنے کو تیار ہوں تو دفتر والے اسے کہتے ہیں کہ علاقے میں دیگر مخیر حضرات سے بھی کہیں کہ وہ ڈسپنسری کی تعمیر کے اخراجات برداشت کریں یا اگر ہو سکے تو خود کرلیں۔

جب اس ڈسپنسری کی تعمیر مکمل ہو جاتی ہے اور اس کا انتقال ٹرسٹ کے نام کر دیا جاتا ہے تو پھر ٹرسٹ وہاں اپنا دفتر، ادویات اور عملہ (ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف) کا اہتمام اپنے ذمے لے لیتا ہے اور اس علاقے (چک / گاؤں/ قصبے)کے ضرورت مند لوگوں کو گھر بیٹھے علاج معالجے کی مفت سہولیات حاصل ہو جاتی ہیں۔

تیسرا امتیاز المصطفیٰ ٹرسٹ کا اس کی وہ تنظیم و تشکیل ہے جو فوج کے منضبط کلچر کی اساس پر کی گئی ہے۔ اس طرح کے دوسرے ادارے جو سویلین اہتمام میں چلتے ہیں ان میں بھی بے شک یہی تنظیم ہوگی لیکن کاغذ پر تنظیم اور زمین پر تنظیم میں جو فرق ہوتا ہے اس کا احوال ہم ہر روز ٹی وی چینلوں پر دیکھتے ہیں۔ سول کے مقابلے میں افواجِ پاکستان کا ایک اپنا تنظیمی کلچر ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ پختہ سے پختہ تر ہوتا جاتا ہے۔

یہاں ہر قدم داروگیر (Check and Balance) کا سلسلہ ہے جو سول اداروں میں یا تو موجود ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو ہاتھی کے کھانے کے دانت اور ہوتے ہیں اور دکھانے کے اور۔

آج سپریم کورٹ کے فاضل چیف جسٹس کو ملک کے ہسپتالوں کی حالتِ زار کے سدھار کے لئے جن مسائل کا سامنا ہے وہ اسی ہاتھی کے دہرے دانتوں کی وجہ سے ہے۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ عاقل را اشارہ کافی است۔

اس ٹرسٹ کی تنظیم سہ شاخہ ہے جو بورڈ آف ٹرسٹیز، ایگزیکٹو کمیٹی اور منیجنگ کمیٹی پر مشتمل ہے۔

آمد اور خرچ کا ایک فول پروف نظام ہے جس کا ہر سال باقاعدگی سے آڈٹ کرایا جاتا ہے۔ تمام عطیات انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں، باتنخواہ سٹاف کم سے کم ہے اور انتظامی سٹاف جن افسروں پر مشتمل ہے وہ تمام رضا کارانہ کام کر رہے ہیں۔

اپنی اپنی تنخواہ یہ سب لوگ روز آخرت وصول کریں گے! ان شاء اللہ!!۔۔۔ ہیڈکوارٹر آفس کے علاوہ دو علاقائی دفاتر ہیں ایک کراچی (ساؤتھ) میں اور دوسرا لاہور میں۔

مرکزی دفتری انتظام و انصرام کا کنٹرول افواجِ پاکستان کے سینئر اور مڈل کلاس کے ریٹائرڈ آفیسرز پر مشتمل ہے جس میں لیفٹیننٹ جنرل سے لے کر سکواڈرن لیڈر (میجر) تک کے رینک کے آفیسرز شامل ہیں۔ان کے علاوہ دو سویلین آفیسرز بھی ہیں۔ دوریجنل ڈائریکٹوریٹس کا کنٹرول بھی فوج کے دو سینئر افسروں کے ہاتھ میں ہے۔

میری دعا ہے کہ خدا اس رفاعی ادارے کو مزید وسعت اور مزید ترقی عطا فرمائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند مریض علاج معالجے کی جملہ سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔

عطیات کی ترسیل کے لئے پاکستان کے پانچ بینکوں کے علاوہ، ایک بینک برطانیہ میں اور ایک امریکہ میں ہے۔ اس کی تفصیلات ٹرسٹ کی ویب سائٹ پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں جو www.almustafatrust.pkہے۔

مزید : رائے /کالم