پاکستان اور بھارت کشمیر سمیت اقتصادی اور سیکورٹی تنازعات کو حل کریں،افتخار علی ملک

پاکستان اور بھارت کشمیر سمیت اقتصادی اور سیکورٹی تنازعات کو حل کریں،افتخار ...

لاہور(کامرس رپورٹر)فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، سارک چیمبر پاکستان چیپٹر اور لاہور چیمبر آف کامرس نے مشترکہ طور پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے نیپالی وزیراعظم کے پی شرما اولی کی اسلام آباد میں سارک سربراہ اجلاس میں شرکت کی درخواست مسترد کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ہٹ دھرمی جنوبی ایشیا کو عالمی سطح پر بڑی طاقت بنانے، علاقائی امن سلامتی اور خوشحالی کیلئے تمام تر کوششوں کو تباہ کر دے گی۔گزشتہ روزتجارتی رہنماؤں کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے بعد نائب صدر سارک چیمبر افتخار علی ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے جنوبی ایشیا کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کر سکتا اس لئے فوری مذاکراتی عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا ارتکاب کررہا ہے اور کشمیر کی آزادی کی آواز کو دبانے کے لئے تمام ریاستی وسائل بے دریغ استعمال کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطہ میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں لہذا پاکستان اور بھارت کیلئے ضروری ہے کہ کشمیر سمیت تمام اقتصادی اور سیکورٹی تنازعات کو حل کیا جائے تاکہ سارک خطہ میں پائیدار امن کے قیام اور اقتصادی خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اور علاقائی چیئرمین چوہدری عرفان یوسف نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تنازعات سے بالا تر ہو کر سارک سربراہ اجلاس کی بحالی میں مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ تنازعات کا حل نہیں ہے اس لئے دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جموں کشمیر میں اپنے مظالم کو چھپانے کے لئے کشیدگی میں اضافہ اور پاکستان پر الزام تراشی کر رہا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت پر زور دیا کہ سفارتی چینلز کے ذریعے معاملات کو حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سارک میں اقتصادی طاقت کا بڑا مرکز بننے کا بھر پور پوٹینشل موجود ہے مگر اس کے لئے جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر خواجہ خاور رشید نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور ترقی کا خواہاں ہے اور اس نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارت کو بات چیت کی پیشکش کی ہے لیکن ہر بار یہ پیشکش مسترد کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس خطے کے لوگوں کے مفاد میں کام جاری رکھیں گے تاہم جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لئے کشمیر کے تنازعے کا حل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو پاکستان میں مجوزہ سارک سربراہ اجلاس میں شرکت کرنی چاہیئے کیونکہ اس کا تعلق سارک کے مستقبل اور اس کے غریب عوام کی خوشحالی سے ہے اور نیپال، سری لنکا اور مالدیپ پہلے ہی اسلام آباد میں سارک سربراہ اجلاس کی حمایت کر چکے ہیں۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر ذیشان خلیل نے کہا کہ سارک پاکستان اور بھارت دونوں کے لئے ایک اہم تنظیم ہے اور یہ تنازعات کو حل کرنے کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ اس کے قیام کا مقصد خطے کو درپیش عمومی چیلنجوں کا خاتمہ اور علاقائی ترقی کا حصولہے۔

مزید : کامرس