بجٹ کی تیاری میں بیوروکریسی پر مکمل انحصار کیا جا رہا ہے،ابراہیم قریشی

بجٹ کی تیاری میں بیوروکریسی پر مکمل انحصار کیا جا رہا ہے،ابراہیم قریشی

لاہور (اسد اقبال) بجٹ الفاظ کا ہیر پھیر ہے جس میں اشرافیہ کو نوازا جبکہ غریب پر مہنگائی کے بم گرائے جاتے ہیں، آئندہ مالی سال کا بجٹ حکومت کا الیکشن منشور ہوگا جس کی تیاری میں کسی سٹیک ہولڈر یا صنعتی و تاجر رہنماؤں کی مشاورت کی بجائے بیوروکریسی پر مکمل انحصار کیا گیا ہے ۔ ملک کی معاشی حالت بدلنے کے لیے توانائی بحران پر قابو پانا ہو گا، امپورٹ بیسڈ پالیسی پر چلنے کی بجائے کنزیو مر پروڈکشن پر خصوصی تو جہ دینا ہو گی۔جس سے جہاں لو کل انڈسٹری پھلے پھو لے گی وہاں بے روزگاری کا بھی خاتمہ ہو گا۔ ان خیالات کا اظہارآل پاکستان بزنس فوم کے صدر ابراہیم قریشی نے پاکستان بجٹ تجاویز2018-19"میں کیا ۔ ابراہیم قریشی کا کہنا تھا کہ کارپوریٹ ٹیکس میں کمی کی جائے کیو نکہ پاکستان میں سر مایہ کاری کے لیے بیرونی ممالک سے بزنس مین بڑی تعداد میں دلچسپی لے رہے ہیں جن کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے ۔حکومت الفاظ کا ہیر پھیر کر تے ہوئے ایسا بجٹ پیش کرے گی جس پر عملدرآمد نگران حکومت کو کرانا ہو گا جس کے ہاتھ میں کچھ نہ ہوگا ۔ ہر بجٹ کے بعد منی بجٹ آنا روایت بن چکی ہے جس سے مہنگائی بڑھتی ہے غریب غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھجوائی جاتی ہے حکومت اس کو فوری تسلیم کر تے ہوئے عوام پر پٹرول بم گراد دیتی ہے اوگرا کی جانب سے کمی کی سفارشات پر حکومت کو جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے ۔ بجلی کی طویل لو ڈشیڈنگ نے جہاں عوام کی زندگی دوبھر بنا دی وہیں انڈسٹری پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں پروڈکشن میں کمی سے بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے ۔ ابراہیم قریش نے کہا کہ اے پی بی ایف وفاقی حکومت کو اپنی بجٹ تجاویز میں سرمایہ کاروں کو مراعات دینے،معاشی دستاویزات کے ذریعے ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنے،ٹیکس نظام کو سادہ اور سہل بنانے اور ایف بی آر کی سٹریکچرنگ سمیت انڈسٹری کے دیگر مشوروں کو بجٹ تجاویز کا حصہ بنائے سیلز ٹیکس سلیب میں کمی،غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے ،آمدن میں براہ راست ٹیکسوں کا حصہ بڑھانے سمیت دیگر سفارشات کو بجٹ تجاویز میں شامل کیا جائے ۔

بجٹ

مزید : صفحہ آخر