مسلم لیگ ن کو بڑا جھٹکا ، 8ارکان اسمبلی مستعفی ، خسرو بختیار ، طاہر اقبال ، رانا قاسم ، باسط بخاری ، سردار دریشک ، سمیع اللہ ، سلیم اللہ اور طاہر بشیر چیمہ کا جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا اعلان

مسلم لیگ ن کو بڑا جھٹکا ، 8ارکان اسمبلی مستعفی ، خسرو بختیار ، طاہر اقبال ، ...

لاہور(جنرل رپورٹر ،نیوز ایجنسیاں )عام انتخابات 2018 سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان کی وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور ایسے میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے 6 قومی اور 2 ارکان صوبائی اسمبلی نے مستعفی ہوکر پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما خسرو بختیار نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا جب کہ ساتھ ہی انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے 6 ارکان قومی اسمبلی اور 2 ممبران صوبائی اسمبلی کے استعفوں کی تصدیق کی۔مستعفی ہونے والوں میں طاہر اقبال، رانا محمد قاسم، باسط بخاری، سردار دریشک، چوہدری سمیع اللہ، سلیم اللہ چوہدری اور طاہر بشیر چیمہ شامل ہیں۔خسرو بختیار نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ سابق وزیراعظم بلخ شیریں مزاری پنجاب صوبہ محاذ کے چیئرمین اور نصراللہ دریشک نائب ہوں گے جب خسرو بختیار کو صدر اور باسط بخاری کو سینئر نائب صدر مقرر کیا گیا ہے۔نائب صدور میں طاہر اقبال چوہدری، رانا قاسم اور چوہدری سمیع اللہ شامل ہیں جب کہ طاہر بشیر چیمہ جنرل سیکریٹری مقرر کیے گئے ہیں۔، مسلم لیگ (ن) کے منحرف رہنماؤں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کیلئے نئے صوبے کا قیام ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے، ہمیں وسائل کی منصفانہ تقسیم چاہیے، جنوبی پنجاب کا صوبہ وفاق کو مزید مضبوط کرے گا، بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے تو ترقی کی شرح اوپر نہیں جائے گی، پنجاب کا یہ حال ہے کہ نہ پانی ہے اور نہ بجلی اور حکمران میٹرو ٹرین چلا رہے ہیں، نئے صوبے کے قیام سے عدالتی نظام میں بہتری آئے گی، جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانا وقت کی ضرورت ہے، وقت آئے گا کہ کوئی ہماری حمایت کے بغیر الیکشن بھی نہیں جیت سکے گا، جنوبی پنجاب کے مسائل کا واحد حل ہے کہ اسے الگ صوبہ بنادیا جائے، عوام کا یہ حق ہے کہ عوام کا فیصلہ ان کے اپنے لوگ کریں، عوام میں محرومیاں بڑھیں تو وفاق کمزور ہوتا ہے۔ پیر کو خسرو بختیار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے اکٹھے ہونے کا مقصدپاکستان کے وفاق کو مضبوط کرنا اور نئے صوبے کا مطالبہ کرنا ہے، آج جنوبی پنجاب محاذ صوبہ محاذ بنانے کا اعلان کرتے ہیں، یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، نئے صوبوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے، ہمارے خطے کے اندر بھی ممالک کے اندر کئی صوبے ہیں، بھارت میں 29صوبے ہیں، حالیہ قومی رائے شماری میں واضح ہے کہ پنجاب کی آبادی 110ملین ہے، یہ ملک کا 52فیصد ہے،اس کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی، ہمارے علاقے کی عوام نے ہمیں کئی بار منتخب کیا، یہاں کے عوامی نمائندے بڑے بڑے عہدوں پر رہے ہیں، جنوبی پنجاب کے 10اضلاع میں غربت 51فیصد ہے، آدھی سے زیادہ آبادی غربت میں رہ رہی ہے، ہمارے عوام مفلسی اور جہالت کے سمندر میں غرق ہو جائیں گے، بے روزگاری کا یہ عالم ہے کہ پبلک سروس کے اندر صرف ہماری پانچ فیصد نمائندگی ہے، جنوبی پنجاب کے اہم سیاستدان ہمارے مطالبے میں ہمارے ساتھ ہیں، نئے صوبے کے قیام سے نیا ہائیکورٹ جنوبی پنجاب میں بنے گا جس سے عدالتی معاملات کی ادائیگی میں آسانی ہو گی، پنجاب میں صاف پانی کا مسئلہ، لوڈشیڈنگ ہے اور حکمران اورنج ٹرین بنا رہے ہیں، پنجاب میں ترقی کی شرح اوپر نہیں جا رہی ہے، ہم جنوبی پنجاب کے شہروں کو لاہور، فیصل آباد کی طرح بنائیں گے،ہمارے مطالبات وقت کی ضرورت ہے، لاہور ہمارا دوسرا شہر ہے اور ہم نفرتیں بڑھانے نہیں آئے، ہم ایک سیاسی نکاتی ایجنڈے پر اکٹھے ہیں، جس کیلئے ہم قومی اسمبلی کی نشستوں سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔اس موقع پر طاہر بشیر چیمہ نے کہا کہ ہمارا نئے صوبے کا مطالبہ آج کا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے، آج ہم اس مطالبے کو پورے زور سے سامنے لا رہے ہیں کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے، جس سے پاکستان کا وفاق مضبوط ہو گا، تمام سیاسی جماعتوں کو ہمارا مطالبہ پورا کرنا پڑے گا۔اس موقع پر طاہر اقبال چوہدری نے کہا کہ جنوبی پنجاب کا واحد حل ہے کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے، جنوبی پنجاب کی پسماندگی کیلئے ضروری ہے کہ ان عوام کے مطالبات کو سنا جائے اور اسے الگ صوبہ بنایا جائے تا کہ وہاں کی عوام کا فیصلہ ان کے اپنے لوگ کریں۔اس موقع پر رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانا وقت کی ضرورت ہے، ہمارے اس مطالبے پر کوئی سیاسی جماعت بھی ہماری مخالفت نہیں کر سکتی، وقت آئے گا کہ کوئی ہماری حمایت کے بغیر الیکشن نہیں جیت سکے گا۔ 2 ایم پی اے علی اصغر منڈا اور طارق محمود باجوہ نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے ۔علی اصغر منڈا 2013 کے عام انتخابات میں پی پی 165 جب کہ طارق محمود باجوہ پی پی 170 سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔علی اصغر منڈا نے کہا کہ وہ وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر کے مقابلے میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑیں گے۔طارق محمود باجوہ نے وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر اور گلگت بلتستان برجیس طاہر کے مقابلے میں آزاد حیثیت سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

مزید : صفحہ اول