وزیراعظم کا چیئرمین سینیٹ کونہ ماننا پارلیمنٹ سے انحراف ،خورشید شاہ

وزیراعظم کا چیئرمین سینیٹ کونہ ماننا پارلیمنٹ سے انحراف ،خورشید شاہ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے وزیراعظم چیئرمین سینیٹ کو نہیں مانتے تو وہ پارلیمنٹ کو بھی نہیں مانتے لہٰذا سیاستدانوں کو پارلیمنٹ کا احترام کرنا چاہیے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا وزیراعظم سے نگراں وزیراعظم کے معاملے پرکل ملاقات ہوگی، ابھی تک اپوزیشن کے اتحادیوں نے نگراں وزیراعظم کیلئے کوئی نام نہیں دیا اور میرے پاس کوئی نام نہیں آیا، پارٹی اجلاس کے بعد نگران وزیراعظم کا نام سامنے لائیں گے، نگراں وزیراعظم پرہی آئندہ الیکشن منحصر ہوگا اسلئے کوشش ہے بہتر سے بہتر نگراں وزیراعظم لائیں، کوشش ہے مئی کے پہلے ہفتے میں باضابطہ مشاورت شروع کی جائے، ہم نے 13ء کا الیکشن آر او الیکشن کہہ کرتسلیم کیا، 2014 میں پارلیمنٹ پر یلغارکے موقع پر ہم آگے کھڑے ہوئے،سیاستدان جب خود پارلیمنٹ کا احتر ا م نہیں کرتے تو عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو احترام کا کیسے کہیں، ایک دوسرے کا احترام کرکے ہی کامیاب جمہوریت چلائی جا سکتی ہے۔ پار لیمنٹ بھی اپنی احتساب کمیٹی بنائے، وہ سب سے بڑی کمیٹی ثابت ہوگی جو سیاستدانوں کا احتساب کریگی۔ نئے اسلام آباد ائیر پورٹ کو بینظیر کے نام سے منسوب کرنا چاہیے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو سپریم کورٹ جاؤں گا۔

خورشیدشاہ

لاہور ( این این آئی) پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے چیف جسٹس کیخلاف نوازشریف کے ریمارکس قابل مذمت ہیں ،نواز شریف کے نزدیک لیول پلے فیلڈ کا مطلب ہے ہر ادارہ ان کی تعریف کرے،نواز شریف کو جسٹس افتخار جیسا جج چاہیے جو انہیں ہیرو قر ا ر دیتا رہے،وہ 2013ء جیسا انتخابی ماحول چاہتے ہیں جو آج دستیاب نہیں، عدلیہ 10 سال سے پیپلز پارٹی کا احتساب کررہی ہے لیکن ہم نے ایسی زبان استعمال نہیں کی،نواز شریف نے صرف جمہوریت کے ثمرات سمیٹے ہر آزمائش میں بز دل ثابت ہوئے،انتخابات میں ایک جیسے مواقع کا مطالبہ درست لیکن نواز شریف گریبا ن میں بھی جھانکیں،نواز شریف بھول گئے جب ہمیں افتخار چوہدری اور طالبان نے انتخابی مہم نہیں چلانے دی،ہمارا وزیراعظم بھی نااہل ہوا ،گورنر اور وزیر کو اسلام آباد میں شہید کیا گیا ،ہمارے وزیراعظم اور گورنر کے بیٹے اغواء کیے گئے لیکن ہم نے بہادری سے مقابلہ کیا۔ اگر جوڈیشل ایکٹوازم پری پول رگنگ ہے تو پیپلز پارٹی 10سال سے اس کا سامنا کررہی ہے ، عد لیہ نے سب سے پہلے تو سندھ حکومت کیخلاف ایکشن لیا تب تو نوازشریف خوش تھے،جب نیب ،ایف آئی اے اور وزارت داخلہ سندھ کے سیاستدانوں کو نشانہ بنارہی تھی تب نواز شریف کی یہ منطق کہاں تھی۔کراچی میں پانی اور صفائی کے بارے میں عدالتی کارروائی پر نون لیگ بغلیں بجاتی تھی،چیف جسٹس نے پنجاب میں پینے کے پانی اور75کمپنیوں کی کرپشن پہ ہاتھ ڈالا تو ان کو فیر پلے لیول یاد آگیا۔نواز شریف بتائے چیف جسٹس نے کونسی بات کی جو آصف زرداری نے بھی کی ہو، اب انہیں وہ فیئرپلے نہیں مل سکتا جس میں عدلیہ اور آئی ایس آئی کی مدد اور اسامہ بن لادن کی فنڈنگ میسر ہو۔

مزید : صفحہ اول