کامیابی کا حصول غیر متزلزل یقین، پُرخلوص نیت اور جُہدِ مسلسل سے ہے

کامیابی کا حصول غیر متزلزل یقین، پُرخلوص نیت اور جُہدِ مسلسل سے ہے

انتخابات کا وقت جیسے جیسے قریب آ رہا ہے، انتخابی جماعتوں کی سرگرمیاں ویسے ویسے زور پکڑ رہی ہیں۔ اپنی شخصیت کو نمایاں و ظاہر کرنے کے لئے متوقع امیدوار نت نئی حکمت عملیوں سے کام لے رہے ہیں۔ اب گیند عوام کے کورٹ میں ہے۔ فیصلہ عوام نے کرنا ہے اور بقول قائداعظمؒ عوامی رائے کبھی غلط نہیں ہوتی۔ سیاست کے شب و روز کی گہما گہمی میں ہم نے مناسب جانا کہ کسی ایسی شخصیت سے گفتگو کی جائے جو سیاست اور سماج میں قد کاٹھ رکھتی ہو چنانچہ بیگم پروین سرور سے رابطہ کیا جو سابق گورنر پنجاب اور تحریک انصاف کے اہم رہنما چودھری محمد سرور کی اہلیہ ہیں۔

بیگم پروین سرور ایک پڑھی لکھی، باشعور اور زیرک خاتون ہیں۔ چودھری صاحب کے عقد میں آنے سے پہلے لندن میں ایک کامیاب بزنس وومن تھیں۔ سماجی تقاضوں کا بے حد احساس رکھتی ہیں۔ اپنے شوہر کے ساتھ برطانوی سیاست میں خوب حصہ لیا اور اپنی اہمیت بنائی۔ ایشیائی تارکین وطن کے لئے بالعموم اور پاکستانی نژاد طبقے کے لئے بالخصوص لگن سے کام کیا اور ان کے حقوق کے لئے انتھک محنت اور جدوجہد کی۔

بیگم پروین سرور سماج سدھار کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہیں۔ دونوں میاں بیوی غریب اور ناآسودہ لوگوں کی بہتری کا گہرا جذبہ رکھتے ہیں اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے ہمہ وقت مستعد رہتے ہیں۔ بیگم پروین سرور سے ملاقات ہوئی تو بہت سے سوالوں کے اطمینان بخش جوابات حاصل ہوئے۔

پاکستان: ن لیگ چھوڑنے کے بعد آپ نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی وجہ کیا تھی؟ کیا تحریک نے آپ کو وہ مقام دیا جس کی آپ مستحق ہیں؟

جواب: ناصرہ! آپ کی قدر افزائی کا شکریہ۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ ہم اپنے ملک کی بہتری کی خاطر وطن لوٹے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک وہ مقصد حاصل نہیں کر پائے جس کے لئے آئے تھے۔ پابندیاں اور رکاوٹیں جابجا موجود ہیں لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ مقصد کے حصول تک ہم جدوجہد کرتے رہیں گے۔ اس وقت تک جب تک کہ ہمیں پوری طرح کامیابی حاصل نہیں ہو جاتی۔ ہم نے پاکستان کے غریب عوام کو ان کا حق دلانا ہے۔ تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرنا ہے، بے روزگاری کے خلاف جدوجہد کرنی ہے، ہم انتظار میں ہیں کہ تحریک انصاف اقتدار میں آئے اور ملک کے لوگوں کو ان کے حقوق سے بہرہ ور کرے۔

پاکستان: چودھری صاحب سینیٹر منتخب ہوئے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ پارٹی نے ووٹ خریدے ہیں جبکہ ووٹ خریدنے کا الزام وہ دوسروں پر دھرتے تھے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر آپ میں اور دوسروں میں کیا فرق ہے؟ کیا پی ٹی آئی کے لئے یہ بات جائز ہے۔

جواب: ووٹ خریدنے کا الزام بالکل غلط ہے۔ پی ٹی آئی اس بات کے سخت خلاف ہے کہ ووٹ خریدے جائیں۔ چودھری صاحب کے بارے میں یہ ضرور کہوں گی کہ وہ بلند اخلاق کے مالک ہیں۔ سبھی سیاسی جماعتوں میں ان کا اثر و رسوخ ہے۔ لوگوں پر ان کا مطمع ’نظر‘ ان کی کارکردگی اور ان کی شخصیت پوری طرح عیاں و ظاہر ہے۔ لوگوں نے انہیں ووٹ دیا ہے، ان کی جیت یقیناًپارٹی کے لئے بھی حیران کن تھی۔ پی ٹی آئی کے یہ واحد رہنما ہیں جو پنجاب سے سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔ بلاشبہ چودھری سرور صاحب ن لیگ کے سو بندوں پر بھاری ہیں، مائیں اکثر کہتی ہیں۔۔۔ ’ایک ہو، نیک ہو‘۔ یہ بات چودھری صاحب پر پوری اترتی ہے۔

پاکستان: کیا آنے والے انتخابات میں تحریک انصاف پنجاب میں واضح کامیابی حاصل کرے گی؟

جواب: ان شاء اللہ! چودھری سرور اس مقصد کے لئے یقیناًمحنت کریں گے۔ چودھری صاحب صلح جو شخص ہیں اور صلح صفائی پر یقین رکھتے ہیں۔ برطانیہ کی صاف ستھری سیاست کا انہیں خاصا تجربہ ہے۔ امید ہے کہ عمران خان کی سرکردگی میں وہ کامیابی حاصل کریں گے اور تحریک انصاف پنجاب میں اپنی حکومت بنائے گی۔

پاکستان: آپ کے سامنے کی بات ہے کہ ن لیگ کورٹ، کچہریاں، کرپشن اور دھاندلی کے الزامات برداشت کر رہی ہے، اس کے باوجود لوگ اس جماعت کو چھوڑ نہیں رہے، کیا تحریک انصاف لوگوں کو قائل کر سکے گی؟ کیا نوازشریف کو لوگوں کے دلوں سے نکال سکے گی؟

جواب: لوگ اپنے لئے سہولتیں، آسانیاں اور آسودگی کے طالب ہیں۔ ہم لوگوں میں شعور پیدا کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور جو کچھ چاہتے ہیں وہ پا لیں۔ لوگ ان کو ووٹ دیں جو ان کے لئے کام کریں اور صرف اپنا پیٹ نہ بھریں۔ وقتی طور پر دیئے گئے آٹا، چاول سے ملک کے حالات نہیں سدھرتے۔ ہم لوگوں میں آگاہی لا رہے ہیں۔ ہمیں باقاعدہ طور پر ایک لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا، ہم نے ادارے بچانے ہیں، ایسے صاف ستھرے سیاسی لوگوں کو سامنے لانا ہے جو صرف ملک کے مفاد کے لئے کام کریں۔ لوگ ن لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔ ناصرہ! ایک بات میں آپ کو بتائے چلوں۔ لوگوں نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیئے لیکن نتائج برعکس نکلے۔ ہم لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ وہ چاک و چوبند رہیں، ہم ووٹ کی قدر ان پر واضح کر رہے ہیں اور انہیں یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ووٹ کا صحیح استعمال کیسے کرنا ہے۔

پاکستان: پروین! عمران خان کے علاوہ آپ کے ہمراہ کوئی نیا کرشماتی رہنما دکھائی نہیں دے رہا جو لوگ اردگرد ہیں وہ جماعتوں سے آئے ہیں اور ان کے دامن بھی کرپشن سے آلودہ گردانے جا رہے ہیں۔

جواب: نہیں ناصرہ! ایسا نہیں ہے۔ انسان ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، وقت کے ساتھ ساتھ اچھی باتوں سے سبق سیکھتا ہے۔ برے دنوں کے بعد اچھے دن ضرور آتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ تحریک انصاف کو کامیابی ملے گی اور ہماری جماعت ہی حکومت بنائے گی۔ ہماری نئی نسل آج کے سیاست دانوں سے بہت مختلف ہے۔ اس کی سوچ مثبت ہے اور یہ مثبت فکر رکھنے والے لوگوں کے ساتھ ہی چلنا چاہتی ہے، یہ لوگ یقیناًملک سنواریں گے۔

پاکستان: شہبازشریف مثبت کام کر رہے ہیں، تعلیم کے شعبے میں بھی اور تعمیراتی کاموں میں بھی، لوگوں کو سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔ چین کے ساتھ گہرے روابط استوار کئے ہیں، ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں کام کرنا چاہ رہی ہیں اور کر رہی ہیں۔

جواب: میں کسی ایک شخص کی بات نہیں کرتی، تاہم جس کے پاس حکومت ہوگی وہ مثبت کام بھی کرے گا۔

پاکستان: کیا چودھری سرور گھر میں وقت دیتے ہیں؟ آپ ان کے ساتھ کبھی گاؤں جایا کرتی تھیں اور کبھی بچوں کے پاس، کیا اب بھی ایسا ہے یا نہیں؟

جواب: ناصرہ! ہم بچے چھوڑ کر پاکستان آئے ہیں، صرف اپنے ملک کو وقت دینے کے لئے۔ چودھری صاحب میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، اب جو لباس ملے پہن لیتے ہیں اور جو پکا ہو کھا لیتے ہیں۔ ملک سنوارنے کی دھن میں اس قدر منہمک ہیں کہ تھک جاتے ہیں، ان کی نیند بھی پوری نہیں ہو رہی۔

پاکستان: ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت ہوتی ہے۔ چودھری صاحب کی کامیابی میں آپ کا کردار کیا ہے؟

جواب: بے شک چودھری صاحب کی کامیابی تو ہے ہی، تاہم تحریک انصاف کامیاب ہے تو چودھری صاحب کامیاب ہیں۔ ہم دونوں ہر مسئلہ کی خوب چھان پھٹک کرتے ہیں۔ میرے نکتے میں وزن ہو تو چودھری صاحب اسے اہمیت ضرور دیتے ہیں، میں عورتوں میں زبردست آگاہی لانا چاہتی ہوں اور اس بارے میں ہرممکن کوشش کر رہی ہوں۔

پاکستان: آپ کی سماجی سرگرمیاں کیا ہیں؟

جواب: صاف پانی کی فراہمی کے بارے میں، میں بہت متفکر رہتی ہوں۔ بیشتر علاقے ایسے ہیں جہاں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ لوگ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ میری کوشش ہے کہ ایسے علاقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب کئے جائیں، ہم نے بہت سے علاقوں میں پلانٹ مہیا کئے ہیں۔ اس کے علاوہ میں پولیو کے تدارک کے لئے کوشاں رہتی ہوں، لڑکیوں اور عورتوں کے لئے ووکیشنل سکول قائم کرنے ہیں۔ لاہور کے علاقہ ڈیفنس پر میری خاص توجہ ہے، جہاں غریبوں کی بستیاں موجود ہیں۔ کسی روز میں آپ کو ساتھ لے کر جاؤں گی اور ان کے حالات دکھاؤں گی۔ میں وہاں ووکیشنل سکول قائم کر رہی ہوں تاکہ عورتیں ہنر سیکھیں اور اپنی محنت سے اپنی روزی کمائیں۔ لوگ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلائیں۔ لوگوں کی دعائیں ہماری کامیابی کی ضمانت ہیں۔ چودھری صاحب کی متاع بھی یہی ہے۔ مجھے جیل خانوں میں قیدی عورتوں کو دیکھنے اور ان سے بات چیت کا موقع ملا ہے۔ میں آپ کو کیا بتاؤں کہ میں کس کرب میں سے گزری ہوں۔ میری کوشش ہوگی کہ ان کے قید خانوں کی حالت بہتر بنائی جائے اور ان کے مقدمات اور قید و بند کے حوالے سے جداگانہ اور موثر نظام ترتیب دیا جائے اور ان کی اولاد کی تربیت و تعلیم کا خاص طور پر دھیان رکھا جائے۔ عمران خان سے ہم نے کہا ہے کہ وہ گراس روٹ لیول پر لوگوں سے رابطہ قائم کریں۔ یونین کونسلوں کی سطح پر جائیں اور لوگوں کے مسائل ان کی زبانی سنیں۔ لوگ اپنے رہنما سے ملنا چاہتے ہیں، ہم خواتین کی تربیت کر رہے ہیں تاکہ وہ پسماندہ علاقوں میں جائیں اور ان میں آگاہی پیدا کریں۔

پاکستان: ایک بات سننے میں آئی ہے کہ پوسٹروں پر عمران خان کی تصویر لگانے اور عمران خان سے ملنے کے لئے کچھ خاص لوگ پیسے لے رہے ہیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟

اس سوال پر بیگم پروین سرور نے کچھ لمحے توقف کیا اور پھر گویا ہوئیں۔

’’یہ پراپیگنڈہ ہے۔ انتخابات کے قریب لوگ ایسی باتیں کرتے ہی ہیں۔ تحریک انصاف نے لوگوں میں اپنے حقوق کے لئے لڑنے کا شعور بیدار کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ بہت جلد ہمیں کامیابی نصیب ہوگی۔‘‘

پاکستان: خواتین کے لئے آپ کیا پیغام دینا پسند کریں گی؟

جواب: ایک ضروری بات جو میں کہنا چاہوں گی وہ یہ ہے کہ خواتین تعلیم پر توجہ دیں۔ بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کریں، بچوں کو خود سے مانوس کریں، انہیں اپنا دوست بنائیں، ان کی سوسائٹی پر نگاہ رکھیں اور یہ کام صرف پڑھی لکھی خاتون ہی کر سکتی ہیں۔ خواتین آنے والے کل میں ملک بچائیں کا نعرہ نہ لگائیں بلکہ ملک سنواریں کا نعرہ بلند کریں۔ ہمت بالکل نہ ہاریں اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے بے خوف و خطر کھڑی ہو جائیں۔ کامیابی ان شاء اللہ ان کا مقدر ہوگی۔

مزید : ایڈیشن 1