نوزائیدگان کوگلا گھونٹ کر مارنے کے واقعات!

نوزائیدگان کوگلا گھونٹ کر مارنے کے واقعات!

شہر قائد میں کچرے کے ڈھیر سے نوزائدہ بچوں کی لاشیں ملنا روز کا معمول بن چکا ہے ،بچے تو معصوم اور محبت کے لائق ہوتے ہیں ،لیکن اس کے باوجود شہر میں ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ رواں سال ابھی تک شہر کے مختلف علاقوں سے نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملنے کے 23واقعات ریکارڈ ہوچکے ہیں لیکن پولیس اس نیٹ ورک میں ملوث گروہ کا ایک بھی کارندہ گرفتار نہیں کرسکی اور نہ ہی گروہ کا تعین کر سکی ہے۔رواں سال ایم اے جناح روڈ تاج کمپلیکس کے قریب کچرا کنڈی سے چادرمیں لپٹی ہوئی 3 نومولود بچوں کی لاشیں ملیں جس کی اطلاع پر بریگیڈ پولیس اور چھیپا کے رضا کار موقع پر پہنچ گئے جبکہ شہریوں کی بھی بڑی تعداد موقع پر جمع ہوگئی اور اس سفاکیت پر اپنے غم و غصے کا بھی اظہار کیا۔ایس ایچ او نصر اللہ نے بتایا کہ قانونی کارروائی کے بعد تینوں نومولود بچوں کی لاشوں کو چھیپا سرد خانے منتقل کرادیا تھا انہوں نے بتایا کہ ابھی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنا باقی ہے اس کے بعد ہی مقدمہ درج کیا جائے گا ،انہوں نے مزید کہا کہ پولیس اس کیس کی تفتیش کررہی ہے اور بہت جلد اس گھناؤنے جرم میں مرتکب ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا ۔اسی طرح رواں سال گلستان جوہر سے ملنے والی 2 نومولود بچوں کی لاشیں ملنے کا مقدمہ شارع فیصل پولیس نے درج کیا تھا،رواں سال ہی اس طرح کا ایک اور دل دہلا دینے والا واقع کلفٹن کے علاقے میں پیش آیا جب پولیس کو اطلاع ملی کہ کلفٹن کے علاقے توحید کمرشل اسٹریٹ نمبر 26 کی کچرا کنڈی میں نومولود بچے کی ذبح شدہ لاش پڑی ہوئی ہے، اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کیلئے قریبی اسپتال پہنچادیا تھا، ایس ایچ او شاہد کے مطابق بچہ ایک دن کا تھا اور اس کو نامعلوم ملزم نے تیز دھار آلے کی مدد سے ذبح کرنے کے بعد قتل کیا تھا اور لاش کو کچرا کنڈی میں پھینک کر فرار ہوگیاتھا، پولیس نے علاقے کے تمام میٹرنٹی ہوم سے ڈیٹا جمع کرنا شروع کردیا ہے اور جلد ہی نومولود بچے کے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتارکرلیا جائیگا۔اسی طرح کا ایک اور واقع بریگیڈ کے علاقے خداداد کالونی میں بھی پیش آیا تھا جہاں نوزائیدہ بچے کو گلا گھونٹ کر ہلاک کردیا گیا۔ بچے کی لاش شاہراہ قائدین پر انڈر پاس کے قریب کچرا کنڈی سے ملی تھی۔ ایسے ہی شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے چوکنڈی قبرستان سے بھی نومولود بچی کی لاش بھی ملی تھی ۔سماجی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے عہدیدار انور کاظمی نے بتایا کے مردہ خانوں میں ہر روزدرجنوں ایسے نومولود بچوں کو غسل دیا جاتا ہے جو پاکستان کے بڑے شہروں میں کوڑے دانوں یا دیگر مقامات سے مردہ حالت میں ملتے ہیں۔ ان میں بیشتر لڑکیاں ہوتی ہیں اور اکثر بچوں کی عمر زیادہ سے زیادہ پانچ دن ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ چند واقعات وہ زندگی بھر نہیں بھول سکتے۔ ایک بچے کی عمرصرف چھ دن تھی لیکن اس کو جلا کر پھینک دیا گیا تھا۔ اسی طرح مجھے یاد ہے ایک صبحٰ میں اور ایدھی صاحب بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمیں اطلاع ملی کہ ناظم آباد کے علاقے میں ایک پیش امام کے کہنے پر نومود بچے کو پتھر مار کر ہلاک کردیا گیا ہے جب میں ناظم آباد پہنچا تو بچے کی لاش دیکھ کر میرے پیروں تلے زمین نکل گئی معلومات کرنے پر پتا چلا کہ فجر کی نماز سے قبل کوئی اس بچے کو مسجد کی سیڑھیوں پر چھوڑ گیا تھا جب نمزی باہر آئے تو بچے کو دیکھ کر پیش امام کو بلایا پیش امام نے آکر بچے کو دیکھا اور کہا کہ یہ ناجائز بچہ ہے اسے سنگسارکردو جس پر نمازیوں نے اس بچے کو پتھر مار مار کر ہلاک کردیا ،اس وقت وہاں تھانہ گولیمار ہوتا تھا جس کے ایس ایچ او کو جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ بھی بچے کو دیکھ کر رودیا ،پیش امام کو گرفتار کیا گیا تھا مگر بع د میں کیا ہوا اس کا مجھے علم نہیں انہوں نے کہا کہ ہم ایسے لوگوں سے ہمیشہ ہی اپیل کرتے رہتے ہیں کہ، ’’بچوں کو قتل مت کریں۔ ان کو ہمارے پاس لے آئیں۔ ہم ان کو رکھیں گے۔ بچے مجرم نہیں ہوتے۔ وہ انسان ہیں اور ان کو بھی جینے کا حق حاصل ہے۔‘ ‘پاکستان میں اسقاطِ حمل ممنوع ہے سوائے اس کے کہ حمل کے دوران ماں کی زندگی کو خطرہ ہو۔ ماہرین کے نزدیک نومولود بچوں کے قتل کو روکنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے وسیع پیمانے پر آگاہی لازمی ہے۔پاکستان کے قوانین کے تحت کسی بچے کو مرنے کے لیے چھوڑ دینے والے کو سات سال کی جیل ہوسکتی ہے جبکہ خاموشی سے بچے کو دفن کردینے پر دو سال کی سزا ہے اورکسی بھی قتل کی سزا موت ہے۔تاہم شہر کے مختلف علاقوں سے اب تک ملنے والی 23 نومولود بچوں کی لاشوں کو پھینکنے والے سفاک ملزمان تاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہیں تفتیشی افسران کاکہنا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے کئی اسباب ہیں جن کے سدباب کا سندھ حکومت کے پاس ابتک کوئی موثر نظام موجود نہیں ہے، ایسے واقعات میں عموما میٹرنٹی ہومز واسپتالوں کا عملہ ملوث ہوتا ہے اور علاقائی سطح پر مقامی دائیوں کاکردار بھی ہے۔تفتیش کاروں کے مطابق ان واقعات کو تقویت دینے میں سوشل میڈیا کا اہم کردارہے جس کی مختلف سائٹس پرعریانی اور فحاشی کے حوالے سے ہرقسم کا مواد موجود ہوتا ہے جو آجکل کے نوجوان نسل کے ہاتھوں میں اسمارٹ فونز کی صورت میں موجود ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی لاشیں اسپتالوں، میٹرنٹی ہومز اورکچی اور گنجان رہائشی علاقوں کے آس پاس کچراکنڈی سے پائی جاتی ہیں۔ جہاں کسی کو بھی کچرے میں نوزائیدہ بچے کی لاش پھینکتے ہوئے کوئی شک کی نظر سے نہیں دیکھتا۔پولیس افسران کا کہنا ہے کہ کچی آبادیوں سے شہر کے اپارٹمنٹس، بنگلوں اور گھروں میں کام کاج کے لیے آنے والی خواتین بھی ایسے معاملات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جو نہ صرف خفیہ طور ایسے حمل ضائع کرانے کے لیے دائیوں کا بندوبست بھی کرتی ہیں اور لاشیں بھی ٹھکانے لگادیتی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ایسا کوئی سسٹم موجود نہیں کہ ان دائیوں سے ریکارڈ یا تفصیلات حاصل کی جاسکے۔ کیونکہ یہ دائیاں کوئی ریکارڈ نہیں رکھتیں جبکہ پوچھ گچھ پرصرف یہی کہتی ہیں کہ ہم ایسا کام نہیں کرتے۔ایک پولیس افسر کے مطابق ہمارے یہاں دائیوں کے پاس ایسی کوئی اتھارٹی یا سند نہیں ہوتی اور یہ بھی کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا کہ کون سے علاقے میں کون کون دائی ہے اس طرح میٹرنٹی ہومز بھی قائم ہیں جن کے باہر بڑے ڈاکٹروں کے نام اور سائن بورڈ ہوتے ہیں لیکن وہاں پر غیرتربیت یافتہ عملہ اور جعلی ڈاکٹرز ہوتے ہیں۔تفتیشی افسروں کا کہنا ہے کہ نوزائیدہ اور پری مچؤر بچوں کی لاشوں کے حوالے سے مختلف نوعیت کی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے جو ڈاکٹر کی رپورٹ بچے کی عمر اور ملنے والی لاش کی نوعیت کودیکھ کرکی جاتی ہے اور دفعات لگائی جاتی ہیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ نومولود بچوں کو قتل کر کے لاشیں پھینکنے کا عمل سفاکیت کی انتہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن ایسے واقعات پر کسی اعلیٰ شخصیات کی جانب سے نوٹس کیوں نہیں لیا گیا؟آخر شہر میں ہو کیا رہا ہے؟ پولیس کا انٹیلیجنس نیٹ ورک کہاں سویا ہوا ہے؟ موٹر سائیکل کے کاغذات نہ ہوں تو پولیس پکڑ لیتی ہے لیکن ننھی جانوں کو قتل کر کے لاشیں پھینکنے والے کیوں پولیس کی آنکھوں سے اوجھل ہیں؟

مزید : ایڈیشن 2