خدمت سنٹر میں ایک ہی چھت تلے عوام کو تمام سہولیات مہیا

خدمت سنٹر میں ایک ہی چھت تلے عوام کو تمام سہولیات مہیا

پولیس کا کام چوریوں ‘ ڈکیتیوں اور قتل و غارت گری اور ملزمان کی گرفتاری تک ہی محدود نہیں ہوتا بلکہ شہریوں کو پولیس سے متعلقہ مسائل کے حل کے بارے میں بھی سہولیات فراہم کرنا بھی ہے پوری دنیا میں پولیس کو عوام دوست تصور کیا جاتا ہے حتی کہ چھوٹے چھوٹے مسائل کے بارے میں بھی لوگ پولیس کو فون کر کے نہ صرف مشاورت کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنا ہمدرد اور غمگسار بھی تصور کیا جاتا ہے پاکستان میں پولیس کو صرف دہشت اور وحشت کی علامت سمجھتا جاتا ہے لوگ یہی تصور کرتے ہیں کہ پولیس کا کام چوری ‘ ڈکیتی ‘ قتل وغارت گری کے ملزمان کو گرفتار کر کے جیل بجھوانا ہی ہے مگر جوں جوں تعلیم یافتہ لوگ پولیس میں آگے آ رہے ہیں حالات ماضی کی نسبت بہتری کی طرف گامزن ہیں جدید سائنی خطوط پر پولیس کی تفتیش نے ایسے بے شمار نامعلوم مقدمات کا سراغ لگانے میں مدد کی جو اگر بروئے کار نہ لائے جاتے تو شاید پولیس کسی نتیجے پر نہ پہنچتی گجرات کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے جہانزیب نذیر خان ڈی پی او گجرات نے جہاں بے شمار انقلابی اقدامات کیے وہاں پر انہوں نے ڈرائیونگ لائسنس‘ کریکٹر سرٹیفکیٹ ‘ ایف آئی آر کی مصدقہ کاپی ‘ اور دیگر پولیس سے متعلقہ تمام معلومات فراہم کرنے کے لیے خدمت سنٹر کو نہ صرف تعمیر کرایا بلکہ اسکے افتتاح پر گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ بھی گجرات پہنچے اور اس خدمت سنٹر کو پورے پنجاب کی پولیس کے لیے مثال کے طور پر متعارف کرایاگیا ہے روزانہ ہزاروں افراد اس خدمت سنٹر میں میسر سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں یہ وہ کارنامہ ہے جو جہانزیب نذیر خان ڈی پی او گجرات نے انسانیت کی خدمت کیلئے سر انجام دیا ہے وگرنہ اس سے قبل کسی بھی ایسے منصوبے پر کام نہیں کیا جسے عوام دوست قرار دیا جا سکے اس سلسلہ میں جب جہانز یب نذیر خان کا انٹر ویو کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ جہاں بھی تعینات رہے ہیں انہوں نے بہتر سے بہتر کرنے کی جستجو کی ہے کہتے ہیں کہ انسان کی نیت نیک ہو اور سینے میں عوام کا درد تو خود بخود ہی مشکلات آسان اور قدم کامیابی کی طرف بڑھتے رہتے ہیں جرم اور قانون کی جنگ تو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دھرتی پر انسان موجود ہے مگر لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا بلاشبہ ایک مشکل ترین کام ہے مگر ان کی ڈکشنری میں ناممکن کا کوئی لفظ نہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گجرات پولیس نے تین ماہ میں ڈاکوؤں کے 36گینگ اور 96ارکان گرفتار کیے گینز کی تفتیش کے دوران 150سنگین وارداتوں کا انکشاف ہوا جبکہ دو کروڑ سے زائد کا مال مسروقہ اصل مالکان کے حوالے کیا گیا 231خطرناک اشتہاری مجرمان کو گرفتار کیا گیا اور کیٹگری بی کے 1864اور 792عدالتی مفرور بھی گرفتار کیے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے ڈی پی او آفس میں ایس ایچ او حضرات سے فوری طور پر معلومات حاصل کرنے کے لیے ویڈیو کانفرنس کا اہتمام بھی کر رکھا ہے جب بھی انہیں کسی اہم امور کے بارے میں ایس ایچ او سے معلومات لینا ہوں یا پھر تھانے کی صورتحال ‘ گرفتار ملزمان اور کارکردگی کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ہو تو وہ ویڈیو کانفرنس سے استفادہ حاصل کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ماضی میں پولیس ملازمین ‘ لائن محررز اور دیگر افسران بالا کو رشوت دیکر اپنے ذاتی کام کاج کرتے ‘ غیر حاضریاں کرتے اور تنخواہ گورنمنٹ سے وصول کی جاتی مگر انہوں نے اس کا اس طرح تدارک کیا ہے کہ اب تمام پولیس ملازمین و افسران ‘ بائیو میٹرک حاضری لگاتے ہیں جس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اب غیر حاضری یا بغیر پوچھے سرکاری فرائض کی ادائیگی سے کوتاہی ناممکن ہو کر رہ گئی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹرانسفر اورپوسٹنگ کسی بھی ملازم کی زندگی کا اہم حصہ ہوتی ہے مگر انسانیت کی خدمت اس طرح کرتے ہیں کہ دل مطمئن ہو اور پھر وہ جہاں بھی تعینات رہتے ہیں اس جگہ کے لوگ انہیں مدتوں یاد رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلاشبہ کچھ عرصہ سے ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ایک دن ضرور چھری کے نیچے آنا ہوتا ہے غیب کا علم تو خداوند کریم کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا مگر ایک ترقی پذیر ملک سے تعلق رکھنے کے باوجود ملزمان کی بیخ کنی اور واردات میں چھینا گیا قیمتی سامان اصل مالکان تک پہنچانے کے لیے ہم تمام تر وسائل استعمال کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ انہوں نے گجرات پولیس سے کرپشن کا خاتمہ کر دیا ہے رشوت اور ناانصافی پر کوئی بھی شہری کسی بھی وقت ان سے رابطہ کر سکتا ہے ان کے پی آر او ‘ پی ایس او اور جب وہ خود موجود ہوں عوام کے لیے حاضر ہیں بلاشبہ ہم حکومت کے ملازم ہیں مگر جو مزہ عوام کا خادم بن کر آتا ہے وہ ایک آفیسر بن اور عجیب مخلوق بن کر نہیں آتا ہر چیز نے حساب دینا ہے کوئی چھوٹا ہو یا بڑا ‘ حساب تو کسی وقت بھی شروع ہو جاتاہے بس یہی سوچ کر وہ خدمت خلق کر رہے ہیں کہ خداوندکریم نے انہیں جس مقام پر فائز کیا ہے وہ لوگوں کی دعائیں اکٹھی کر سکیں سو فیصد تو لوگ اپنے گھر والوں سے بھی راضی نہیں ہوتے بطور انسان خوبیاں اور حامیاں سبھی میں ہوتی ہے کسی میں کم تو کسی میں زیادہ اگر دنیا میں اچھا کریں تو آخرت بھی اچھی ہو گی دنیا میں برا کریں گے تو آخرت بھی بری ہو گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وہ جب سے گجرات تعینات ہوئے ہیں ان کے تمام ڈی ایس پیز‘ حافظ امتیاز احمد‘ عرفان الحق سلہریا ‘ ریاض الحق ‘ اورغلام محمد شامل ہیں نے ان سے بھر پور تعاون کیااور اپنے علاقوں میں امن قائم رکھنے میں بھر پور معاونت کی قتل و غارت گری تو ہم نہیں روک سکتے مگر قاتل کو عبرتناک انجام سے دوچار کرنا ہمارا فرض بنتا ہے اور وہ دعوے سے کہتے ہیں کہ کوئی بھی ایسا قتل نہیں جس کا ملزم گرفتارنہیں ہوا انہوں نے کہا کہ بیرون ملک فرار ہونے میں مجرمان اشتہاریوں کی گرفتاری کیلئے انٹر پول سے بھی رابطہ کیا گیا ہے اور متعدد افراد کو بیرون ملک سے گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سی آئی اے سٹاف کے انچارج ضیغم ثنا کی کاوشوں سے ڈی سی او آفس میں جعلی اسلحہ بنانے والے گروہ کے تمام ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے تفتیش ہے ملک کو ناجائز اسلحہ سے پاک کر کے ہی ایک پر امن معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے ویسے بھی یہ شہریو ں پر منحصر ہے کہ وہ سماج دشمن عناصر کی نشاندہی کرتے رہیں اگر پر امن لوگ اتحاد کریں تو معاشرے کے ناسوروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ملک میں بے شمار قربانیوں کے بعد دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا ہے تو چوری ‘ ڈکیتی اور قتل وغارت گری کا خاتمہ بھی ناممکن نہیں تھوڑی سی نم ہو تو بڑی زرخیر ہے یہ مٹی ‘انصاف کی فراہمی میں تاخیر بھی ناانصافی کے برابر ہے ہماری یہ کوشش ہے کہ انصاف عوام کو انکی دہلیز پر فراہم کیا جائے سیاستدان چونکہ عوامی نمائندے ہوتے ہیں لہذا وہ عوام کی فلاح و بہبود اور ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے ان کے پاس آئیں تو انہیں ویلکم کیا جائے گا ۔

مزید : ایڈیشن 2