شہباز شریف نے حکومت کے متوازی 61کمپنیاں تشکیل دیں ، نی نے ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کر دیا

شہباز شریف نے حکومت کے متوازی 61کمپنیاں تشکیل دیں ، نی نے ریکارڈ سپریم کورٹ ...

لاہور(کرائم رپورٹر) نیب نے پنجاب حکومت کی طرف سے قائم کئی گئی61کمپنیوں کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کردیا۔نیب نے صاف کمپنی کے بورڈ کے ممبران سے بیانات ریکارڈ کرانے کا بھی فیصلہ کرلیا اور اس مقصد کے لئے صوبائی وزیر زعیم قادری کی بیگم اور بھائی کو بھی نوٹس جاری کئے جائیں گے اور ان سے کروڑوں روپے کی وصولی بارے وضاحت طلب کی جائے گی ،اس کے علاوہ دیگر کمپنیوں کے بورڈز ممبران کوبھی طلب کیا جائے گا۔نیب ذرائع کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے حکومت کے متوازی61کمپنیاں تشکیل دی تھیں جن کے نام پر56 ارب روپے سے زائد کے فنڈز قومی خزانہ سے حاصل کئے گئے ہیں۔صوبائی وزارت توانائی کے تحت دس کمپنیاں بنائی گئی تھیں جو درج ذیل ہیں۔پنجاب بائیو انرجی کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ،پنجاب انرجی ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ،قائد اعظم تھرمل پاور کمپنی،پنجاب تھرمل پاور کمپنی،پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی،قائد اعظم پاور کمپنی،قائد اعظم ہائیڈل پاور کمپنی،پنجاب کول پاور کمپنی،پنجاب رینوایبل انرجی کمپنی اورقائد اعظم ونڈ پاور کمپنی۔صوبائی وزارت فشریزو جنگلات کے تحت ایک نجی کمپنی بنائی گئی جس کا نام ساؤتھ پنجاب فاریسٹ کمپنی تھا۔ وزارت اعلیٰ تعلیم کے زیر اہتمام2کمپنیاں لاہور نالج پارک لمیٹڈ کمپنی اور پنجاب ایجوکیشن انڈرمنٹ کمپنی بنائی گئی تھیں۔وزارت پی ایچ ای محکمہ کے زیر اہتمام پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی،پنجاب صاف پانی کمپنی بنائی گئی تھیں ۔پنجاب کی وزارت انڈسٹری،کامرس اور سرمایہ کاری کے زیر اہتمام 6کمپنیاں بنائی گئی تھیں جن میں پنجاب ماڈل بازار کمپنی،فیصل آباد انڈسٹری اسٹیٹ کمپنی، پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ کمپنی،پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ کمپنی،ماحولیاتی کمپنی لمیٹڈ،ٹیکنیکل ووکیشن تعلیمی کمپنی لمیٹڈ شامل ہیں۔وزارت آبپاشی کے زیر اہتمام ایک کمپنی ان لینڈ واٹر ایک ٹرانسپورٹ کمپنی بنائی گئی۔وزارت انسانی ترقی کے زیر اہتمام کمپنیاں بنائی گئی تھیں جن میں پنجاب سوشل سیکورٹی ہیلتھ مینجمنٹ کمپنی جبکہ وزارت بلدیات کے زیر اہتمام 20کمپنیاں بنائی گئی تھیں جن میں کیپیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنی راولپنڈی،کیپیٹل مارکیٹ کمپنی گوجرانوالہ،کیپیٹل مارکیٹ کمپنی فیصل آباد ،کیپیٹل مارکیٹ مینجمنٹ لاہور،کیپیٹل مارکیٹ ساہیوال اور کیپیٹل مارکیٹ کمپنی سرگودھا شامل ہیں۔اس کے علاوہ کیپیٹل مارکیٹ کمپنی ڈی جی خان،کیپیٹل مارکیٹ کمپنی بہاولپور،کیپیٹل مارکیٹ کمپنی ملتان،کیپیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنی ملتان کے علاوہ پارکنگ کمپنی لاہور،پارکنگ کمپنی فیصل آباد،ویسٹ مینجمنٹ کمپنی لاہور،ویسٹ مینجمنٹ کمپنی گوجرانوالہ،ویسٹ مینجمنٹ کمپنی فیصل آباد،ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ملتان،ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سیالکوٹ،ویسٹ مینجمنٹ کمپنی بہاولپور،ویسٹ مینجمنٹ کمپنی راولپنڈی شامل ہیں۔پنجاب رورل سپورٹ پروگرام اور پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ بھی شہبازشریف نے قائم کیا تھا۔دستاویزات کے مطابق وزارت لائیو سٹاک کے زیر اہتمام دو کمپنیاں بنائی گئی تھیں جن میں پنجاب ایگریکلچر اینڈ میٹ کمپنی اور پنجاب لائیو سٹاک اینڈ ڈائری ڈویلپمنٹ کمپنیاں شامل تھیں۔وزارت قدرتی وسائل کے زیر اہتمام ایک کمپنی بنائی گئی جو پنجاب منرل کمپنی کے نام پر رجسٹرڈ کی گئی۔وزارت منصوبہ بندی کے زیر اہتمام 3 کمپنیاں بنائی گئی تھیں جن میں انجینئرنگ کنسلٹنسی سروسز پنجاب لمیٹڈ،پنجاب سکل ڈویلپمنٹ کمپنی اور اربن سیکٹر پلاننگ کمپنیاں شامل تھیں۔وزارت صحت کے زیر اہتمام ایک کمپنی بنائی جس کا نام پنجاب ہیلتھ کمپنی لمیٹڈ ہے۔وزارت سپیشل تعلیم کے زیر اہتمام پنجاب فنڈ برائے تعمیر نو کے نام پر کمپنی بنائی گئی۔وزارت ٹرانسپورٹ کے زیر اہتمام دوکمپنیاں بنائی گئیں جن میں لاہور ٹرانسپورٹ اور سیالکوٹ ٹرانسپورٹ کمپنیاں شامل ہیں۔سپیشل ہیلتھ کے زیر اہتمام پنجاب ہیلتھ کمپنی کے نام سے ادارہ قائم کیا گیا تھا۔وزارت ترقی خواتین کے تحت پنجاب ورکنگ وومن انڈونمنٹ فنڈ قائم کیا گیا تھا،اس کے علاوہ ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن،پنجاب پاپولیشن کمپنی،پنجاب روڈ انفراسٹرکچر کمپنی،پنجاب انوائرمنٹ کمپنی اور پنجاب کلچر کمپنی کے نام پر 61کمپنیاں رجسٹرڈ کرائی گئی تھیں اور ان کمپنیوں کے نام پر گزشتہ 10 برسوں میں56ارب روپے سے زائد کی قومی دولت مالی بدعنوانیاں اور کرپشن کی ندر ہوئی تھی ۔شہبازشریف نے عملاً صوبے میں متوازی حکومت قائم کی اور اربوں روپے لوٹے ہیں،نیز منی لانڈرنگ کرکے دولت بیرون ملک بھجوائی ہے جس کی نیب اور سپریم کورٹ تحقیقات کر رہی ہے۔نیب ذرائع کے مطابق ان کمپنیوں کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے حکومت پنجاب کے لئے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔شہباز شریف کو بھی سپریم کورٹ اس کیس میں طلب کرسکتی ہے۔

مزید : علاقائی