مخدوم خسروبختیار کی عظمت

مخدوم خسروبختیار کی عظمت
مخدوم خسروبختیار کی عظمت

  

مخدوم خسرو بختیار جنوبی پنجاب کے ایک امیر ، نوجوان اور خوش شکل سیاستدان ہیں، میں بھول گیا کہ وہ بہت سمجھدار بھی ہیں اور سمجھ دار کیوں نہ ہوں کہ ان کے گھر دانے ہیں اور جس گھر دانے ہوں اس کے چوہے بھی سیانے ہوتے ہیں، ان کی عمر اڑتالیس برس ہے مگر دیکھنے میں اڑتیس، چالیس سے زیادہ کے نہیں لگتے، انہوں نے یونیورسٹی آف پنجاب سے گریجوایشن کی، لندن سے ایل ایل بی آنرز کی ڈگری حاصل کی اور بار ایٹ لا لنکنز ان سے کیا۔ میں نے خسرو بختیار کی پریس کانفرنس سنی ، وہ جنوبی پنجاب کی محرومیاں دو رکرنا چاہتے ہیں، وہ پنجاب کو کاٹ کے ایک نیا صوبہ بنانا چاہتے ہیں، یہ وہی پنجاب ہے آج سے اکہتر برس پہلے بھی پاکستان کے نام پر تقسیم ہوا تھا، ابھی اس کے وہ زخم بھرے ہیں اور نہ وہ کنویں جن میں اس کی دھیوں نے کود کے جانیں لٹا دی تھیں۔ اس کے رستوں پروہ دیواریں اب بھی کھڑی ہیں جہاں کرپانیں لہرائی تھیں اور لہو سے نقش ونگار بنے تھے مگر اب بھی جس کو جب موقع ملتا ہے وہ کلہاڑی اٹھالیتا ہے۔ پنجاب حیران ہے کہ جن کا بسیرا ہی اس کی شاخ پر ہے وہ کیوں اسے کاٹنے کے درپے ہیں۔ بلوچستان کی طرح جنوبی پنجاب کی محرومی بھی پٹھان کاقرضہ ہے، اسے جوں جوں چکاتے چلے جائیں یہ توں توں بڑھتا چلا جاتا ہے۔

بات خسرو بختیار کی ہور ہی ہے، ماشاٗ اللہ ان کا تعلق اس علاقے سے ہے جس نے قوم کو بڑے بڑے سیاستدان دئیے ہیں اور ان سب کے نام کے ساتھ ہی مخدوم لگتا ہے۔ وہ اتنے سمجھدار ہیں کہ جب نوے کی دہائی کے آخر میں میاں نواز شریف کا طوطی زور زور سے بول رہا تھا تو نوکری چھوڑ،مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر، رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہو گئے۔ پرویز مشرف نے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کیا تو اس کے ساتھ مل گئے، انہیں خارجہ امور پر وزیر مملکت کا عہدہ دیا گیا۔ گذشتہ انتخابات میں انہوں نے ہواکا رخ دیکھ کے قاف لیگ کی ٹکٹ نہیں لی اور اپنے گروپ کے ساتھ آزاد الیکشن لڑا۔ مسلم لیگ نون کی حکومت قائم ہوئی تو دوبارہ مسلم لیگ نون میں شامل ہو گئے۔بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ مخدوم خسرو بختیار سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں وفاقی وزیر بنایا جائے گا مگر وہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ ان سے مبینہ طور پر یہ وعدہ بھی ہوا تھا کہ ضلع کونسل کی چیئرمین شپ ان کو دی جائے گی مگر اس وعدے کو بھی ایفا نہیں کیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے میاں نواز شریف کے گذشتہ برس اٹھائیس جولائی کو نااہل ہونے کے ساتھ ہی قریبی حلقوں کو اپنی ناراضی بارے بتا دیا تھاکہ اس سے پہلے بتانا بے وقوفی ہوتی۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کا خیال تھا کہ وہ انہیں اپنے ساتھ جوڑے رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔ مخدوم صاحب کی تعلیم اور تربیت بتا دیتی ہے کہ انہوں نے کس کے ساتھ جانا ہے لہٰذا وہ لوگ جو اس یقین کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگلی اسمبلی میں شہباز شریف اکثریت کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے، مخدوم صاحب کا حالیہ قدم بتاتا ہے کہ انہیں ایسے لوگوں سے اتفاق نہیں ہے۔

مخدوم خسرو بختیار نے چار برس اور دس ماہ تک مسلم لیگ نون کے ساتھ رہ کے جنوبی پنجاب کے حقوق کی جدوجہد کی اور حکومت ختم ہونے سے پونے دو ماہ پہلے تک کرتے رہے۔ بلوچستان ہو یا جنوبی پنجاب، ان دونوں علاقوں کے حقوق کی جدوجہد میں یہ امر مشترکہ ہے کہ یہ ہمیشہ اقتدار میں ہی ہوتی ہے چاہے اقتدار کسی کا بھی ہو۔ بلوچستان کے قوم پرست اقتدار میں نہ ہوں تو پہاڑوں پرچڑھ کے پاکستان کے ہی خلاف ہوجاتے ہیں مگر جنوبی پنجاب کے سیاستدان مہربانی کرتے ہیں کہ وہ پنجاب توڑنے کے مطالبے پرہی اکتفا کرتے ہیں۔ مخدوم صاحب کو مسلسل ساڑھے چار برس تک وزارت سے دور رکھا گیاجو کہ ایک بڑی زیادتی تھی ۔ مخدوم صاحب نے اپنے قریبی ساتھیوں کو بتایاکہ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے وزیراعظم بننے پر انہیں وزیر مملکت بنانے کی پیش کش کی گئی تھی جو انہوں نے خاصی ناراضی اور ناگواری کے ساتھ مسترد کر دی تھی مگر حیرت کی بات ہے کہ وزارت کو مسترد کرنے کے بعد انہوں نے وزارت خارجہ کی سٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرمین شپ قبول کر لی تھی ۔

مخدوم صاحب جنوبی پنجاب کے رہنے والوں کو روزگار کے مواقعے فراہم کرنے کے اتنے زیادہ خواہاں ہیں کہ وہ کسی دوسرے کو اپنے سے آگے نہیں دیکھ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ انہو ں نے پچھلے ہی مہینے تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے ساتھ مل کے حمزہ شوگر ملز جیٹھ بھٹہ کا دورہ کیا اور اخباری اطلاعات کے مطابق جس شوگر ملز کی چودھری منیر نے تئیس ارب روپے بولی لگائی تھی ، اسے جناب جہانگیر ترین کے ساتھ مل کے ستائیس ارب روپوں میں خرید لیا۔ اندازہ ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کے ان تمام حقوق کی جدوجہد پاکستا ن تحریک انصاف میں جا کے کریں جو نواز شریف کے دونوں ادوار اور پرویز مشرف کے ایک دور میں حاصل ہونے سے رہ گئے ہیں۔ میں جب اتنی اعلیٰ پرسنالیٹی اور تعلیم کے حامل لوگوں کو جنوبی پنجاب کے لوگوں کے حقوق کی جدوجہد کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تومیرا دل اطمینان ہی نہیں بلکہ تشکر کے جذبات سے بھر جاتا ہے، بھلا آج کے دورمیں کون ہو گا جو اپنے لوگوں کے حقوق کے لئے ہر دور میں لوٹا کہلانے کی تہمت اٹھاتا پھرے ۔ مجھے کہنا ہے کہ یہ ضمیر فروشی اور موقع پرستی کے الزامات سمیت تمام تہمتیں ان نظریاتی لوگوں کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں جو عوامی محرومی کے خاتمے کے عظیم مقصد کے لئے خود کو وقف کئے ہوتے ہیں۔ مخدوم صاحب کو اچھی طرح علم ہے کہ 2008 کے بعداور خاص طور پر2013 کے انتخابات میں جنوبی پنجاب کے عوام نے ایک الگ صوبے کے نعرے کو مسترد کیا جب قاف لیگ اور پیپلزپارٹی کی قیادتیں پنجاب کو تقسیم کرنے کے لئے زہریلا پروپیگنڈہ کر رہی تھیں اور خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ دونوں سیاسی جماعتیں جنوبی پنجاب میں کلین سویپ کر جائیں گے مگر یہ دونوں خود ہی سویب ہو گئیں۔ مجھے مخدوم صاحب کو سلام پیش کرنا ہے کہ وہ اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے سے عاری جاہل عوام کے انتخابات میں دئیے گئے تاریخی فیصلے کو بھی اپنی راہ میں نہیں لائے اور انہوں نے ایک مرتبہ پھروہی چورن بیچنا شروع کر دیا ہے جو اس سے پہلے محمد علی درانی بھی بہاولہور صوبے کے نام پر بیچ چکے ہیں۔جنوبی پنجاب کے عوام جانتے ہیں کہ ان کا علاقہ آج بھی اندرون سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے کئی درجے بہتر ہے مگر مخدوم صاحب نہیں مانتے۔

مجھے امید ہے کہ مخدوم خسرو بختیار جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے کیونکہ ایک الگ صوبے میں ہی بہت سارے مخدوم اپنے خادموں پر گورنر، وزیراعلیٰ اور وزیر لگ سکتے ہیں لیکن اگر ان کو الگ صوبہ بنانے کی ’اجازت‘ نہ بھی ملی تو وہ یوٹرن لے کر حکومت کا حصہ بن جائیں گے چاہے وہ کسی کی بھی ہو۔جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیاں تو سڑکیں، ہسپتال، تعلیمی ادارے اور انفراسٹرکچر میں ڈویلپمنٹ سے دور ہوں گی، مگر کچھ لوگوں کی محرومی قبر کی مٹی ہی دور کرتی ہے۔یہ اپنے لوگوں کی محبت میں سرشار مخدوم خسرو بختیار کی عظمت اور اپنے مقصد سے کمٹ منٹ ہو گی کہ وہ جنوبی پنجاب کی محرومیاں دور کرنے کے لئے کسی بھی حکومت کا حصہ بن سکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم