شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو سیاسی شعور دیا ،پیر دلاور شاہ

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو سیاسی شعور دیا ،پیر دلاور شاہ

کوہاٹ(بیورورپورٹ) ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو سیاسی شعور دیا وڈیروں ‘جاگیرداروں اور سرمایہ داروں سے غریب عوام کو حقوق دلائے انہوں نے اسلامی دنیا کومتحد کرنے کی کاوشوں کاآغاز کیا ملک کو متفقہ آئین دینے‘ ملک کو ایٹمی قوت بنانے اور آمریت کے خلاف جہاد کرنے کی پاداش میں انہیں تختہ دار پر لٹکایا گیا مگر بھٹو کے نظریات آج بھی زندہ ہیں عوام کے دلوں سے ان کی محبت کو ختم کرنے کی سازشیں ناکامی سے دوچار ہوئیں ان خیالات کا اظہار سابق ایم این اے پیر دلاور شاہ ‘سلطان شاہ جیالا ‘گلزار خان ‘ شوکت ایڈووکیٹ آف لاچی ‘شفاء استاد ‘ عبدالمنان بنگش ‘قیصر ایڈوکیٹ اور دیگر نے کوھاٹ کے علاقہ تنگی بانڈہ میں بھٹو شہید کی 39 ویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کااہتمام پی پی پی کے ورکر سلطان شاہ جیالا نے کیا تھا پیر دلاور شاہ کاکہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے شہداء کی جماعت ہے جس میں ذوالفقار علی بھٹو شہید کے پورے خاندان نے جانوں کانذرانہ پیش کیا مگر آمریت کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ایوب خا ن سے لیکر جنرل مشرف تک کے مارشل لاؤں کی مخالفت اس پارٹی کاطرہ امتیاز ہے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہی ذوالفقار علی بھٹو کی عظیم رہنمائی سے نہیں بلکہ پورا پاکستان اور عالم اسلام ان کی لیڈرشپ سے محروم ہوا مگر یہ آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ جماعت ہے اسلئے کہ پی پی صرف پارٹی کانہیں بھٹو ازم کے نظریئے کا نام ہے اور نظریہ کبھی نہیں مرتا حکمرانوں نے اس نظریئے کو ختم کرنا چاہامگر اسے مزید دوام ملا مقررین کاکہنا تھا کہ پیپلزپارٹی صاف ستھری سیاست پریقین رکھتی ہے تبدیلی لانے والوں نے گالی گلوچ کی سیاست کو جنم دیا پختونوں کے ساتھ ناروا سلوک‘ ظالمانہ لوڈشیڈنگ ‘کرپشن میں اضافہ اگر تبدیلی ہے تو اس پر ہم لعنت بھیجتے ہیں پی ٹی آئی کے نئے پاکستان نے صوبہ کوناقابل تلافی نقصان پہنچایا اسکے متعدد ممبران قومی وصوبائی اسمبلی سمیت وزیراعلیٰ نیب کے ملزمان ہیں لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور پی پی پی کانظریہ تھام کر گھر گھر ‘گلی گلی پھیل جائیں اور آئندہ الیکشن میں پیپلزپارٹی کوووٹ دیں انشاء اللہ الیکشن 2018 میں جیت پی پی پی کی ہوگی اورمرکز کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں میں ہم بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے مقررین نے مطالبہ کیا کہ پارٹی کومضبوط کرنا ہے تو ورکروں کوعہدے دیئے جائیں اورتنظیم کو متحرک کرکے انتخابات کی تیاریاں شروع کی جائیں جس کے لئے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھنا ہوگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر