صوبائی وزیر خزانہ سے گیسٹر و انٹر لوجی کے پروفیسر نجیب اللہ کی ملاقات

صوبائی وزیر خزانہ سے گیسٹر و انٹر لوجی کے پروفیسر نجیب اللہ کی ملاقات

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ سے آج پشاور میڈیکل کالج کے ڈین، ممتاز معالج اور پاکستان سوسائٹی آف گیسٹرو انٹر ولوجی کے سابق صدر پروفیسر ڈاکٹر نجیب الحق نے ملاقات کی اور انکے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور خصوصی طور پر شعبہ طب کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ ڈاکٹر نجیب الحق نے صوبائی وزیر کی توجہ نوزائیدہ بچوں کو ہیپاٹائٹس کے ٹیکے نہ لگوانے کی وجہ سے انہیں رونما ہونے والی بیماریوں کی طرف یاد دلائی اور اس ضمن میں حکومتی سطح پر موثر اقدامات اٹھانے کیلئے صوبائی وزیر سے گزارش کی۔ ملاقات کے دوران سیکرٹری خزانہ خیبر پختونخوا بھی موجود تھے ملاقات میں پشاور میڈیکل کالج کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر نجیب الحق نے صوبائی وزیر کو بتایا کہ حاملہ خواتین میں تقریباً تین فیصد ماؤں میں ہیپاٹائیٹس بی کے جراثیم موجود ہوتے ہیں اور ان سے پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کو بروقت ہیپاٹائیٹس بی سے بچاؤ کے ٹیکے اگر نہ لگوائے جائیں تو ان ماؤں سے پیداہونے والے تقریباً 100 فیصد بچوں کو اس مہلک مرض میں مبتلا ہونے کا امکان ہو تا ہے اور اس کے بعد بقیہ زندگی میں ان کو جگر کے سرطان اور سرہوسز جیسی لا علاج بیماریوں کے لگنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہسپتالوں میں داخل ہونے والی تقریباً 40 فیصد مائیں ہیپاٹائیٹس بی (Cirrhosis ) کے ٹیکے بازار سے خریدنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتیں ۔ انہوں نے بتایا کہ پورے صوبے میں (HBIG ) کا مہنگاٹیکہ پیدا ہونے والے تمام نوزائیدہ بچوں کو مہیا کرنے پر تقریباً10 کروڑ سالانہ خرچ آئے گا جس کے ذریعے نوزائیدہ بچوں کو ہیپا ٹائیٹس بی سے بچایا جا سکے گااور اس اقدام کی وجہ سے چند سالو ں میں معاشرے سے ہیپا ٹائٹس بی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے صوبائی وزیر سے اس ضمن میں اقدامات اٹھانے اور بجٹ میں مذکورہ ٹیکے کی فراہمی کے لئے بجٹ مختص کرنے کی گزارش کی تا کہ معاشرے سے ہیپاٹائیٹس بی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کو اس حوالے سے ہدایت کی جائے گی کہ وہ اس ٹیکے کی فراہمی کیلئے فنڈز اپنے بجٹ میں شامل کرے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اس مقصد کیلئے رقم مختص کرکے صوبے کے تمام ہسپتالوں میں یہ ٹیکہ مفت فراہم کیا جائیگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر