وہ وقت جب نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرعبدالقدیر پر جوہری توانائی بیچنے کا الزام لگااور سابق فوجی صدر کا قوم سے معافی مانگنے کا پیغام پہنچایا گیا تو ڈاکٹر عبدالقدیر نے آگے سے کیا جواب دیا؟ چوہدری شجاعت حسین کا ایسا انکشاف کہ ہرپاکستانی کی آنکھیں نم ہوجائیں گی

وہ وقت جب نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرعبدالقدیر پر جوہری توانائی بیچنے کا ...
وہ وقت جب نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹرعبدالقدیر پر جوہری توانائی بیچنے کا الزام لگااور سابق فوجی صدر کا قوم سے معافی مانگنے کا پیغام پہنچایا گیا تو ڈاکٹر عبدالقدیر نے آگے سے کیا جواب دیا؟ چوہدری شجاعت حسین کا ایسا انکشاف کہ ہرپاکستانی کی آنکھیں نم ہوجائیں گی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم پاکستان چوہدری شجاعت نے اپنی کتاب’سچ تو یہ ہے !‘ میں محسن پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیر کے کردار اور پاکستان میں ہونیوالے سلوک پر بھی خصوصی روشنی ڈالی اور انہوں نے لکھاکہ ”

ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے میر اپہلا براہ راست رابطہ اس زمانے میں ہوا، جب میں وزیر داخلہ تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک روز میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا، اچانک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا فون آیا۔ بہت گھبرائے ہوئے تھے۔ کہنے لگے، چودھری صاحب، سی ڈی اے کے اہلکار میرے گھر کو گرانے کے لئے آگئے ہیں۔ ان کے ہمراہ بلڈنگ گرانے والی تمام مشینری بھی ہے۔ آپ اس معاملے میں کچھ کریں۔

فون رکھتے ہی میں نے گاڑی نکلوائی اور سیدھا ان کے گھر پہنچ گیا۔ دیکھا تو سی ڈی اے اہلکار واقعی مشینری سمیت ان کے گھر کے باہر کھڑے تھے۔ میں نے ان سے بات چیت کی اور ان کو وہاں سے جانے کے لیے کہا۔ سی ڈی اے اہلکار مشینری سمیت واپس چلے گئے۔ یوں ڈاکٹر صاحب کا گھر گرائے جانے کا معاملہ رفع دفع ہوگیا۔

اس واقعے کے چند روز بعد ڈاکٹر صاحب میرے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے میرے ساتھ اپنا ایک فیملی معاملہ ڈسکس کیا۔ معاملہ چونکہ ان کا ذاتی تھا، اس لیے اس کا تذکرہ یہاں مناسب نہیں۔ بہرحال میرا ان کے ساتھ ایک ذاتی تعلق بن گیا۔ صدر مشرف سمیت تقریباً سب کو اس کا پتا تھا۔

ڈاکٹر صاحب پر جوہری توانائی بیچنے کے عوض رقم لینے کا الزام عائد ہوا تو ایک روز صدر مشرف نے مجھے اور ایس ایم ظفر کو بلا کر کہا کہ آپ دونوں حضرات ڈاکٹر صاحب کے پاس جائیں۔ ان سے کہیں کہ اس معاملے پر وہ قوم سے معافی مانگیں۔ کچھ توقف کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ چودھری صاحب، مناسب یہ ہے کہ آپ اکیلے ہی جائیں اور ان سے بات کریں۔

میں نے اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب سے ان کے گھر پر ملاقات کی۔ ان کو جنرل مشرف کا پیغام پہنچایا۔ وہ کہنے لگے۔ ”چودھری صاحب! مجھ پر یہ الزام سراسر جھوٹ ہے۔ میں نے کوئی چیز فروخت نہیں کی، نہ میں نے کسی سے کوئی رقم لی ہے۔ یہ فرنیچر جو میرے گھر پر آپ دیکھ رہے ہیں، یہ بھی میری بیگم کا جہیز کا فرنیچر ہے۔ میری تو یہ حالت ہے کہ نیا فرنیچر تک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ یہ لوگ مجھ پر اتنا بڑا الزام لگارہے ہیں۔“

بہرحال ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے ملک و قوم کے مفا دمیں ٹی وی پر آکر سارا الزام اپنے سر لے لیا۔ اس پر میں نے ایک بیان جاری کیا، جس کا متن یہ ہے: ”ڈاکٹر عبدالقدیر نے بڑے پن کا ثبوت دیا ہے اور قومی مفاد میں ساری ذمے داری اپنے سر لے لی ہے۔ انہوں نے ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی، نہ ہی تفتیش کاروں کو کوئی بیان دیا ہے۔ میں نے گزشتہ روز ڈاکٹر قدیر خان کو ملاقات میں ملک میں پیدا ہونے والے بحران کے خاتمہ کے لئے کردار ادا کرنے کی استدعا کی تھی۔ انہوں نے تمام ذمے داری اپنے سر لے کر ملک و قوم کے لیے پہلے سے بڑھ کر کام کیا ہے، جس سے ملک میں کنفیوژن کا خاتمہ ہوا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کمزور سمجھ کر بیرونی دنیا ہم پر پریشر ڈال رہی ہے۔“

میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت ڈاکٹر صاحب نے معاملے کی ساری ذمے داری اپنے سر لے کر پاکستان کو ایک انتہائی مشکل صورتِ حال سے نکالا تھا اور یہ کوئی معمولی قربانی نہیں تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے اس ایثار و قربانی سے میرے دل میں ان کی عزت مزید بڑھ گئی ہے“۔

مزید : قومی