دہشتگرد شریف خاندان ، آرمی چیک پوسٹوں، عبادتگاہوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، حساس اداروں نے متعلقہ اداروں کو خبردار کردیا

دہشتگرد شریف خاندان ، آرمی چیک پوسٹوں، عبادتگاہوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، ...
دہشتگرد شریف خاندان ، آرمی چیک پوسٹوں، عبادتگاہوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، حساس اداروں نے متعلقہ اداروں کو خبردار کردیا

  

لاہور (ویب ڈیسک)حساس اداروں کی جانب سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، ایم این اے حمزہ شہباز اور ان کے اہلخانہ سمیت آئی جی پنجاب آفس، قادیانی عبادت گاہ، امام بارگاہوں اور دیگر حساس مقامات پر تحریک طالبان کی جانب سے حملے کئے جانے کی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے ، وزارت داخلہ کی جانب سے مراسلہ جاری، رپورٹ میں بتائے جانے والی شخصیات، تنصیبات اور عمارتوں کی سکیورٹی فول پروف کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ 

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

روزنامہ خبریں کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے محکمہ داخلہ پنجاب کو ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان مقامی سطح پر موجود اپنے سہولت کاروں کی مدد سے جلد کوئی تخریب کاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حساس اداروں کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشتگرد سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور ان کی فیملی، وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف، حمزہ شہباز اور ان کے دیگر اہل خانہ، آئی جی آفس، مختلف مقامات پر اکٹھے کھڑے پولیس اہلکار اور افسران، انسداد دہشتگردی فورس (سی ٹی ڈی) کے افسر، سول سیکرٹریٹ پنجاب، سابق ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک، گیریژن چیک پوسٹ کیولری گراﺅنڈ لاہور، پاک آرمی میوزیم لاہور کینٹ، امام بارگاہ نزد مسجد ابراہیم گجومتہ لاہور، امامبارگاہ نزد تبلیغی جماعت اجتماع رائیونڈ لاہور، ملٹری ڈیری فارم اوکاڑہ، رینجرز ہیڈکوارٹر لاہور اورہیڈکوارٹر ونگ نارووال، احمدیہ بیت الذکر نارووال، مرکزی امام بارگاہ نارووال، سٹی پولیس سٹیشن کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ، امام بارگاہ چارق چوک کوٹ ادو اور احمدیہ جنت جانہ کوٹ ادو کو دہشتگردی کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

حساس اداروں کی رپورٹ کے بعد وزارت داخلہ پنجاب سے پنجاب پولیس کے اعلیٰ افسران اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ان اہم شخصیات، تنصیبات، عمارتوں اور عبادت گاہوں کی سکیورٹی سخت کریں جبکہ کسی بھی جگہ پر پولیس اہلکاروں کو ایک ساتھ اکٹھے کھڑے ہونے سے بھی سختی سے منع کردیا گیا ہے۔

اخباری ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جیلوں میں دہشتگردی کے مقامات میں بند قیدیوں کے اہل و عیال اور ملاقاتیوں کے میل جول اور دیگر نقل و حرکت میل جول اور ہر ذرائع سے ہونے والے روابط کی کڑی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ماضی میں فورتھ شیدول کا حصہ رہنے والے اور تاحال فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی بھی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے جیل کے ملازمین کی بھی کڑی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کوئی بھی ملازم کسی لالچ یا دباﺅ میں آکر جیلوں میں دہشتگردی کے مقدمات میں بند ملزمان و مجرمان کے ہتھے چڑھ کر کسی غیر قانونی سرگرمی میں ان کی معاونت نہ کرسکے۔

دوسری جانب سیف سٹی اتھارٹی کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ مانیٹرنگ کے دوران ایک سے زیادہ مرتبہ کسی مشکوک شخص، موٹرسائیکل یا گاڑی کی موومنٹ دیکھیں توفوراً متعلقہ پولیس، ڈولفن اور پی آر یو سکواڈ وغیرہ کو مطلع کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ تخریب کاری سے قبل اس کا سدباب کیا جاسکے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور