جامعہ کراچی کی بد حالی پر ایک نظر

جامعہ کراچی کی بد حالی پر ایک نظر
جامعہ کراچی کی بد حالی پر ایک نظر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تعلیم کے رحجان سے کسی بھی معاشرے کے ترقی یافتہ یا غیر ترقی یافتہ ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے لیکن بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ مملکت خدادا د پاکستان میں تعلیم کا معیار دوہرا پایا جاتا ہے ، یہاں اشرافیہ کے بچے یا تو بیرون ممالک میں تعلیم حاصل کرتے ہیں یا پھر ایسے اسکولوں اور تعلیمی اداروں کا انتخاب کیا جاتا ہے کہ جو بہت ہی زیادہ لگژری ہوتے ہیں کہ جہاں ایک عام اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شہری اپنے بچوں کو پڑھانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا۔اس کے بر عکس دوسرا نظام تعلیم یا طریقہ رائج یہ ہے کہ سرکاری سر پرستی میں چلنے والے تعلیمی ادارے اور درس گاہیں ہیں کہ جہاں بیٹھنے کو مناسب کرسی تک میسر نہیں ہوتی۔کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیمی درسگاہوں کو آراستہ کیا گیا ہے لیکن کیا کیجئے کہ ان جدید تقاضوں کو پورا کرنے والی تعلیمی درسگاہوں کا نظم ونسق توآج بھی انہیں دقیانوسی ادوار کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے، یا شاید میں غلط کہہ گیا ہوں کیونکہ دقیانوسی زمانے میں بھی تعلیمی درسگاہوں کے دوہرے معیار نہ تھے اور جو تعلیمی درسگاہیں ہوا کرتی تھی تو ان کا باقاعدہ نظم ونسق اچھے انداز سے چلایا جاتا تھا۔لیکن آج ہم اپنے وطن میں موجود نہ تو یکساں تعلیمی نظام کو رائج کر پائے ہیں اور جب یہ کام ہم نہیں کر پائے ہیں تو پھر معاشرے میں دیگر بنیادی حقوق بالخصوص انصاف کی فراہمی بھی جاتی رہی۔

جب کسی معاشرے کے تعلیمی نظام میں ہی عدل و انصاف نہ ہو تو معاشرے کے افراد کو دیگر بنیادی حقوق کیسے حاصل ہو سکتے ہیں۔درا صل پاکستان میں تعلیم کے دوہرے معیار پر تو کتابیں لکھی جا سکتی ہیں اور اس کے نقصانات بتائے جا سکتے ہیں لیکن یہاں اس کالم میں در اصل پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سب سے بڑی درسگاہ کی بد حالی کو بیان کرنا ہے کہ شاید ارباب اقتدار یا پھر دقیانوس کے زمانے کے حکمران جامعہ اس کا نوٹس لے لیں اور جامعہ کی بد حالی کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ایک اندازے کے مطابق کراچی یونیورسٹی پاکستان کی بڑی تعلیمی درسگاہوں میں سر فہرست شمار کی جاتی ہے اور کراچی شہر کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ کراچی ہی کہلاتی ہے کہ جہاں لگ بھگ ایک وقت میں پچیس سے تیس ہزار طلباء و طالبات تدریس کے عمل سے گزرتے ہیں اور یہ سلسلہ ہر سال جاری رہتا ہے۔اب آئیں ذرا کراچی کی سب سے بڑی درسگاہ کی کچھ معمولی نوعیت کی باتیں بیان کرتے ہیں اور فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے کہ کیا واقعی جامعہ کو ایسا ہونا چاہئیے ؟ یقیناًجامعہ کراچی میں بہت سی خوبیاں موجود ہیں لیکن یہ خوبیاں جامعہ کی بد حالی کو دور کرنے میں کسی طرح بھی اپنا کردار ادا نہیں کر پا رہی ہیں۔

سب سے پہلے جامعہ کے نظم و نسق کی بات کی جائے تو یہاں کسی قسم کاکوئی نظم ونسق نہیں پایا جاتا ہے، یہاں کلاسوں میں موجود کرسیوں اور میزو ں پر مٹی کے ٹیلے جمے رہتے ہیں، یہاں کے تمام شعبہ جات میں تقریباً یکسر کیفیت موجود ہے۔ اسی طرح اگر جامعہ کراچی کے بات رومز کی کیفیت بیان کی جائے تو شاید پبلک باتھ روم جامعہ کراچی کے شعبہ جات کے باتھ رومز کی نسبت قدرے بہتر پائے جائیں گے۔

نظم و نسق کی ایک اور مثال اگر دیکھنا ہو تو ملازمین کا رویہ دیکھ لیجیے جو درا صل طلبہ و طالبات کی جانب سے جمعہ کرائے جانے والی فیسوں اور ٹیکسوں کی وجہ سے ہی برسرروزگار ہیں لیکن مشکل اوقات میں طلبہ و طالبات کی رہنمائی کرنے میں یہ عار سمجھتے ہیں۔دفاتر میں نماز کے لئے اذان سے نصف گھنٹہ قبل اور نماز کے ایک گھنٹہ بعد حاضر ہوتے ہیں اور صبح کے اوقات کی تو بات ہی مت کیجئے کہ جامعہ کا وقت صبح نو بجے یا ۸ بجے شروع ہوتا ہے ، اکثریت کی صبح گیارہ بجے سے پہلے ہوتی ہی نہیں۔مزید اگر جامعہ کراچی کے زیر انتظام ہونے والے امتحانات کی حالت پر گفتگو کی جائے تو یہاں ایم بی بی ایس سے لے کر ایل ایل بی، ایل ایل ایم، ایم اے، بی ایڈ اور ایم ایڈ سمیت بی اے بی کام وغیرہ کے امتحانات لئے جاتے ہیں ، حالانکہ یہ سب کی سب اہم ترین ڈگریاں ہیں لیکن کبھی ان امتحانات کے دوران کمرہ امتحانات کی صورت دیکھنا ہو تو یہاں بیٹھے طلباء کے لئے پنکھوں تک کی سہولت موجود نہیں ، درجنوں شعبہ جات میں اساتذہ اور اسٹاف کے کمروں میں ایئر کنڈیشنز بلا ضرورت استعمال ہوتے رہتے ہیں لیکن طلباء کے لئے امتحانی مراکز پر ٹوٹی پھوٹی کرسیاں، میزیں اور سخت گرمی میں بغیر پنکھوں کے امتحان لیا جا تا ہے ، حالیہ دنوں ہونے والے امتحانات کے مراکز کا دورہ کر کے دیکھا جا سکتا ہے کہ مسکن کی طرف لگائے گئے شامیانوں میں کس طرح کی کرسیاں اور میزیں فراہم کی گئی ہیں اور آج کل پڑنے والی سخت ترین گرمی میں ان شامیانوں میں موجود بیٹھے کس قیامت خیز گرمی میں امتحان دے رہے ہوتے ہیں۔

افسوس تو اس وقت اور زیادہ ہوتا ہے کہ جب جامعہ کی ان بدحالیوں پر کوئی طالب علم اٹھ کر شکایت کرے یا توجہ دلائے تو پھر اس کے ساتھ امتحانات میں انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ایسی مثالیں قائم کی جا چکی ہیں۔گزشتہ برس کرمنالوجی کے چیئر مین صاحب نے ایسا ہی کیا تھا جس کی شکایات متعدد طلباء نے کی تھی۔بہر حال جامعہ کراچی میں نظم و نسق کے علاوہ تدریسی عمل میں بھی بڑی خامیاں موجود ہیں جن کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی طرح ایک اور اہم بات جو اس کالم کے ذریعہ بیان کرنے کا مقصد ہے وہ یہ ہے کہ جامعہ کراچی کہ جہاں پچیس سے تیس ہزار طلباء کہ جن کو آپ پڑھا لکھا انسان کہہ سکتے ہیں روزانہ کی بنیادوں پر آتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان ہزاروں طلباء میں شعور کی ایک پہلی کرن تک پیدا نہیں ہوپائی کیونکہ اگر آپ جامعہ کراچی کے اندر موجود کینٹین اور کیفے ٹیریا کے اطراف کے مناظر دیکھیں تو آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچر کنڈی کے ڈھیر پر گھوم رہے ہیں اور یہ سب اس لئے ہے کہ ہزاروں پڑھے لکھوں کو یہ تربیت نہیں دی گئی کہ کوئی چیز کھانے کے بعد اس کا کچرا یا فضلہ ڈسٹ بن میں ڈالا جاتا ہے یا کسی مخصوص جگہ پر جمع کیا جاتا ہے۔ اس عنوان سے جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو بھی چاہئیے کہ ہوٹلوں اور کیفے ٹیریا کے اطراف میں ڈسٹ بن باکس لگائے جائیں اور طلباء کا فرض ہے کہ وہ جب کوئی لفافہ یا کاغذ استعمال کریں تو اسے مخصوص کچرا دان میں ہی ڈالیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ جامعہ کراچی میں موجود جو بنیادی قسم کے مسائل ہیں ان کی نشاندہی کی جائے اور کوشش کی گئی ہے کہ چند ایک بنیادی مسائل کو بیان کیا گیا ہے، بڑے بوڑھوں کی کہاوت ہے کہ ’’کم کہے کو زیادہ جانو‘‘۔ 

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ