گواد ر میں تعمیر و ترقی کاعمل تیزی سے جاری,سی پیک سے بلوچستان کی قسمت بدلنے والی ہے:میاں محمود الرشید

گواد ر میں تعمیر و ترقی کاعمل تیزی سے جاری,سی پیک سے بلوچستان کی قسمت بدلنے ...
 گواد ر میں تعمیر و ترقی کاعمل تیزی سے جاری,سی پیک سے بلوچستان کی قسمت بدلنے والی ہے:میاں محمود الرشید

  

لاہور( افضل افتخار) صوبائی وزیر ہاؤسنگ  پنجاب میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ گواد ر میں تعمیر و ترقی کاعمل تیزی سے جاری ہے،سی پیک سے گوادر ہی نہیں بلکہ بلوچستان کی قسمت بھی بدلنے والی ہے۔

روزنامہ ’’پاکستان ‘‘کے زیر اہتمام  دو روزہ ’’پاکستان پراپرٹی ایکسپو2019 ءاینڈ گوادر انوسٹمنٹ کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئےصوبائی  وزیر ہاؤسنگ میاں محمود الرشید کا کہنا تھا کہ گوادر میں تعمیر وترقی اور سرمایہ کاری کے لئے خوبصورت کانفرنس کا انعقاد قابل تحسین ہے، ملک کے چاروں کونوں سے لوگوں نے ماضی میں بھی گوادر میں سرمایہ کار ی کی او ر اب سی پیک کے بعد دوبارہ گوادر میں تعمیر و ترقی اور سرمایہ کاری کا رحجان بڑھا ہے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے گوادر کا دورہ کیا،اس وقت گواد ر میں تعمیر و ترقی کاعمل تیزی سے جاری ہے،گوادر میں پاکستان کا دوسرا بڑا ائیرپورٹ تعمیر کیا جارہا ہے جبکہ سڑکوں اور پانی کے منصوبوں کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کے سلسلہ میں بھی پیش رفت ہورہی ہے، سی پیک سے گوادر ہی نہیں بلکہ بلوچستان کی قسمت بھی بدلنے والی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا پاکستان میں بڑھتی آبادی کے پیش نظر رئیل سٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹرز کا روشن مستقبل ہے ۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دوسرے مقررین سابق صدر ڈی ایچ اے میجر (ر)رفیق حسرت نے کہا کہ آج جس پاکستان کے خطہ کے بارے میں آج لوگوں نے اظہار خیال کیا وہ اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے وہ ایک تاریخ ہے نہ صرف ماضی میں ایک تاریخ تھی انشاءاللہ پاکستان کے مستقبل کی بھی و ہ تاریخ ہے اور جو لوگ آج گوادر کے ساتھ جڑ جائیں گے ان کا نام مستقبل میں شاندار لوگوں میں شمارہوگا تمام احباب جو گوادر جاکروہاں کی محنتوںسے روشناس ہوئے جو لوگ آرزو رکھتے ہیں کہ گوادر جانا ہے یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے یہ پاکستانیوں کے لئے ایک بہت بڑی خوشی ہے اللہ کی دھرتی پر اٹھارہ میٹر تھری ڈی پورٹ صرف دنیا میں دو ہیں ایک امریکہ میں ہیں اور دوسرا گوادر میں ہے اور اس کا کوئی ثانی نہہیں ہے امریکہ کا ڈی پورٹ بھی اس کے سامنے کچھ نہیں ہے کیونکہ یہاں پرچین کا سامان اس پورٹ پر موجود ہے جو وہی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ دنیا کی تمام تجارت اپنے وطن سمندر اور ہمارے گواردر سے ہوتی ہوئی گزرے گی میں ڈویلپرز کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اتنے بے بس نہیں ہیں ٹیکسز کے باوجود ہم نے کسی سے بھیگ نہیں مانگی میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم نے پاکستان کے اندر رہ کر جو فیڈریشن بنائی ہے اس کا سفر جاری ساری ہے۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

اس حوالے سے سیکرٹری فنانس ( جی بی ڈی اے) طارق منیر نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہرحکومت ہی گوادر کو بیچے کی کوشش کرتی ہے مگر خوش قسمتی سے یا بدقسمتی سے اب تک کسی نے اس کے لئے کچھ نہیں کیا میں آج گوادر کے قد کی بات کروں گا گوادر میں پانی نہیں پینے نہانے اور کپڑے دھونے کےلئے پانی خریدنا پڑتا ہے اس لئے وہاں پر شجرکاری نہیں کی جا سکتی ایک وقت تھاجب سہولیات موجود تھیں گوادر میں اشیاءایران سے آتی ہے گوادر ہمارا سہانہ مستقبل ہے اور وہ ہماری تقدیر بدلے گا یہ کس طرح سے ہوگا یہ حکومت ہی بتاسکتی ہے میں حکومت سے کہتا ہوں کہ گوادر کے لئے کیا چائیہے جو کچھ چاہئیے وہ سب موجود ہے لیکن میں دکھ سے کہتاہوں کہ وزیراعظم وہاں آئے وہ جہاز پر آئے اور کچھ دیر پورٹ میں رہے اور افتتاحی کیااور چلے گئے گوادر پاکستان کی بقا اور سلامتی ہے وزیر اعظم پاکستان کو گوادر کو اہمیت دینی چاہئیے اور اس حوالے سے بریفنگ لیں۔

 جنرل سیکرٹری ( جی بی ڈی اے)باسط محمود ملک نے کہا کہ ایکسپو بہت کامیاب رہی اور اس کا سارا کریڈٹ مجیب الرحمان شامی کو جاتا ہے جنہوں نے گوادر کے حوالے سے عوام کو بہت اچھے اندار سے آگاہ کیا جس سے لوگوں کو اس کی اہمیت سے آگاہی حاصل ہوئی گوادر میں انڈسٹری کمرشل،ریذیڈنٹس سب موجود ہے وہاں پر سیر و تفریح کے لئے جایا جاسکتا ہے ایک بہت اچھا مقام ہے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ عزیز چوہدری نے کہا کہ گوادر کو پاکستان کے رہائشیوں کے لئے شیئر کرنے کاخیال آیا اور سی پیک کے حوالے سے جو گوادر کی اہمیت دیکھی تو گوادر سی پیک کا دل ہے یہ اصل میں چائنہ کا پراجیکٹ ہے اسلئے یہ ایک حقیقت ہے اور تکمیل تک پہنچے گی ہمارے لئے بحثیت پاکستان ہمارے لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس طرح کس طرح سے مستفید ہوتے ہیں جب میں گوادر گئی تو چھ دفعہ خاتون کی حثییت سے میں کوریج کےلئے جاچکی ہوں یہ محفوظ جگہ ہے اس لئے کسی کو گوادر جانے میں اندیشہ ہوں کہ یہ غیر محظوظ علاقہ ہے تو ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔

ڈاکٹر غلام مرتضی مغل، میاں طلعت احمد سابق صدر ڈی ایچ اے و چیئرمین الخدمت گروپ ،میجر انور ڈار سینئر نائب صدر ڈی ایچ اے میجر سید راجپوت نعیم خان صدر سندھ جی بی ڈی اے اوافان قریشی جوائنٹ سیکرٹری جی بی ڈے اے ، شہزادہ علی ذوالقرنین، میاں اشفاق انجم اور ایثار رانا نے بھی اظہار خیال کیااور گوادر سٹی کی افادیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ ایک بہت اچھا پراجیکٹ ہے جس سے پاکستان کی ترقی وابستہ ہے اور آج شہری اس سے استفادہ حاصل کرکے اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں، سی پیک کی وجہ سے اس کی پوری دنیا میں بہت اہمیت بڑھ گئی ہے اور جس طرح سے لوگوں نے اس ایکسپو میں دلچسپی لی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اس سے ضرور مستفید ہوں گے۔

مزید : رئیل سٹیٹ /علاقائی /پنجاب /لاہور