حکومت احساس اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بروئے کار لائے لیکن یہ کام نہ کرے۔۔۔خواجہ آصف نے وزیر اعظم کو مشورہ دے دیا

حکومت احساس اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بروئے کار لائے لیکن یہ کام نہ ...
حکومت احساس اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بروئے کار لائے لیکن یہ کام نہ کرے۔۔۔خواجہ آصف نے وزیر اعظم کو مشورہ دے دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان مسلم لیگ(ن)کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ حکومت احساس پروگرام، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بروئے کار لائے لیکن فنڈز کی تقسیم کو سیاسی رنگ نہ دے ۔کورونا کے خلاف جنگ کے موقع پر قومی جذبے کا مظاہرہ ہونا چاہئے ، قوم کو خانوں میں نہ بانٹیں ۔

نجی ٹی وی کے مطابق سپیکر کی بلائی گئی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ حکومت احساس پروگرام،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بروئے کار لائےلیکن فنڈز کی تقسیم کو سیاسی رنگ نہ دے ،پی ٹی آئی کاسرکاری وسائل کی تقسیم،پارٹی جھنڈوں،رنگوں،بینرزکااستعمال اورٹی شرٹ   دینے کا عمل مناسب نہیں،کورونا کے خلاف جنگ کے موقع پر قومی جذبے کا مظاہرہ ہونا چاہے،قوم کو خانوں میں نہ بانٹیں ۔ انہوں نے کہاکہ ٹائیگر فورس کا استعمال سیاست اور قومی جذبے کی نفی ہے،ہم بھی انفرادی اور پارٹی سطح پر فنڈز جمع کرتے ہوئے عوام کی مدد کررہے ہیں، پی ٹی آئی پارٹی سطح پر فنڈز جمع کرے ، سرکاری فنڈز کو ایک سیاسی جماعت کی پروموشن کا ذریعہ نہ بنائیں ۔

خواجہ آصف نے کہاکہ کوئٹہ میں ڈاکٹرز پر تشدد اور ان کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہیں،جن ہاتھوں نے شفا دینی ہے،سٹیتھو سکوپ پکڑے ہوئے ہیں ان میں ہتھکڑیاں پہنائی اور ڈنڈے برسائے جارہے ہیں،جائز مطالبہ کرنے والے ڈاکٹرز پر ناحق تشدد اور پرتشدد رویہ ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہے،ڈاکٹرز کو حفاظتی لباس اور دیگر ضروری ساز وسامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وفاق میں قائم کورنٹین مراکز سے متاثرہ افراد کی صوبوں کو منتقلی پر تشویش ہے۔ خواجہ آصف نے کہاکہ وفاق سے صوبوں کو بھجوائے جانے والے افراد میں سے پچاس فیصد کے کورونا سے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں ،اتنی بڑی تعداد میں متاثرہ افراد کو صوبوں کو منتقل کرکے حکومت خود ملک میں کورونا پھیلا رہی ہے،ان افراد کی میپنگ اور ٹیسٹنگ بھی نہیں ہورہی جو انتہائی تشویشناک امر ہے،پہلے ہی ملک میں کورونا وبا انتہائی تیزی سے پھیل رہی ہے جو فکرمندی کی بات ہے۔

مزید :

قومی -