Fact Check: کیا واقعی شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے میں سات افراد مارے گئے؟ سوشل میڈیا پر وائرل خبر کی حقیقت سامنے آگئی

Fact Check: کیا واقعی شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے میں سات افراد مارے گئے؟ سوشل ...
Fact Check: کیا واقعی شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے میں سات افراد مارے گئے؟ سوشل میڈیا پر وائرل خبر کی حقیقت سامنے آگئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سرکاری حکام نے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے کی تردید کی ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کی حکومت جاتے ہی امریکہ نے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں پہلا ڈرون حملہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں ایک  ہی خاندان کے سات افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ اسی دعویٰ سے متعلق ایک صحافی کا ویڈیو پیغام بھی وائرل ہے جس کو مبینہ ڈرون حملے کی اطلاع دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس صحافی کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی حکومت جاتے ہی امریکہ نے پاکستان پر ڈرون حملہ کردیا۔

سوشل میڈیا پر ڈرون حملے کی خبریں وائرل ہوئیں تو سرکاری حکام نے ان کی تردید کردی۔  دہشتگردی کے حوالے سے اپنی خبروں سے شہرت پانے والے سینئر صحافی رفعت اللہ اورکزئی   نے اپنے ایک ٹویٹ میں سرکاری حکام کے حوالے سے ڈرون حملے کی تردید کی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا" محکمہ اطلاعات بنوں نے شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں مبینہ ڈرون حملے کو جھوٹ پرمبنی اور من گھڑت خبر قرار دیا ہے۔ ڈی سی شمالی وزیرستان اور ضلعی انتظامیہ نے ایسی تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔"

وائس آف امریکہ (وی او اے) سے وابستہ صحافی ارشد محمود نے پبلک ریلیشنز آفس بنوں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔