مقبو ضہ کشمیرمیں عیدکے موقعہ پر ہندو مسلم کشیدگی، دو ہلاک،کرفیو نافذ

مقبو ضہ کشمیرمیں عیدکے موقعہ پر ہندو مسلم کشیدگی، دو ہلاک،کرفیو نافذ
مقبو ضہ کشمیرمیں عیدکے موقعہ پر ہندو مسلم کشیدگی، دو ہلاک،کرفیو نافذ

  


سرینگر (مانیٹرنگ ڈیسک) عیدالفطر کے موقعہ پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کشتواڑ میں ہندو اور مسلم باشندوں کے درمیان پرتشدد تصادم کے دوران دو افراد ہلاک ہونے کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق عید الفطر کے روز جب مسلمان عیدگاہ کی طرف جوق در جوق نماز کے لیے جا رہے تھے تو بعض ہندو نوجوانوں نے ان پر پتھراو¿ کیا اور ان کا مذاق ا±ڑایا۔

بی بی سی کے مطابق کشمیر کی حکومت کے وزیر داخلہ سجاد کچلو نے بتایا کہ ’ضلع میں حالات کشیدہ لیکن قابو میں ہیں۔دونوں فرقوں کے رہنماﺅں کے ساتھ حکومت رابطہ میں ہے۔‘سید علی گیلانی نے ان واقعات کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور وادی بھر میں کو ہڑتال کی کال دے دی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ضلع میں ہندوں کی آبادی چالیس فیصد ہے اور اکثر اوقات ایسے فسادات رونما ہوتے رہتے ہیں۔عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ یعنی عید الفطر کے روز جب مسلمان عیدگاہ کی طرف جوق در جوق نماز کے لیے جا رہے تھے تو بعض ہندو نوجوانوں نے ان پر پتھراو¿ کیا اور ان کا مذاق ا±ڑایا۔ نماز کے بعد مسلمان نوجوانوں نے جلوس نکالا اور ہندوں کی املاک کو نذرآتش کیا جس کے بعد ہندوں نے بھی مسلمانوں کی دکانوں کو آگ لگا دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے واقعات میں زیادہ تر ہندوں کی املاک کو نقصان پہنچا گیا ہے۔پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے نیم فوجی دستے اور فوج کی مدد بھی طلب کی۔پولیس کارروائی کے دوران اروند کمار نامی ایک شہری گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ دوفرقوں کے درمیان پرشدد جھڑپوں کے دوران مقامی ہوٹل میں ملازمت کررہا ایک مسلمان شہری بھی ہلاک ہوگیا۔دریں اثنا حکومت نے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ضلعی پولیس اور سول انتظامیہ کے افسروں کو تبدیل کردیا گیا ہے۔واضح رہے ضلع میں 12اگست 2008کو بھی ایسے فسادات میں تین شہری مارے گئے اور ڈیڑھ سو زخمی ہوگئے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...