قدم قدم پر رکاوٹو ں کے بارڈر ، شہری کنٹینروں کے نیچے سے آ رپار جاتے رہے

قدم قدم پر رکاوٹو ں کے بارڈر ، شہری کنٹینروں کے نیچے سے آ رپار جاتے رہے

  

تجزیہ : شہباز اکمل جندران

                             لاہور میں بنیادی انسانی حقوق کی بدترین معطلی پر دستور بھی حیران رہ گیا۔ نو گو ایریا کا ذکر سننے والے لاہور یوں نے عملی شکل دیکھی تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔داخلی و خارجی راستوں پر کھڑی رکاوٹو ں نے ڈاکٹر قادری کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں ، مریضوں اور باراتیوں کو پیدل بھی شہر میں داخل ہونے سے روک دیا ۔ گردونواح میں کام کاج پر معمور شہری بھی رکاوٹوں کے بارڈر عبور نہ کرسکے۔ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث منزل کی طرف پیدل رواںدواں شہریوں نے ماہ اگست میں 47کے لٹے پھٹے مہاجرین کی یاد تازہ کردی۔اس قدر سخت اقدامات سے عام شہری بھی دال میں کالا محسوس کرنے لگا۔قومی سلامتی کانفرنس میں تقریر کے دوران وزیر اعظم نے تحریک انصاف کے لیے نرم تو عوامی تحریک کے لیے سخت رویہ اپنا یا۔ تو شہری سوال کرنے لگے کہ یوم شہدا منانے دیا جاتا تو کیاہوجاتا؟ لاہور کے شہریوں نے گزشتہ روز آئین کی معطلی اور نوگو ایریاکے دن بھر عملی نمونے دیکھے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں کی طرف سے لاہور کاشیخوپورہ ، قصور، اوکاڑہ، رائیونڈ،گوجرانوالہ ، شرقپورجیسے شہروں سمیت صوبے بھر سے تو رابطہ منقطع کیا ہی گیا ۔ لیکن لاہور کے اپنے علاقوں ، شاہدرہ، بیگم کوٹ، ٹھوکر نیاز بیگ، چوہنگ، کاہنہ ، رائیونڈ ، بحریہ ٹاﺅن،بیسیوں رھائشی سکیموں کا رابطہ بھی شہر سے کاٹ دیا گیا۔ پیدل افراد کو بھی شہر میں داخل نہ ہونے دیا گیا۔مریض لیے ایمبولینسیں اور باراتیوں کی گاڑیاں بھر شہر کے داخلی راستوں پر کھڑی رہیں۔ ہزاروں افراد کنٹینروں اور کھڑی رکاوٹوں کے باعث دن بھر پریشان رہے۔ سب ارب یا گردونواح میں کام کاج کے لیے شہر سے نکلنے والوں کو واپس نہ آنے دیا گیا۔ مریضوں کے لواحقین ہوں یا باراتی، ملازمت پیشہ افراد ہوں یا ، سرکاری ملازم، دیہاڑی دار مزدو ہو یا عام شہری ہر کوئی شہر میں داخلے کے لیے پولیس اہلکاروں کی منتیں کرتا نظر آیا۔شہر کے داخلی و خارجی راستوں کے علاوہ فیصل ٹاﺅن، ماڈل ٹاﺅ ن اور ان سے متصل علاقے ، فیروز پور روڈ، گارڈن ٹاﺅن ، ٹاﺅن شپ، جوہر ٹاﺅن،مسلم ٹاﺅن،نہر، اور دیگر علاقوں کی سٹرکوں پر پولیس کے رزیررو دستے دن بھر موجود رہے۔میٹروبس سروس اور پٹرول پمپ جزوی طورپر بند رہے۔ یہ بلاشبہ بنیادی انسانی حقوق کی معطلی کا دن تھا۔جب دستور پاکستان کے آرٹیکل 15کے تحت لاہور میں آزادانہ داخل ہونے یا نقل وحرکت کی اجازت نہیں تھی۔حالانکہ آئین پاکستان کا یہ آرٹیکل پاکستان شہریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے کسی بھی علاقے میں قانون کے تابع آزادانہ نقل و حرکت کرنے ، سکونت اختیار کرنے اور آباد ہونے کا پورا پورا حق رکھتے ہیں۔ یہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ اس سے اگلہ آرٹیکل 16پاکستانی شہریوں کو امن عامہ کے مفاد میں قانون کے مطابق عائد کردہ پابندیوں کے تابع پرامن طورپر اسلحے کے بغیر جمع ہونے کا حق دیتا ہے۔لیکن گزشتہ روز لاہور میں دستور پاکستان کے یہ دونوں آرٹیکل ہی معطل نظر آئے جب تحریک منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے کارکنوں کو یوم شہدا منانے کے لیے پرامن طورپر اکھٹے ہونے اور ان کارکنوں کے داخلے کے پیش نظر معصوم شہریوں کو بھی شہر میں داخل ہونے حتیٰ کہ اپنے گھروں میں جانے سے روک دیا گیا۔دوسری طرف شہر میں ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر رہی۔ہرطرف چھٹی اور ہوکا سماں رہا۔ سٹرکوں پر اپنی اپنی منزل کی جانب رواں دواں پیدل شہریوں نے آزادی کے اس مہینے میں ، اسی شہر میں 67برس پہلے گزرنے والے لٹے پھٹے مہاجرین کی یاد تازہ کردی۔21ویں صدی کا ماڈرن لاہور 9اگست کو بیسیوں صدی کے کسی ابتدائی عشرے کی طرح بے رونق منظر پیش کرتا رہا۔ اس قدر سخت اقدامات سے عام شہری بھی دال میں کالا محسوس کرنے لگا۔ شہریوں کا کہناتھا یوم شہدا منانے دیا جاتا تو کیا ہوجاتا، کیا حکومت اس قدر کمزور ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کا چند گھنٹوں کا دھرنا برداشت سے باہر ہورھا ہے۔ ایسی کیا بات ہے کہ پیپلز پارٹی نے تین دن تک دھرنا دینے کے باوجودڈاکٹر قادری سے خطرہ محسوس نہ کیا۔ دن بھر ڈاکٹر قادری ، ان کی جماعت کے دیگر رہنما ، عمران خان اور وفاقی و صوبائی وزرا میڈیا پر چھائے رہے۔وزیر اعظم نواز شریف نے قومی سلامتی کانفرنس میں تحریک انصاف سے مذاکرات کاذکر کرنے اوراپنی تقریر میں عوامی تحریک کا ذکر نہ کرنے پر تاثر دیا کہ وہ ڈاکٹر قادری اور ان کے انقلاب کو نہیں مانتے ۔حالانکہ نرم گوشہ رکھنے کی صورت معاملات کو بخوبی کنٹرول کیا جاسکتا تھا۔

مزید :

تجزیہ -