اس آدمی کے جسم پر نشانات قدرتی نہیں بلکہ۔۔۔ ایسی خوفناک حقیقت کہ جان کر آپ کی گھبراہٹ کی بھی انتہا نہ رہے

اس آدمی کے جسم پر نشانات قدرتی نہیں بلکہ۔۔۔ ایسی خوفناک حقیقت کہ جان کر آپ کی ...
اس آدمی کے جسم پر نشانات قدرتی نہیں بلکہ۔۔۔ ایسی خوفناک حقیقت کہ جان کر آپ کی گھبراہٹ کی بھی انتہا نہ رہے

  



ٹوکیو(مانیٹرنگ ) آج کے دن 9اگست 1945ء کو امریکہ نے جاپان کے شہر ناگاساکی پر ایٹم بم پھینکا۔ اس سے دو دن قبل امریکہ جاپانی شہر ہیروشیما پر بھی ایٹم بم چلا چکا تھا۔ ان ایٹمی دھماکوں میں 2لاکھ 26ہزار سے زائد لوگ لقمۂ اجل بن گئے ۔ ان دھماکوں کی تابکاری نے ہیرشیما ، ناگاساکی اور گردونواح میں موجود جاپانیوں کی کئی نسلیں معذور کر دیں، آج بھی ان علاقوں میں پیداہونے والے بچوں میں اس کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ کئی لوگ ان دھماکوں میں شدید زخمی ہوئے۔ ان میں ایک 16سالہ لڑکا سمٹری تانی گوچی بھی تھا۔ دھماکے کے وقت گوچی اپنی بائیسکل پر جا رہا تھا۔ دھماکہ ہوا تو وہ اپنے سائیکل سے دور جا گرا اور بری طرح زخمی ہو گیا۔ اس کی پیٹھ، کندھے اوربازوؤں پر گوشت کے چیتھڑے لٹکنے لگے جیسے چھری سے کاٹے گئے ہوں۔ وہی اسی حالت میں 3دن تک بے یارومددگار بھٹکتا رہا۔ پھر ریسکیو کیا گیا اور ایک ہسپتال میں طبی امداد میسر ہوئی اور اس کی جان بچی۔ آج ان دھماکوں کے 70سال بعد گوچی کی عمر 86برس ہے۔ آج بھی اس کا دایاں بازو ٹھیک سے کام نہیں کرتا اور اس کی بیوی روزانہ اس کے بازو پر مالش کرتی ہے۔ ایٹمی تابکاری کے نتیجے میں گوچی ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گیا تھا اور اس نے اسی حالت میں زندگی گزاری۔ آج بھی اس کی پیٹھ، سینے اور بازوؤں پر ان زخموں کے نشانات موجود ہیں جنہیں دیکھ کر وحشت ہوتی ہے۔

زندہ بچ جانے کے بعد گوچی نے زندگی بھر ایٹمی اسلحے کے خلاف کام کیا۔ اس نے ناگاساکی پر ایٹمی دھماکے میں زندہ بچ جانے والے افراد پر مشتمل ایک گروپ بنایا اورایٹمی جنگ کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا۔ آج جاپان پر ایٹمی حملے کے 70سال بعد گوچی نے دنیا کو اپنے جسم پر زخموں کے ہولناک نشانات دکھائے ہیں۔ گوچی کا کہنا ہے کہ میں دھماکے کی جگہ سے محض ایک میل کے فاصلے پر اپنی بائیسکل پر جا رہا تھا۔ آج بھی وہ خوفناک منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے، میں وہ وقت کبھی نہیں بھول پایا۔ زخمی ہونے کے بعد جب مجھے ریسکیو کیا گیا تو میں اگلے 21ماہ اپنے پیٹ کے بل لیٹا رہا کیونکہ میری پشت پر گوشت کے چیتھڑے اڑ چکے تھے۔ جب مجھے ہسپتال لیجا کر بیڈ پر لٹایا گیا تو میں نے نرسوں کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے سنا ، ایک نرس دوسری سے حیرت سے کہہ رہی تھی کہ ’’لڑکا ابھی تک سانس لے رہا ہے۔‘‘

اپنے زخم دکھانے کے بعد دوبارہ شرٹ پہنتے ہوئے گوچی نے نحیف و نزار آواز میں کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ دنیا سے ایٹم بم کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ دنیا آئندہ کبھی اس طرح کے خطرے سے دوچار نہ ہو سکے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

آئی فون ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...