پاکستان میں زراعت کا شعبہ مسلسل زوال پذیر!

پاکستان میں زراعت کا شعبہ مسلسل زوال پذیر!

  



مراعات کی عدم فراہمی کی وجہ سے پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا کاٹن کی پیداوار کا ملک ہونے کے باوجود برآمدات اور سرمایہ کاری میں بھارت اور بنگلہ دیش سے پیچھے رہ گیاوزارت ٹیکسٹائل کے اعدادوشمار کے مطابق ٹیکسٹائل سیکٹر ملک کی جی ڈی پی کا 8فیصد ہے۔42 فیصد اربن ایمپلائنمنٹ اور ملک کی 57فیصد برآمدات میں اس کاحصہ ہے لیکن اب پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش سے ٹیکسٹائل گروتھ اور برآمدات میں پیچھے رہ گیا ہے۔پاکستان کی گزشتہ 8 سال میں ٹیکسٹائل برآمدات 3.6 فیصد رہیں جبکہ انڈیا کی 11.3فیصد اور بنگلہ دیش کی 16.2 فیصد رہی۔ پاکستان کی ویلیو ایڈیشن اشیا ہر ایک ملین بیلز سے 1.7 ارب ڈالر کی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت کی ایک ملین بیلز 1.79 ارب ڈالر اور بنگلہ دیش کی 6ارب ڈالر مالیت کی ہیں۔اس کی بڑی وجہ یوٹیلٹی بلوں اور کاسٹ آف پروڈکشن میں اضافہ ہے پاکستان میں بجلی ٹیرف 0.15 ڈالر کے ڈبلیو ایچ جبکہ بھارت میں 0.13 ڈالر کے ڈبلیو ایچ اور بنگلہ دیش میں بجلی کا ٹیرف 0.09ڈالر کے ڈبلیو ایچ ہے۔ پاکستان میں صنعتوں کے لئے گیس کا ٹیرف 6.27 ڈالر ایم ایم بی ٹی یوہے جبکہ انڈیا میں 4.66 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو اور بنگلہ دیش میں گیس ٹیرف 1.86 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو ہے۔پاکستان میں کارپوریٹ ٹیکس ریٹ34 فیصد ہے، جبکہ بھارت 25 فیصد اوربنگلہ دیش میں 27.5فیصد ہے پاکستان ریجن میں واحد ملک ہے، جہاں ٹیکس پر سبسڈی نہیں دی جارہی ہے انڈیا میں ٹیکسیشن سبسڈی، برآمدات پر زیرو ریٹنگ اور کیپیٹل سپورٹ دی جاتی ہے جبکہ بنگلہ دیش میں بھی اسی طرح کی مراعات دی جا رہی ہیں پاکستانی کپاس عالمی مارکیٹ میں مستحکم جگہ بنانے میں ناکام ہوگئی، غیرمعیاری ہونے کے باعث فی پونڈ قیمت 13 سنٹس پر آگئی عالمی مارکیٹ میں کپاس16 سینٹس فی پونڈ کے حساب سے فروخت کی جانی تھی، تاہم معیار کے طے کردہ اصولوں پر پورا نہ اترنے کے باعث ایک کروڑ تیس لاکھ گانٹھیں 68 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئیں، پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا کپاس پیدا کرنے والا ملک ہے، اس کے باوجود معیار میں نمایاں کمی دیکھی جارہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کپاس کی مناسب دیکھ بھال سے معیار میں اضافہ ہوگا اور عالمی مارکیٹ میں اضافی قیمت میں فروخت ممکن ہوسکے گی ملک بھر میں کپاس کے بڑے پیداواری علاقے سیلابی بارش کی زد میں آنے سے کاٹن کی چنائی کا عمل معطل ہو کر رہ گیا پنجاب میں رحیم یار خان ، بہاولپور ، وہاڑی ، ملتان پاکپتن جبکہ سندھ میں گھوٹکی ، سکھر ، میر پور خاص اور بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر کپاس کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے رواں مالی سال مقامی طلب کو پورا کرنے کے لئے امپورٹ پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب کپاس کی چنائی روک جانے سے جننگ فیکٹریوں میں پیداواری عمل معطل ہوکر رہ گیا ہے جس کے باعث ٹیکسٹائل سیکٹر کو سپلائی میں بھی خلل آنے کا خدشہ ہے۔

جنرز کے مطابق غیر یقینی صورت حال کے باعث فی من کپاس 100 روپے مہنگی ہوکر سندھ میں 4750 اور پنجاب میں 5 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال 2014-15ء کے دوران گندم کی ملکی برآمدات میں تقریباً40 لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے گزشتہ مالی سال کے دوران صرف 10 ہزار441 ٹن گندم برآمد کی جاسکی ہے جس سے 30 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ کمایا گیا ہے جبکہ اس سے پچھلے مالی سال2013-14ء کے دوران 20 ہزار37 ٹن گندم برآمد کی گئی تھی اور اس سے قومی خزانے کو70 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا تھا۔ دسمبر2014ء کے بعد سے عالمی منڈیوں میں گندم کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے باعث برآمدات متاثر ہوئی ہیں اور قیمت 269 ڈالر فی ٹن تک کم ہوگئی ہے۔ برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ پاکستانی گندم اپنے معیار کے حوالہ سے بہترین ہے اور اگر کوشش کی جائے تو بعض ممالک پاکستانی گندم کو اچھے نرخوں پر درآمد کرسکتے ہیں جس سے قیمتی زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان نے اوسطاً287 ڈالر فی ٹن کی قیمت پر گندم برآمد کی ہے جبکہ اس سے گذشتہ مالی سال کے دوران پاکستان نے 349 ڈالر فی ٹن کی قیمت پر گندم برآمد کی تھی۔سندھ میں ممکن بارشوں سے اربوں روپے کی گندم داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ سندھ بھر میں ممکن بارشوں کے نتیجے میں کھلی جگہ میں رکھی ہوئی 12 لاکھ ٹن گندم کو نقصان پہنچے کا اندشہ ہے جس سے اربوں روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔ حکومت سندھ کے پاس صرف 4 لاکھ ٹن گندم محفوظ مقام پر رکھنے کی گنجائش ہے۔ اگر حکومت 3200 روپے فی سو کلو میں گندم کی فروخت کا ٹینڈر جاری کردے تو گندم خراب ہونے سے بچ سکتی ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں گندم کی قیمت 3250 روپے فی 100 کلو ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر 2 لاکھ ٹن گندم بھی خراب ہو جائے تو حکومت کو تقریبا 6 ارب روپے کا نقصان ہوسکتا ہے جبکہملک کے مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں سے تباہی کے باعث سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئیں مون سون کی بارشوں اور سیلاب کے باعث زرعی زمینوں اور باغات کو نقصان پہنچا، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار متاثر ہونے کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوگیا منافع خوروں نے بھی موقع غنیمت جانا اور دونوں ہاتھوں سے پیسے سمیٹنے کے لیے سبزیوں، پھلوں کی قیمتوں میں مرضی کے اضافے کر دئیے، دکاندار بھی منافع خوروں کے جواز کی تائید کے لئے تیار ہوگئے سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکیں ٹوٹنے سے سپلائی متاثر ہوئی ہے، مہنگائی تو ہو گی سیلاب اور بارش سے سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار اور سپلائی متاثر تو ضرور ہوئی، مگر منافع خوروں کی من مانیاں اپنی انتہا پر ہیں اور اسے روکنا ہوگا جبکہ جون2014ء کے مقابلہ میں جون2015ء کے دوران چاول کی ملکی برآمدات میں تقریباً16 لاکھ ڈالر کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ سال جون2014ء میں چاول کی ملکی برآمدات سے ایک کروڑ49 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ کمایا گیا تھا، جبکہ رواں سال 2015ء میں ماہ جون کے دوران چاول کی ملکی برآمدات کا حجم ایک کروڑ33 لاکھ ڈالر تک کم ہوگیا ہے جون2014ء کے مقابلہ میں جون2015ء کے دوران چاول کی ملکی برآمدات میں1.6 ملین ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ چاول کی برآمدات میں ایکسپورٹرز کی مشکلات کم کرنے کے لئے حکومت نے اس کے معیار کی چانچ پڑتال کی شرط کو ختم کردیا۔ وزارت صنعت و پیداوار کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چاول کی برآمدات سے قبل اس کے معیارکی جانچ پڑتال کی شرط کو ختم کردیا گیا ہے۔ فیصلہ ایکسپورٹرز کو درپیش آنے والے مسائل کم کرنے کے لئے کیا گیا ہے، جبکہ اس کا اطلاق 2 اگست سے ہوگا۔ چاول کی برآمدات سے قبل اس کی جانچ پڑتال پر پاپندی اپریل 2014ء میں لگائی گئی تھی۔ واضح رہے کہ پاکستان سالانہ تقریباً 2 ارب ڈالر کا چاول برآمد کرتا ہے صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا بابرحسین نے کہا ہے کہ محکمہ خزانہ نے زراعت کے لئے بڑا پیکیج تیار کیا ہے،صرف سیڈ کارپوریشن پنجاب کو 3ارب32کروڑ 24لاکھ روپے جاری کئے ہیں۔ کسان کو بیجوں کا صیح استعمال کرنے اور بارشوں کا پانی استعمال میں لانے کے لئے تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے کسان زراعت کے ساتھ لائیوسٹاک پر بھی توجہ دیں ۔گھر کے چارے سے جانوروں کی پرورش کسان بلا قیمت کرتا ہے۔کسان ماہ اگست میں جانوروں کے لئے چارہ کیجوار کی میٹھی اقسام جے ایس2002- ، ہیگاری اورجے ایس- 263، جوار2011 اور بارانی علاقہ جات کے لیے چکوال جوارکاشت کریں ۔گاچا کی کاشت جاری رکھیں۔ اگیتے کاشتہ گاچا کو 1189بوری یوریا، آبپاشی کے ساتھ ڈالیں ۔ اچھی نسل کے جانور کسان کے لئے سیونگ اکاؤ ئنٹ کا درجہ رکھتے ہیں ۔کسان جانوروں کی پرورش کے بارے محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ سے رہنماؤں لیں پانی زراعت کی بنیادی ضرورت ہے ۔آبپاش علاقہ جات ہوں یا بارانی، پانی کے بغیر کاشتکاری کا تصور ہی بعید از قیاس ہے۔ خصوصاًبارانی علاقوں میں فصلوں کی کاشت کا تمام تر دارومدار باران رحمت کے نزول پر ہے ۔ بارانی علاقوں میں فصلات کی کامیاب کاشت اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لئے بارشوں کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانا اور صحیح طریقہ سے استعمال کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان علاقوں میں ہونے والی سالانہ بارشوں کا دوتہائی حصہ موسم گرما میں اور ایک تہائی حصہ موسم سرما میں موصول ہوتا ہے۔ لہٰذاحالیہ بارشوں کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ڈھلوان کی مخالف سمت گہر ا ہل چلائیں، کھیتوں کو ہموار رکھیں، وٹ بندی مضبوط کریں اور کھیت جڑی بوٹیوں سے پاک ہوں۔دیسی کھاد یا سبز کھاد کا استعمال بڑھایا جائے جس سے وتر زیادہ دیر تک محفوظ رہتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2