چار مشورے

چار مشورے
چار مشورے

  



نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں ہر سال 28 مئی کو یوم تکبیر کی تقریب ایک منفرد جوش اور ولولہ کے ساتھ منعقد کی جاتی ہے کیونکہ اس دن ایٹمی طاقت بننے کے بعد پاکستان نے ہمیشہ کے لئے ناقابل تسخیر ہونے کی اہم ترین منزل طے کی تھی۔ 28 مئی 2013ء کو بھی ہر سال کی طرح یوم تکبیر کی تقریب ہوئی جس کے مہمان خصوصی نو منتخب وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف تھے۔ میں بھی ہر سال کی طرح اس تقریب میں موجود تھا اور اتفاق سے اس دن میری نشست سٹیج پر بیٹھے ہوئے میاں نوازشریف کے عین سامنے تھی۔ تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے والے میاں نوازشریف کے چہرے پر مکمل سکون، عزم اور لبوں پر ہلکا سا تبسم تھا جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہی پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے سربراہِ مملکت تھے جب انہوں نے 1998ء میں پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر اسے ناقابلِ تسخیر بنا دیا تھا۔ موجودہ حاضرین میں سے کچھ لوگ میاں نوازشریف کو کوئی چٹ بھیجتے تو وہ اسے پڑھ کر اپنے سیکرٹری کے حوالے کر دیتے جو انہیں باقاعدہ ایک ڈائری میں محفوظ کرتا جا رہا تھا۔ اس موقع پر ایک چھوٹی سی چٹ پر میں نے بھی چار نقاط لکھے اور سٹیج سیکرٹری جناب شاہد رشید کو دی جو انہوں نے میاں نوازشریف تک پہنچا دی۔ ایک ہفتہ بعد تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے والے میاں نوازشریف نے وہ چٹ پڑھی اور پھر اسے اپنے سیکرٹری کو دینے کی بجائے تہہ کر کے اپنی واسکٹ کے سامنے والی جیب میں رکھ لی۔ اس چھوٹی سی چٹ پر میں نے اپنی فہم و فراست کے مطابق نومنتخب وزیر اعظم کو مشورے دینے کی نیت سے چار نقاط پر مشتمل چند سطریں تحریر کی تھیں۔

پہلا مشورہ یہ تھا کہ وہ غیر ضروری محاذ آرائی سے بچیں۔ یہ لکھتے ہوئے میرے لاشعور میں 1990ء کی دہائی کے واقعات تھے جب چور دروازوں سے حکومت میں آنے کی خواہش رکھنے والوں نے ملک میں مسلسل ایک محاذ آرائی کی کیفیت طاری کر رکھی تھی جس کے نتیجہ میں میاں نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کی حکومت دو دو بار معزول اور ملک کو بالآخر چوتھے مارشل لاء کی دلدل میں دھکیل دیا گیا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے بعد دونوں بڑے لیڈروں نے میثاق جمہوریت کیا جس کے ثمرات آج تک محسوس کئے جاتے ہیں۔ میرے خدشات کی دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ مئی 2013ء کے انتخابات کو مختلف سیاست دان متنازعہ بنانے کا عمل شروع کر چکے تھے اور مجھے محسوس ہونا شروع ہو گیا تھا کہ میاں نوازشریف کے اقتدار میں آنے کے بعد بعض عناصر ملک میں سیاسی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کریں گے، بد قسمتی سے ہوا بھی کچھ ایسے ہی اور ملک میں دھرنوں کی سیاست کے ذریعہ سخت سیاسی انتشار پھیلایا گیا۔ اس مشکل سیاسی صورتِ حال کے دور میں جب سیاسی سے زیادہ غیر سیاسی عناصر ملک میں سرگرم تھے، میاں نوازشریف نے محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے ملک میں جمہوریت کے تسلسل کو جاری رکھنے کے اقدامات کئے اور انتہائی صبر و استقامت سے ایک سٹیٹسمین کی طرح تمام صورتِ حال کا مقابلہ کیا اور غیر سیاسی عناصر کے منصوبوں کو خاک میں ملادیا۔ اس سے ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہونا شروع ہو گئیں اور سیاسی انتشار پھیلانے والوں کے پلے شرمندگی اور خفت کے سوا کچھ نہیں آیا۔

میرا دوسرا مشورہ یہ تھا کہ ملک میں موجود بجلی کے شدید بحران کے حل کے لئے کوئی ڈیڈ لائن دینے سے گریز کریں۔ یہ مشورہ دیتے ہوئے میرے لاشعور میں پیپلزپارٹی دور کے وہ دعوے تھے جس میں وہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی تاریخ دیتے اور وہ تاریخ گزر جانے کے بعد شرمندہ ہو کر ایک نئی تاریخ دے دیتے اور اپنی جگ ہنسائی کا سامان خود پیدا کرتے۔ مجھے یقین تھا کہ میاں نوازشریف لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کی خوامخواہ کی تاریخیں نہیں دیں گے بلکہ یہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں گے۔ یہ بات میرے لئے انتہائی قابلِ اطمینان ہے کہ میاں نوازشریف نے قوم کو اعتماد میں لیا اور دعوے کرنے کی بجائے بجلی پیدا کرنے کے نئے میگا پراجیکٹس شروع کر رکھے ہیں میاں نوازشریف کی اس سچ گوئی کو پاکستانی عوام نے تحسین کی نظروں سے دیکھا اور قوم یہ بات سمجھ چکی ہے کہ اگر موجودہ حکومت اپنی مدت کے دوران یہ مسئلہ حل کر دے تو یہ ان کے لئے ایک بہت قیمتی تحفہ ہوگا۔

میرا تیسرا مشورہ یہ تھا کہ چین کے ساتھ تعلقات کو مزید آہنی بنائیں اور چین پاکستان اقتصادی شاہراہ کے قیام کو جلد از جلد ممکن بنائیں۔ میاں نوازشریف نے پاکستان کی 68 سالہ تاریخ میں چین کی طرف سے کی گئی مجموعی سرمایہ کاری سے بھی کئی گنا زیادہ سرمایہ کاری کے معاہدے کر کے پاکستان میں اقتصادی ترقی اور خوش حالی کے دروازے کھول دیئے ہیں، خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی کوریڈور اور گوادر کی بندر گاہ پاکستان کو تیسری دنیا کے غریب ملکوں کی فہرست سے نکال کر تیزی سے اُبھرتی ہوئی معیشتوں کی فہرست میں لے آئیں گے۔ چین پاکستان میں 46 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جس سے ملک میں معاشی انقلاب برپا ہوگا اور پاکستان پہلی دفعہ ایشین ٹائیگر بننے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔ آج ملک میں زر مبادلہ کے ریکارڈ ذخائر ہیں، پاکستان کی سٹاک ایکسچینجوں میں ریکارڈ سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور عالمی ریٹنگ ایجنسیاں آئے دن پاکستان کی اقتصادی ریٹنگ بہتر سے بہتر کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم میاں نوازشریف نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کے عظیم اقتصادی قائد بھی ہیں۔

میرا چوتھا مشورہ یہ تھا کہ وہ پاکستان کی شنگھائی تنظیم اور برکس (Brics) میں شمولیت کے ویژن کو لے کر چلیں۔ یہ مشورہ دیتے ہوئے میرے ذہن میں تیزی سے رونما ہونے والی وہ تبدیلیاں تھیں جن میں امریکہ اور نیٹو اس خطہ سے رول بیک اور چین اور روس کنٹرول سنبھالتے ہوئے نظر آتے تھے جس کے نتیجہ میں دنیا ایک بار پھر یک قطبی کی بجائے دو قطبی اور پاکستان کی حیثیت خطہ اور پوری دنیا میں بہت اہم ہونے جا رہی تھی۔ شنگھائی تنظیم اور برکس (Brics) آنے والے وقت کی بڑی عالمی حقیقتیں ہیں اور وزیر اعظم نوازشریف کی قیادت میں پاکستان شنگھائی تنظیم کا مستقل رکن بن چکا ہے جبکہ برکس (Brics) کی طرف اس کی مراجعت میں تیزی آ چکی ہے۔

آج جب یومِ تکبیر کی اس تقریب اور میاں نوازشریف کو وزیر اعظم بنے ہوئے سوا دو سال کا عرصہ ہو چکا ہے، مجھے یہ سوچ کر بہت طمانیت ہوتی ہے کہ ان کی حکومت ان ہی خطوط پر عمل کر رہی ہے جو میں نے اس چٹ پر لکھے تھے۔ میں یہ دعویٰ ہرگز نہیں کرتا کہ وزیر اعظم میاں نوازشریف نے میرے مشوروں کو اہمیت دی لیکن یہ سوچ کر راحت ضرور محسوس کرتا ہوں کہ وزیر اعظم پاکستان کو میرے جیسے ایک عام پاکستانی کی خواہشات کا نہ صرف مکمل ادراک ہے بلکہ ان کا دل بیس کروڑ پاکستانیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ میاں نوازشریف نے ان سوا دو سالوں میں ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک سچے پاکستانی اور حقیقی معنوں میں عوامی وزیر اعظم ہیں۔

مزید : کالم


loading...