ود ہولڈنگ ٹیکس کے مسئلے کے حل کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے

ود ہولڈنگ ٹیکس کے مسئلے کے حل کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے

  



لاہور (اے پی پی)لاہور بزنس مین فرنٹ کے سینئر نائب صدر اور فیڈریشن کے رہنما طاہر ملک نے کہا ہے کہ حکومت ود ہولڈنگ ٹیکس کا مسئلہ فیڈریشن،چیمبر اور تجارتی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں حل کرے ۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کاروباری برادری ٹیکس دینا چاہتی ہے اور اس ضمن میں حکومت تاجر نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر ٹھوس بنیادوں پر 0.3فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس پر بامقصد مذاکرات کرے ۔انہوں نے کہا کہ بینکوں کے پاس انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے یا نہ کرانے والوں کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں وہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کا بھی ٹیکس کاٹ رہے ہیں ۔ پچاس ہزار سے زائد رقم جمع کرانے اور نکلوانے دونوں پر 0.3فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جس سے تاجر مشکلات کا شکار ہیں ۔اس ٹیکس کے نفاذ سے ہنڈی اور حوالہ کے کاروبار کو فروغ ملے گا لہٰذا ہماری وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے درخواست ہے کہ وہ اس ٹیکس کو واپس لیں اور کاروباری برادری کی متبادل تجاویز پر عمل درآمد کریں کیونکہ ایف بی آر نے قومی شناختی کارڈ کو این ٹی این کا درجہ دے دیا ہے اس کے ذریعے نئے ٹیکس دہندگان ٹیکس نیٹ میں شامل ہو جائیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہڑتالوں سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے اور روزانہ اجرت والے افراد بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ طاہر ملک نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اگر حکومت ٹیکس اکٹھا کرنے والے افسران کو ان کی کارکردگی اور ٹیکس ٹارگٹ پورا کرنے کے حوالے سے مراعات دے تو نہ صرف ٹیکس چوری ختم ہو جائے گا بلکہ ریونیو اہداف بھی پورے ہو جائیں گے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ فیڈریشن،چیمبرز اور تجارتی تنظیموں نے حکومت کو ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانے کیلئے کئی تجاویز دے رکھی ہیں ۔حکومت ان ڈائریکٹ ٹیکسز کم کرے اور ڈائریکٹ ٹیکسز میں اضافہ کرے ۔چھوٹے تاجروں پر فکسڈ ٹرن اوور ٹیکس ان کی آمدنی کے مطابق لگایا جائے جس کے باعث نہ صرف ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہو گا بلکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بھی بڑھے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ لاہور چیمبر کے آئندہ ہونے والے ستمبر کے انتخابات کے لئے لاہور بزنس مین فرنٹ نے مکمل تیار کر لی ہے اور انہیں لاہور کی تمام بڑی مارکیٹوں کی حمایت حاصل ہے ۔انہیں امید ہے کہ ان کا گروپ آئندہ انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گا ۔

مزید : کامرس


loading...