نعلین پاک کی چوری کی ازسر نو تحقیقات کرائیں،ورلڈ پاسبان ،جمعیت مشائخ

نعلین پاک کی چوری کی ازسر نو تحقیقات کرائیں،ورلڈ پاسبان ،جمعیت مشائخ

  



لاہور(جنرل رپورٹر) کل مسالک علماء ’’ورلڈ پاسبان ختم نبوت‘‘ ،جمعیت مشائخ پاکستان اور مختلف دینی ومذہبی جماعتوں کے راہنماؤں علامہ ممتاز اعوان ،پیر سلمان منیر ،پیر ولی اللہ شاہ بخاری ،مولانا محمد نعیم بادشاہ ،پیر ایس اے جعفری ،مولانا رجیع اللہ خان ،مفتی عاشق حسین ،محمد شفیق قادری ،مولانا یوسف احرار،حافظ شعیب الرحمن قاسمی ،علامہ سید وقار الحسنین نقوی ،قاری محمد حنیف حقانی ، ضیاء الرحمن فاروقی ،ڈاکٹر سید نورالمصطفیٰ قادری ،علی عمران شاہین ،حافظ حسین احمد اعوان ،محمد یونس مغل ،سید خاور عباس ،پیر شان علی قادری ،سید اظہر شاہ اور دیگر نامور علماء کرام نے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محکمہ اوقاف کی زیر تحویل بادشاہی مسجد کی تبرکات گیلری سے چورائے گئے نعلین پاک کی چوری کی ازسر نو تحقیقات کرائیں اور اس کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کریں اور محکمہ اوقاف کی بڑی مچھلیوں کے ساتھ چوری کے موقع پر برونائی جانے والے اوقاف کے وفد کو بھی شامل تفتیش کریں جو نعلین مبارک کی چوری میں ملوث ہیں۔جس کے نتیجے میں نعلین مبارک کی بازیابی ہو سکتی ہے اور اس کے چور مل سکتے ہیں۔ وہ گذشتہ روز لاہور پریس کلب میں ایک مشترکہ پریس کا نفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔اس مو قع پر انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ نعلین مبارک کی بازیابی اور چوروں کی گرفتاری کا علما ء ومشائخ سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کریں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر نعلین مبارک بازیا ب اور چوروں کو گرفتار نہ کیا گیا تو وہ پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے اور احتجاجی دھرنا دیں گے۔ انہوں نے پولیس افسر ایس پی سی آئی اے عمر ورک کو للکار تے ہوئے کہا کہ وہ معمولی جرم پر چور اور ڈاکوؤں کو تو پکڑنے میں دیر نہیں لگاتے لیکن نعلین مبارک کے چوروں کو پکڑنے میں کیوں لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں۔وہ نعلین پاک کے چوروں کو پکڑ کر انہیں کڑی سے کڑی سزا دیں۔ان مذہبی راہنماؤں نے اس عمل پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ نعلین پاک چوری کے مرتکب مبینہ ملزم محکمہ اوقاف کے جس افسر کو عہدہ سے برطرف کیا گیا تھا اسے تحقیقات مکمل کیے بغیر ہی دوبارہ محکمہ اوقاف کا ڈی جی تعینات کر دیا گیا۔جو سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نعلین پاک کی چوری میں ملوث محکمہ اوقاف کا افسر اورمبینہ ملزم طاہر رضا بخاری محکمہ میں کچھ خاص کام کرنے کیلئے ڈیپوٹیشن پر آیا تھا ،لیکن انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کے بعد دوبارہ اسی محکمہ میں ایک پرکشش عہدے پر تعینات کردیا گیا۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کے بڑے ہاتھ ہیں اور اسے اہم سیاسی وبااثر شخصیات کی ملی بھگت اور آشیر باد حاصل ہے۔ نعلین پاک چوری کے ذمہ دار محکمہ اوقاف نے آج تک نعلین مبارک کی بازیابی کیلئے ایک بھی میٹنگ نہیں بلائی ،جبکہ کسی گملے کے ٹوٹنے اور اس طرح کے چھوٹے چھوٹے واقعات پر اجلاس طلب کیے جاتے ہیں،جو مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے،واضح رہے کہ وطن عزیز پاکستان حضور اکرم ﷺ کے کلمہ حق کے نام پر اور آقا کے نعلین مبارک کے صدقے میں قائم ہو اتھا۔اگر حکمران آقا کے نعلین مبارک کی حفاظت نہیں کر سکتے تو پھر وہ ملک بھر کی عوام الناس کی حفاظت کیا خاک کریں گے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور طاہر القادری نے معمولی چیزوں ،دنیاوی فوائد ،ذاتی مفاد اور اقتدار کی ہوس کی خاطر لانگ مارچ کیے اور طویل دھرنے دیے لیکن کیا کبھی انہوں نے حضور کے نعلین پاک کی بازیابی اور چوری کے مرتکب ملزمان کے خلاف بھی کبھی کوئی صدائے احتجاج بلند کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم پیر ایس اے جعفری کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو نعلین پاک کی بازیابی کیلئے عرصہ 13سال سے سیاہ لباس پہنے،ننگے پاؤں چل کرپوری قوم کی طرف سے انوکھی صدائے احتجاج بلند کیے ہوئے ہیں۔ہم ان کے احتجاج کی بھرپور تائد و حمایت کرتے ہیں۔آخر میں انہوں نے ہاتھو ں میں ہاتھ ڈال کر اتحاد اور یک جہتی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ نعلین مبارک کی بازیابی اور چوروں کی گرفتاری تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے اور چوری کے مرتکب ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...