واسا تھارٹی نے 12افسروں کو معطل کرنیکا فیصلہ ڈیڑھ ماہ کیلئے موخر کر دیا

واسا تھارٹی نے 12افسروں کو معطل کرنیکا فیصلہ ڈیڑھ ماہ کیلئے موخر کر دیا

  



لاہور(جنرل رپورٹر) واسا اتھارٹی نے فرضی ترقیاتی سکیموں کے نام پر قومی خزانے سے ڈیڑھ کروڑ روپے ہڑپ کرنے والے 12افسروں کو معطل کرنے کا فیصلہ ڈیڈھ ماہ کیلئے مؤخر کر دیا ہے۔کاروائی کیمطابق 2روز میں انہیں معطل کیا جانا تھا مگر مون سون آپریشن کے باعث ان کی معطلی ڈیڑھ ماہ کیلئے موخر کر دی گئی۔ان افسروں کو ایم ڈی واسا نصیر چوہدری نے دوروز قبل تحقیقات میں گھپلے ثابت ہونے پر پہلی مرتبہ لوٹے گئے ڈیڑھ کروڑ روپے کی ریکوری ڈالی اوران کی سالانہ کئی کئی سالوں کی ترقیاں ضبط کرلیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ واسا اتھارٹی نے سیکنڈل ثابت ہونے پر 12افسروں کو معطل کرکے عہدوں سے فارغ کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔مگر عین موقع پر واسا کے بیشتر افسروں نے انہیں مشورہ دیا کہ مون سون آپریشن جاری ہے،ان کو معطل کرکے عہدوں سے ہٹایا گیا تو مون سون آپریشن متاثر ہوسکتا ہے۔بہتر ہے انہیں اس آپریشن کے مکمل ہونے تک معطلی التوا میں رکھی جائے۔جس پر فیصلہ کیا گیا کہ سیکنڈل میں سزا پانے والے 12افسروں کو 30ستمبر کے بعد معطل کرکے عہدوں سے ہٹایا جائے گا۔جنہیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،ان میں طارق محمود،مجیب رضا وارثی،سہیل احمد سندھو،فیصل خرم،شوکت علی،اقبال بھٹہ،علی حیدر نقوی،غلام حسین،محمد شعیب،مظہر اقبال ،حسن عباس،صدام اعظم ،وجاہت علی ،شیراز اشفاق شامل ہیں۔اس حوالے سے ایم ڈی نصیر چوہدری کا کہنا ہے کہ کوئی قانون سے بالا تر نہیں ہے ،قانون کے مطابق پہلے بھی کاروائی ہوئی اب بھی ہوگی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...