پاکستان اپنے اصولی موقف پر چٹان کی طرح ڈٹا رہے

پاکستان اپنے اصولی موقف پر چٹان کی طرح ڈٹا رہے

  



وزیراعظم کے قومی سلامتی اور امورِ خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات23 اگست کو متوقع ہے، ملاقات میں پاکستان میں ’’را‘‘ کی مداخلت کا معاملہ اُٹھانے کے ساتھ ثبوت پیش کریں گے۔ دولتِ مشترکہ کانفرنس شیڈول کے مطابق اسلام آباد میں ہو گی، شرکت کے لئے70فیصد شرکا نے یقین دِلا دیا ہے، اس میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے سپیکر کو مدعو نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ پاکستان کے اصولی موقف کے منافی ہے، بھارت کے ساتھ تنازعات اور غلط فہمیوں کو میڈیا کی وساطت سے حل نہیں کرنا چاہتے، پاکستان کی جانب سے ملاقات کے لئے تاریخوں کا حتمی تعین اور ایجنڈے کی تکمیل سے بھارت کو آگاہ کیاجائے گا، بھارت میں دہشت گردی کے ہر واقعہ میں پاکستان کو ملوث کر دیا جاتا ہے۔ برطانوی ماہر اقتصادیات لارڈ ڈیسائی کی کتاب کی تقرب رونمائی کے موقعہ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ متنازعہ ہے اور اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے، اِس لئے پاکستان مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے سپیکر کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت کیسے دے سکتا ہے؟

دونوں ممالک کے مذاکرات کے لئے جس تاریخ کا ذکر سامنے آ رہا ہے، اس تاریخ کو مذاکرات شروع بھی ہوتے ہیں یا نہیں،یہ کہنا قبل از وقت ہے لیکن اس سے پہلے بھارت نے دولتِ مشترکہ کی پارلیمانی کانفرنس کو متنازعہ بنانے کی کوششیں بامِ عروج تک پہنچا دی ہیں۔ بھارت کی کوشش ،کہ اس کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے سپیکر کو دعوت دی جائے اور اگر ایسا نہ ہو تو کانفرنس کا مقام ہی تبدیل کر دیا جائے، بھارت کی اسی بدنیتی کا مظہر ہے۔ مقبوضہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے، کشمیر میں جو انتخابات ہوتے ہیں کشمیریوں کی صفِ اول کی قیادت جس میں آل پارٹیز حریت کانفرنس بھی شامل ہے۔ ان کا بائیکاٹ کرتی ہے، اس کے باوجود بھارت یہاں انتخابات کراتا ہے، تو ٹرن آؤٹ سے واضح ہو جاتا ہے کہ کتنے فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے، مقبوضہ کشمیر میں کہنے کو تو اسمبلی موجود ہے، کابینہ اور وزیراعلیٰ بھی ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ کیسے وجود میں آئی، نریندر مودی نے اس مرتبہ کوشش کی کہ مسلم اکثریت کی اس ریاست میں باہر سے لا کر بسائے گئے ہندو ووٹروں کی مدد سے الیکشن جیت کر بی جے پی کی حکومت بنائی جائے، لیکن تمام تر پری پول رگنگ کے باوجود بی جے پی کو اکثریت نہ مل سکی۔ ان انتخابات میں قطعی اکثریت تو اول نمبر پر آنے والی جماعت پیپلزڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو بھی نہ مل سکی، تاہم جب بی جے پی کے لئے حکومت بنانا ممکن نہ رہا تو مودی کی مرکزی حکومت نے یہاں گورنر راج نافذ کر دیا، لیکن اسے بہرحال ختم ہونا تھا، اس لئے مودی نے پی ڈی پی کے ساتھ مل کر بی جے پی کی مخلوط حکومت قبول کی اور مفتی محمد سعید کی وزارتِ علیا کی کڑوی گولی بھی نگل لی۔

مقبوضہ کشمیر کے انتخابات کا جو جماعتیں بائیکاٹ کرتی ہیں وہ ان انتخابات کو رائے شماری کا نعم البدل نہیں سمجھتیں، اُن کا مطالبہ یہ ہے کہ وادی میں استصواب رائے کرایا جائے، تاکہ کشمیرکے عوام کی رائے سامنے آ سکے، بھارت اس مطالبے کو تسلیم نہیں کرتا، لیکن کشمیری عوام کی رائے بہرحال ہر موقع پر سامنے آتی رہتی ہے، بھارت کے یوم آزادی اور جمہوریہ پر کشمیر میں سیاہ پرچم لہراتے ہیں، جبکہ پاکستان کے یوم آزادی کو یہاں دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، اور ہر طرف پاکستان کے سبز ہلالی پرچموں کی بہارآجاتی ہے۔یہ کشمیریوں کے دِل کی آواز اور ایک طرح سے ریفرنڈم کا اظہار ہوتا ہے اس سے بھارت کو بھی اندازہ ہے کہ وہ کشمیریوں کی رائے کو زیادہ عرصے تک دبا کر نہیں رکھ سکتا، کشمیریوں کو جب بھی موقع ملے گا وہ اپنی رائے ظاہر کر دیں گے۔اِسی خوف کے باعث وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو بھی پس منظر میں رکھتا ہے۔ اب جب مذاکرات کے لئے ایک تاریخ سامنے آ رہی تھی، اس نے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے سپیکر کو پارلیمانی کانفرنس میں شرکت کی دعوت کو مسئلہ بنا لیا ہے۔ اصل میں مسئلہ دعوت نہیں مذاکرات ہیں، جنہیں حیلوں بہانوں سے پسِ پشت ڈالا جاتا ہے، پچھلے سال اگست میں جب اسلام آباد میں مذاکرات کی تاریخ قریب آئی، تو بھارت نے حریت رہنماؤں کے ساتھ دہلی میں مقیم پاکستانی ہائی کمشنر کی ملاقات کو بہانہ بنا کر اسلام آباد میں مذاکرات کا دور ملتوی کر دیا۔ اب لگتا ہے کہ پارلیمانی کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر کے سپیکر کو شرکت کی دعوت نہ ملنے کی بنیاد پر نہ صرف پارلیمانی کانفرنس ملتوی کرانا چاہتا ہے، بلکہ اس کے پردے میں شاید مذاکرات کی بساط بھی لپیٹ دے جو ابھی صحیح معنوں میں بچھ نہیں پائی۔ سرتاج عزیز نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے۔ اس کے سپیکر کو نہیں بُلایا جا سکتا، یہی موقف برحق اور مبنی بر انصاف ہے۔ اگر کانفرنس کسی وجہ سے ملتوی بھی ہوتی ہے یا بھارتی دباؤ پر کسی دوسرے مُلک میں بھی چلی جاتی ہے، تو بھی پاکستان کے موقف کا تقاضا ہے کہ وہ اس پر چٹان کی طرح ڈٹا رہے، اور اس سے سر مو انحراف نہ کرے، کانفرنس نہیں ہوتی تو نہ ہو،اس کے التوا سے کوئی آسمان نہیں ٹوٹنے والا ، موقف سے انحراف کرنا غلط ہو گا۔

مذاکرات سے پہلے بھارت جو پینترے مسلسل بدل رہا ہے اُن سے بھی لگتا ہے کہ وہ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں اور یہ محض وقت گزاری کا بہانہ ہے۔ ویسے بھی بے اعتمادی کے اس ماحول میں اگر مذاکرات شروع بھی ہو جائیں، تو یہ نشستن اور گفتن سے آگے نہیں بڑھیں گے، اور نتیجہ خیز نہیں ہوں گے۔ایسے میں سرتاج عزیز کا دورۂ بھارت بھی بیکار ثابت ہو گا۔اگرمذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہوتے تو اس سفر کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔بہتر ہو گا کہ پاکستان پہلے سفارتی ذرائع سے بھارت کی سنجیدگی کا اندازہ لگا لے۔ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ، پاکستان کی فضا میں ڈرون طیارے بھیجنا اور گورداس پور و اودھم پور میں دہشت گردی کا الزام بغیر تحقیق کے پاکستان پر لگا دینا ایسے اقدامات ہیں، جن سے لگتا ہے کہ وہ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں۔

تاہم اگر مذاکرات منعقد ہو جاتے ہیں، تو سرتاج عزیز کے اعلان کے مطابق ان میں ’’را‘‘ کی مداخلت کے ثبوت پیش کئے جائیں گے۔ یہ بہت ہی مستحسن اور بروقت فیصلہ ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی مختلف وارداتوں خصوصاً بلوچستان کی تخریب کاری میں ’’را‘‘ کی مداخلت کے ثبوت سامنے آتے رہے ہیں، اس لئے اب وقت ہے کہ یہ سب بھارتی قیادت کے سامنے رکھ دیئے جائیں، اور بھارت پر واضح کر دیا جائے کہ یہ سلسلہ زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان نے اندرونِ مُلک دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اب وقت ہے کہ بھارت کو بھی اس سے باز رکھنے کے لئے انتباہ کر دیا جائے اور عالمی طاقتوں کو بھی بتا دیا جائے کہ بھارت مذاکرات میں مخلص نہیں، صرف دُنیا کو دھوکہ دینے کے لئے مذاکرات کی مالا جپتا رہتا ہے۔

مزید : اداریہ


loading...