چھوٹے ڈیم ترجیحی بنیادوں پرتعمیر کریں

چھوٹے ڈیم ترجیحی بنیادوں پرتعمیر کریں

  



وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب روکنے کے لئے جگہ جگہ ڈیم تعمیرکرنا ہوں گے،سیلاب کے بعد نہیں پہلے بھاگ دوڑ کی ضرورت ہے۔میانوالی میں ندی نالوں پر بند باندھنے کے لئے 1.3ارب روپے دیں گے۔ ملک آگے بڑھ رہا ہے،یہی ترقی اور تبدیلی ہے ۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار میانوالی میں متاثرین سیلاب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیلاب کے دنوں میں اور عام ایام میں مل ملا کر کھربوں روپے کا پانی ہم سمندرمیں ڈال چکے ہیں۔ اگر تربیلا کے بعد مناسب مدت کے اندر پاکستان میں بڑا ڈیم بنایا گیا ہوتا تو دریائے سندھ کے اس پانی سے فصلیں لہلہا رہی ہوتیں اور بے آباد علاقے جہاں دھول اڑتی ہے ، سرسبز و شاداب ہوگئے ہوتے لیکن ہم نے اپنی بے اعتدالیوں اور لایعنی حیلہ جوئیوں کی وجہ سے تربیلا ڈیم کے بعد اب تک کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا۔ کالا باغ ڈیم کو تو متنازع بنا دیا گیا،بھاشا ڈیم پر کام شروع ہونے میں نہ جانے ابھی کتنا اور وقت لگے گا۔یہی دو ڈیم ایسے ہیں جو بن جائیں تو سیلابی ریلوں میں کمی آسکتی ہے اور سمندر میں جا کر گرنے والا پانی ضائع ہونے کی بجائے کسی کام آسکتاہے۔

جہاں تک دریائے چناب کا تعلق ہے اس پر توکوئی بڑاڈیم بن نہیں سکتا البتہ ’’رن آف دی ریور‘‘ ہائیڈل پراجیکٹ بنائے جا سکتے ہیں،یا پھر سیلابی نالوں اورکوہ سلیمان کی رودکوہیوں کاپانی بند باندھ کر روکاجا سکتاہے، برساتی نالے جو صرف بارشوں کے موسم میں رواں ہوتے ہیں ان پر بھی چھوٹے چھوٹے بند باندھے جا سکتے ہیں،صوبہ خیبرپختونخوامیں ساڑھے تین سو چھوٹے بند باندھنے کی بات ہوئی تھی ۔معلوم نہیں یہ محض زیب داستان ہے یا واقعی ساڑھے تین سو ایسے مقامات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے یا کی جاچکی ہے جہاں پر بند باندھے جا سکتے ہیں، اگر ایسا ہے تو وفاقی حکومت کوکے پی کے کی حکومت کی مدد کے لئے آنا چاہیے اور دونوں حکومتوں کے ماہرین کو بیٹھ کر ایسے مقامات کی زمین پرنشاندہی کرنی چاہیے جہاں چھوٹے ڈیم بن سکیں،دونوں حکومتوں کے سیاسی اختلافات اپنی جگہ ،لیکن ملک و قوم کے مفاد میں یہ اختلافات وقتی طورپر پس پشت بھی ڈالے جا سکتے ہیں۔

مزید : اداریہ


loading...